Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

تعالیٰ تمہیں مالداری عطاکرکے آزمائے تواپنی مالداری میں مِیانہ رَوِی اِختیارکرنا، اوراللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کی رضا کے لئے اپنے آپ کوجھکا لو، اوراپنے مال میں اللّٰہتعالیٰ کے حُقُوق کواداکرو، اورمالداری کے وَقت وہ بات کہو جو حضرت سلیمان عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے کہی تھی، یعنی

هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ ﱎ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُؕ-(پ۱۹، النمل :۴۰)

ترجمۂ کنزالایمان: یہ میرے رب کے فضل سے ہے تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری ۔

            اورتم فخروخودپسندی سے اِجتِناب کرنااوراسی طرح اپنے رب کے دئیے ہوئے مال کے بارے میں یہ گمان نہ کرو کہ یہ تمہاری کسی شرافت کی بناپرتمہیں ملاہے  یاکسی ایسی فضیلت کی بنیادپرملاہے جواُن لوگوں میں نہیں ہے جنہیں اللّٰہتعالیٰ نے یہ مال نہیں دیاہے ، پھر اگرتم نے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے شکرمیں کوتاہی کی تو فَقروفاقہ کامزہ چکھوگے اوران لوگوں میں سے ہوگے جنہوں نے مالداری کی بنیادپرسَرکشی کی اوران کواعمال کابدلہ دنیامیں دے دیاگیا، بیشک میں تمہیں یہ نصیحت کررہاہوں حالانکہ میں اپنے نَفس پربہت  ظُلم کرنے والاہوں ، بہت سے اُمورمیں غلطی کرنے والا ہوں اور اگرآدمی اپنے اُمورکے ٹھیک ہونے تک اوراللّٰہ تعالیٰ کی عبادت میں کامل ہونے تک اپنے بھائی کونصیحت نہ کرتاتولوگ امربالمعروف اورنہی عن المنکر کوچھوڑدیتے اورحرام کاموں کوحلال سمجھنے لگتے ، اورنصیحت کرنے والے اورزمین میں اللّٰہ کے لئے خیرخواہی کرنے والے کم ہوجاتے ، پس اللّٰہتعالیٰ ہی کے لئے تمام تعریفیں ہیں جو زمینوں اورآسمانوں کا پروردگارہے ، اوراسی کے لئے زمین وآسمان میں کِبریائی ثابت ہے اوروہی غالب اورحکمت والاہے ۔ (حلیۃ الاولیاء ج ۵ ص۳۱۰)

مسلمان کے بارے میں حُسنِ ظن رکھو

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے اپنی اولاد کی ظاہِری تربیت کے ساتھ ساتھ باطِنی تربیت میں بھی بھرپور کوشِش فرمائی ، چنانچہ ایک مرتبہ اپنے شہزادے کو نصیحت کی:اِذَا سَمِعْتَ کَلِمَۃً مِنْ اِمْرِءٍ مُسْلِمٍ فَلَاتَحْمِلْھَا عَلٰی شَیْ ئٍ مِنَ الشَّرِ مَاوَجَدْتَّ لَھَا مَحْمَلًا عَلَی الْخَیْرِ  یعنی جب تم اپنے مسلمان بھائی کی زبان سے کوئی بات سنو تو اس وَقت تک بُرائی پر مَحْمُول نہ کرو جب تک اس میں بھلائی کا ادنیٰ سے ادنیٰ اِحتمال باقی رہے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۳۱۲)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگر ہم اس مَدَنی پھول پر مضبوطی سے عمل پیرا  ہوجائیں تو ہمیں ایسا رُوحانی سکون محسوس ہوگا جس کی لَذَّت بیان سے باہَر ہے ، یاد رکھئے کہ مسلمان سے حُسنِ ظن رکھنے میں فائدہ ہی فائدہ ہے اور یہ عبادت بھی ہے چنانچِہ

حُسنِ ظن عُمدہ عبادت ہے

            اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا فرمانِ عالیشان ہے :’’حُسْنُ الظَّنِّ مِنْ حُسْنِ الْعِبَادَۃِیعنیحُسن ظن عمدہ عبادت ہے ۔ ‘‘(سنن ابی داؤد ، کتاب الادب ، ج۴، ص۳۸۷، الحدیث۴۹۹۳)

مسلمان کا حال حتی الامکان اچھائی پر حَمل کرنا واجب ہے

             اِمامِ اہلِسنّت مجددِ دین وملت مولاناشاہ احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فتاویٰ رضویہ شریف میں لکھتے ہیں :’’مسلمان کا حال حَتَّی الْاِمْکَان صَلَاح (یعنی اچھائی) پر حمل کرنا (یعنی گُمان کرنا) واجِب ہے ۔ ‘‘(فتاویٰ رضویہ ، ج۱۹، ص۶۹۱)

مسلمان کی بات کا بُرا مطلب لینا بھی بدگمانی ہے

          صدرُ الْاَفَاضِل حضرت مولانا سیدمحمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الہادیتفسیر خزائن العرفان میں لکھتے ہیں :’’مومِنِ صالِح کے ساتھ برا گُمان ممنوع ہے اس طرح (کہ ) اُس کا کوئی کلام سن کر فَاسِد معنیٰ مراد لینا باوُجُودیکہ اس کے دوسرے صحیح معنی موجود ہوں اور مسلمان کا حال ان کے مُوَافِق ہو یہ بھی گُمانِ بد میں  دَاخِل ہے  [1]؎   ۔ ‘‘(خزائن العرفان، پ۲۶، الحجرٰت: ۱۲)

مجھے غیبت و چغلی و بدگمانی

                   کی آفات سے تُو بچا یاالٰہی(وسائل بخشش ص۸۰)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                                   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

غفلت سے بچ کر رہنا

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے اپنے بیٹے کے نام ایک خط میں نصیحت فرمائی:اِحْذَرِالصُرَعَۃَ عَلَی الْغَفْلَۃِ وَ لاتَغْتَرَنَّ بِطُوْلِ الْعَافِیَۃِ   یعنی غفلت سے بچ کر رہنا اور لمبے عرصے کے لئے ملنے والی عافیت سے ہرگز غلط فہمی میں مُبتَلا نہ ہونا ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۴۲)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس مَدَنی پھول کی خوشبو کو عمر بھر کے لئے اپنے دل میں بَسا لیجئے ، یقینا آفات وبَلِیَّات سے عافیت اللّٰہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے مگر اُس کی وجہ سے گناہوں پر دلیر ہوجانا سَرَا  سَر غفلت ہے کیونکہ رب عَزَّوَجَلَّ  کی گِرِفت بہت شدید ہے جیسا کہ پارہ30سورۂ بروج کی آیت12میں اِرشاد ہوتا ہے :

اِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِیْدٌؕ(۱۲)

ترجمۂ کنزالایمان :بے شک تیرے رب کی گرفت بہت سخت ہے ۔

 

 



[1]    بدگمانی کے بارے میں تفصیلات جاننے کے لئے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ57 صفحات پر مشتمل رسالے ’’بدگمانی ‘‘کا ضرور مطالعہ کیجئے ۔



Total Pages: 139

Go To