Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

(حیات اعلی حضرت، ج۳ ، ص۱۲۴ )

            سلیمان بن عبدُالملک کے زمانہ خِلافت تک تاریخِ اسلام پر پوری ایک صدی گزر چکی تھی، اس طویل عرصے میں اسلام کا نظامِ حکومت ، نظام سیاستِ، نظامِ اَخلاق اور نظامِ معاشرت تجدید چاہتا تھا جس کے لئے ایک مُجَدِّد کی ضَرورت تھی، چنانچہ امام احمد بن حنبل رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں : ہم نے پہلی صدی میں غوروفِکر کیا تو وہ مُجَدِّدعمربن عبدالعزیز (رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ) ہیں اور دوسری صدی میں غور وفِکر کیا تو وہ امام شافعی (رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ) ہیں ۔ (سیرت ابن جوزی ص۷۴) یوں تو اِحیائے سنّت و بَقائے اسلام کے لیے اِنقِلابی جِدوجَہد کرنے والی شخصیات ہر صدی میں اپنا فَیضان عام کرتی ہیں لیکن حضرتِ عمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القدیرکویہ اِمتیاز حاصِل تھا کہ خلیفہ ہونے کی حیثیت سے اسلام کے کل نظام یعنی مذہب، اَخلاق، سیاست اور تمدُّن پر پورا اِقتدار حاصِل تھا، اس لیے انہوں نے ہر چیز کی تجدید واِصلاح کی ۔

تدوینِ احادیث کا اِہتِمام

            قرآنِ مجید کے بعدشَرعی اَحکام کا ماخَذوہ مُقَدَّس کلمات ہیں جوتاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زبانِ مُبارَک سے نکلے ۔  حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کا سب سے بڑا تعلیمی کارنامہ اَحادیثِ نبوی کی حفاظت و اِشاعت ہے ۔ اگرآپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے اس طرف توجُّہ نہ کی ہوتی تو شاید کُتُبِ حدیث کا یہ ذخیرہ وجود میں نہ آتاجو آج بخاری شریف، مسلم شریف ، مؤطاامام مالک وغیرہ کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے ۔ جب آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے دیکھا کہ وَقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عِلمِ حدیث جاننے والے علمائِ کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السّلام بھی کم ہوتے جارہے ہیں جس کی وجہ سے عُلُومِ شرعیہ کے مٹ جانے کا بھی اندیشہ ہے تو انہوں نے قاضی ابوبکر بن حزم کو جو اُن کی طرف سے مدینہ کے گورنر تھے لکھا : اُنْظُرْ مَا کَانَ مِنْ حَدِیثِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاکْتُبْہُ فَاِنِّی خِفْتُ دُرُوسَ الْعِلْمِ وَذَہَابَ الْعُلَمَاء وَلَا تَقْبَلْ اِلَّا حَدِیثَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمیعنی احادیثِ نبویہ کی تلاش کرکے ان کو لکھ لو کیونکہ مجھے عِلم کے مٹنے اور علماء کے فَنَا ہونے کا خوف معلوم ہوتا ہے اور  صِرف رسول اللّٰہ  صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم کی حدیث قبول کی جائے ۔ ‘‘(فتح الباری، باب کیف یقبض العلم، ج ۲ ، ص ۱۷۶)

تمام گورنروں کو احادیث جمع کرنے کا کام سونپا

             یہ  حُکم  صِرف مدینۂ منوَّرہزادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً اور اس کے گورنر کے ساتھ مخصوص نہ تھا بلکہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزنے تمام صوبوں کے گورنروں کے پاس اسی قسم کا فرمان بھیجا تھا ۔ بہرحال اس  حُکمکی تعمیل کی گئی اور جمع شدہ احادیث کے متعلق مجموعے تیار کراکے تمام ماتحت ممالک میں تقسیم کئے گئے ۔  حضرت سعد بن ابراہیم رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہفرماتے ہیں :اَمَرَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِالْعَزِیْزِ بِجَمْعِ السُّنَنِ فَکَتَبْنَاھَادَفْتَراً دَفْتَراًً فَبَعَثَ اِلٰی کُلِّ اَرْضٍ لَہ ٗعَلَیْہَا سُلْطَانٌ دَفْتَراًً ہم کو عمر بن عبدالعزیز رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے جمع حدیث کا  حُکم دیا ہے اور ہم نے بہت ساری حدیثیں لکھیں اور انہوں نے ایک ایک مجموعہ ہر جگہ جہاں جہاں ان کی حکومت تھی بھیجا ۔ (جامع بیان العلم وفضلہ ، باب ذکر الرخص فی کتاب العلم، ص۱۰۷ )

اِتباعِ سنّت کی تاکید

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے فرمایا:’’ نبیِّ پاک صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور آپ کے خلفائے راشدین کی بہت سی سنّتیں ہیں ، ان پر عمل کرنا گویا کتابُ اللّٰہ کو مضبوطی سے پکڑنا ہے ، ان میں تبدیلی کرنے کا کسی کوکوئی حق نہیں ، جو شخص ان سنتوں سے ہدایت حاصِل کرے وہ ہدایت پر ہوگا جوان سے مدد لے اس کی مدد ہوگی اور جو ان کو چھوڑ دے اور اہلِ ایمان کے راستے سے ہٹ کر کوئی اور راستہ اپنائے تو وہ جدھر جاتا ہے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  اُسے اُسی طرف پھیر دے گا اور اسے جہنم میں ڈالے گا ۔ ‘‘امام مالک رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ فرمایا کرتے تھے : احیائے سنّت کے بارے میں حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کا عَزم مجھے بے حد پسند ہے ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۳۵)

سنّت کی اہمیت

          نبی مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم، شاہ ِبنی آدم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سنتوں پر عمل کرنا دنیا وآخِرت کی ڈھیروں بھلائیوں کے حُصُول کا ذریعہ ہے ۔ حضرت سیِّدُناانس بن مالک رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :’’مَنْ اَحَبَّ سُنَّتِیْ فَقَدْ اَحَبَّنِیْ وَمَنْ اَحَبَّنِیْ کَانَ مَعِیَ فِی الْجَنَّۃِ یعنی جس نے میری سنت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا ۔ ‘‘ (جامع الترمذی، کتاب العلم، الحدیث:۲۶۸۷، ج ۴، ص ۳۰۹ )

سو شہیدوں کا ثواب

             نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَروَر، دو جہاں کے تاجوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا : ’’مَنْ تَمَسَّکَ بِسُنَّتِیْ عِنْدَ فَسَادِ اُمَّتِیْ فَلَہٗ اَجْرُ  مِأَۃِ شَہِیْدٍ یعنی فسادِ امت کے وَقت جو شخص میری سنت پر عمل کرے گا اسے سو شہیدوں کا ثواب عطا ہوگا ۔ ‘‘ (کتاب الزھد الکبیرللبیھقی، الحدیث۲۰۷، ج۱ ، ص۱۱۸)

دیتا ہوں تجھے وَاسِطہ میں پیارے نبی کا     اُمَّت کو خدایا رہِ سنّت پہ چلا دے

عطارؔ سے محبوب کی سُنَّت کی لے خدمت            ڈنکا یہ تِرے دین کا دُنیا میں بجادے (وسائلِ بخشش ص۱۰۰)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ایسے نازُک حالات میں کہ جب دنیا بھر میں گناہوں کی یلغار، ذرائع اِبلاغ میں فحاشی کی بھر مار اور فیشن پرستی کی پھٹکار مسلمانوں کی اکثریت کو بے عمل بناچکی ہے ، نیز عِلمِ دین سے بے رغبتی اور ہر خاص و عام کارُجحان  صِرف اور  صِرف دُنیاوی تعلیم کی طرف ہونے کی وجہ سے اوردینی مسائل سے عدمِ واقفیت کی بنا پر  جہالت کے بادَل منڈلا رہے ہیں ، ہمیں اپنی زندگی سنّتوں کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشِش کرنی چاہئیے اور اس کے لئے تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی سے وابستہ ہونا بے حد مُفید ہے ۔ آپ کی ترغیب کے لئے ایک مَدَنی بہار پیش کی جاتی ہے ، چُنانچِہ

شرابی کی توبہ

     با بُ المدینہ (کراچی ) کے علاقہ کھارادرکے مقیم اسلامی بھائی کاکچھ اس طرح بیان ہے : ہمارے علاقے میں ایک انتہائی بدکردار شخص رہائش پذیر تھا ۔ وہ اپنی حرکتوں کی وجہ سے بہت



Total Pages: 139

Go To