Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

یہاں آئے ہو، یہ بتاؤتمہارا خرچِ سفر کتنا ہے ؟ اس نے حساب لگا کر بتایا: گیارہ دینار ۔ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے اسے ذاتی جیب سے گیارہ دینارتحفۃً عطاکردئیے ۔ (حلیۃ الاولیاء ج ۵ ص۳۱۳رقم۷۲۳۲)

مقروضوں کے قرضے ادا کرنے کا حکم

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے اپنے عُمّال کو لکھا کہ مقروضوں کے قرضے بیت المال سے ادا کرو ۔ عُمّال نے وضاحت چاہی کہ وہ مقروض جس کے پاس مکان ، خادِم، سواری اورگھر کا سامان موجود ہے کیا اُس کا قَرض بھی بیت المال سے ادا کیا جائے گا؟ فرمایا:ہر مسلمان کے پاس مکان کا ہونا ضروری ہے جس میں وہ سر چھپا سکے اور ایک خادِم کا جو اُس کا ہاتھ بٹا سکے اور ایک گھوڑا جس پر سوار ہو کر وہ جہاد کرسکے اور گھر کے سامان کا جو اس کے کام آسکے اور اگر ان سب چیزوں کے باوجود کوئی مقروض ہے تو اس کا قَرض بیت المال سے ہی ادا کیا جائے ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۱۴۰)

فوت شدگان کے قرض کی بیت المال سے ادائی

            گورنرابوبکر بن حزم کویہاں تک لکھا کہ جس شخص کا اِنتقال ہوجائے اور اس کے ذمہ قَرض ہو، اس کا قَرض بیت المال سے ادا کردو بشرطیکہ وہ قَرض کسی حماقت کی بنا پر نہ ہو ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ، ص۱۵۷)

عوام کی خوشحالی

             حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز تقریباً اڑھائی سال یعنی 30 مہینے خلیفہ رہے مگر ناجائز آمدنیوں کی روک تھام، ظُلم کے سدباب اور مال کی دیانتدارانہ تقسیم کے نتیجے میں ایک سال میں ہی لوگوں کے مالی حالات اتنے بہتر ہوگئے تھے کہ کوئی شخص بھاری رقم لاتا اورکسی اہم شخصیت سے کہتا کہ آپ کی نظر میں جو ضَرورت مند ہوں ، ان کو یہ مال دے دیجئے توبڑی دوڑ دُھوپ اورپوچھ گچھ کے بعد بھی کوئی ایساآدمی نہ ملتا جسے یہ مال دے دیا جائے ، بالآخر اسے وہ مال واپَس لے جانا پڑتا ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۱۰۶ وسیرت ابن جوزی ص۹۴) اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

خوشحالی کی چند جھلکیاں

            امیرُ المُؤمنینحضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کے دور میں خوشحالی کاکس طرح دَوردَورہ ہوگیا تھا ، اس کی چند مزیدجھلکیاں ملاحظہ ہوں : چُنانچِہ

صَدقہ لینے والے صدقہ دینے والے بن گئے

             طبقاتِ ابنِ سعد میں محمد بن قَیس سے روایت ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز  نے  حُکمدیا کہ مستحقین پر صَدقہ تقسیم کیا جائے لیکن میں نے دوسرے ہی سال دیکھا کہ جو لوگ صَدقہ لیا کرتے تھے وہ خود صَدقہ دینے کے قابل ہوگئے ۔ (طبقات ابن سعد، ج۵ ، ص۲۶۸)

صدقہ دینے کے لئے فقیر نہیں ملا

            یحییٰ بن سعید کا بیان ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے مجھے افریقہ میں صَدقہ وُصول کرنے کے لئے بھیجا میں نے صَدقہ وُصول کرکے فقراء کو تلاشا کہ ان پر تقسیم کردوں لیکن مجھ کو کوئی فقیر نہیں ملا کیونکہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے لوگوں کو دولت مند بنادیا تھا، لہٰذا میں نے صَدقہ کی رقم سے غلام خرید کر آزاد کردیئے ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۵۹)

اب ہم چارہ نہیں بیچتے

            ایک بارمدینۂ منوَّرہزادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً سے کوئی شخص آیا اور حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے اس سے اہلِ مدینہ کے حالات پوچھے پھردریافت کیا کہ اُن مِسکینوں کا کیا حال ہے جو فُلاں فُلاں جگہ بیٹھتے تھے ؟ اس شخص نے بتایا:’’ اب وہ وہاں سے اٹھ گئے ہیں ۔ ‘‘ یہ وہ غریب لوگ تھے جو اپنی گزر بسر کے لئے مسافروں کو جانوروں کاچارہ بیچا کرتے تھے لیکن جب حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزکے زمانے میں اُن سے چارہ مانگا گیا تو کہنے لگے : حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کی عطاؤں نے ہمیں اس قسم کی تجارت سے بالکل بے نیاز کردیاہے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۹۴)

مال میں برکت

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے گورنر عبدالحمیدبن عبدالرحمن کو لکھا کہ بیت المال سے لوگوں کو وظائف ادا کردو ۔ انہوں نے لکھا: میں نے وظائف دے دئیے ہیں لیکن بیت المال میں ابھی بھی مال باقی ہے توآپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے لکھا : ہر اُس مقروض کا قَرض ادا کرو جس کا قَرض کسی حماقت کی بنا پر نہ ہو ۔ انہوں نے جواب میں لکھا: میں نے قرضے ادا کردئیے ہیں لیکن مال ابھی بھی باقی ہے ۔ فرمایا:اُن کنواروں کو تلاش کرو جو مُفلِس ہوں اور ان کو شادی کے لئے اَخراجات مہیاکردو، عَرض کی: میں نے شادیاں کروا دی ہے مگر مال ابھی بھی باقی ہے ۔ (تاریخِ دِ مشق، ج۴۵ ، ص۲۱۳)

رِعایا کی خوشحالی پر مسرت

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کی عادت تھی کہ سوار ہو کر شہر سے باہَر نکل جاتے اور آنے جانے والے قافلوں سے مل کر ان سے مختلف علاقوں کے حالات دریافت فرماتے ۔ ایک بار اسی مقصد کے لیے آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ اپنے خادِم ومُشیرِ خاص  مُزاحِم کی معیت میں سوار ہو کر نکلے ، انہیں ایک مسافر ملا جو مدینۂ منوَّرہزادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً سے آرہا تھا ، اس سے دریافت فرمایا کہ وہاں کے لوگوں کی کیا حالت ہے ؟مسافر بولا : آپ فرمائیں تو اجمالاً مختصر سی بات کہہ دوں اور فرمائیں تو ہر چیز الگ الگ تفصیل سے بیان کروں ؟فرمایا : بس مختصر ہی کہو ۔ اس نے کہا :میں مدینۂ پاک کو اس حالت میں چھوڑ کر آیا ہوں کہ وہاں ظالِم بے بس اور مغلوب ہیں ، مظلوم کی داد رسی ہوتی ہے ، مالدار کے پاس دولت کی کمی نہیں اور تنگدست بھی خوشحال ہے اور اس کی



Total Pages: 139

Go To