$header_html

Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

          وظائف وعطیات کے علاوہ غربا ومساکین کی اِمداد واِ عانت کے مختلف ذرائع بھی اِختیار کئے مثلاً:(۱) تمام لوگوں کے لیے مُساویانہ طورپر غلہ مقرر کیا ۔ (طبقات ابن سعد ، ج ۵، ص۲۶۷) (۲) غریبوں کے پا س جو کھوٹے سکے ہوتے تھے ان کی نسبت بیت المال کے افسروں کو لکھا کہ اگر یہ لوگ اِن سکوں کو بدلنا چاہیں تو کھرے سکوں سے بدل دیئے جائیں ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۱۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

غلام کوآزادی کیسے ملی؟

            حضرتِ سیِّدُنا زِیادبن ابی زِیادمَدِیْنِیعلیہ رحمۃ اللّٰہ الغنی فرماتے ہیں :’’مجھے میرے آقا ابنِ عیاش بن ابی رَبِیعہ نے امیرُ المُؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کے پاس اپنے کسی کام سے بھیجا ۔ جب میں ان کی بارگاہ میں حاضِر ہوا تو اس وَقت ایک کاتِب اُن کے پاس بیٹھا کچھ لکھ رہا تھا ۔ میں نے ’’اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ‘‘ کہا ۔ آپ  رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے ’’وَعَلَیْکُمُ السَّلَام‘‘کہااور کاتب کو اَحکامات لکھوانے میں مصروف رہے ۔ جب آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ اس کام سے فارِغ ہوئے تومیرے سواکمرے میں موجود تمام لوگوں کو باہَر جانے کا حُکمدیا ۔ سردیوں کا موسم تھا میں نے اُونی جُبَّہ پہنا ہوا تھا ۔ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ میرے سامنے بیٹھ گئے اور اِرشاد فرمایا:’’واہ بھئی !تم سردیوں میں گرم جُبَّہ پہن کر کتنے پُرسکون ہو ۔ ‘‘پھر مجھ سے اہلِ مدینہ کے صالحین، بچوں ، عورتوں اورمردوں کے متعلق حال دریافت کیا یہاں تک کہ ہر ہر شخص کے بارے میں پوچھا ۔ پھر مدینۂ منوَّرہزادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماکے حکومتی نظام کے متعلق پوچھا ۔ میں نے تفصیل بتائی تو آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ بڑے غور سے ہر ہر بات سنتے رہے پھر فرمایا:’’اے ابن زیاد! تم دیکھ رہے ہوکہ میں کس مصیبت میں پھنس گیا ہوں !‘‘میں نے کہا:’’یاامیرَالمُؤمنین ! میں آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کے بارے میں خیر کی ہی امید رکھتا ہوں ۔ ‘‘مگر آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ عاجِز ی کرتے ہوئے فرمانے لگے : ’’افسوس! ہائے افسوس ! کیسی خیر، کیا بھلائی! میں لوگوں کو ڈانٹتا ہوں لیکن مجھے کوئی نہیں ڈانٹتا، میں لوگوں کو تکلیف پہنچاتا ہوں لیکن مجھے کوئی تکلیف نہیں پہنچاتا‘‘آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ یہ کلمات دہراتے جاتے اور روتے جاتے یہاں تک کہ مجھے آپ پر تَرس آنے لگا ۔ پھرآپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے میری حاجات پوری فرمائیں اور میرے آقا کی طرف لکھ کر بھیجا: ’’یہ غلام ہمارے ہاتھ فروخت کر دو ۔ ‘‘پھر اپنے بستر کے نیچے سے بیس (20) دینار نکالے اور مجھے دیتے ہوئے فرمایا: ’’یہ لو، انہیں اپنے اِستِعمال میں لانا ، اگر تمہارا غنیمت میں حصہ بنتا تو وہ بھی ضرور تمہیں دیتا لیکن کیا کروں تم غلام ہو اس لئے مالِ غنیمت میں تمہاراکچھ حصہ نہیں ۔ ‘‘ میں نے دینار لینے سے انکار کیا تو فرمایا: ’’یہ میں اپنی ذاتی رقم میں سے دے رہا ہوں ۔ ‘‘میں نے پھر انکا ر کیا مگر آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کے پیہم(یعنی مسلسل) اِصرار سے مجبور ہو کر مجھے وہ دینار لینے ہی پڑے ۔ پھر میں واپَس آگیا ۔ جب آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کا یہ پیغام میرے آقاکو ملاکہ ’’یہ غلام ہمارے ہاتھ فروخت کر دو ۔ ‘‘ تو انہوں نے فرطِ عقیدت میں مجھے بیچنے کے بجائے آزاد کردیا ۔ یوں حضرتِ سیِّدُناعمربن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدیر کی برکت سے مجھے آزادی نصیب ہوگئی ۔ (عیون الحکایات، ص۴۰۱)

اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اوراُن کے صَدَقے ہماری بے حساب مغفرت ہو اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

ہر دل عزیز خلیفہ

            فرمانِ مصطَفٰے صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمہے :اِذَا اَحَبَّ اللّٰہُ عَبْدًا نَادٰی جِبْرَئِیْلَ اِِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ فُلَانًا فَاَحِبَّہُ فَیُحِبُّہُ جِبْرَئِیْلُ فَیُنَادِیْ جِبْرَئِیْلُ فِیْ اَہْلِ السَّمَائِ اِِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ فُلَانًا فَاَحِبُّوْہُ فَیُحِبُّہُ اَہْلُ السَّمَائِ ثُمَّ یُوْضَعُ لَہُ الْقَبُوْلُ فِی اَھْلِ الْاَرْضِیعنی خداعَزَّوَجَلَّ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرئیلعَلَیْہِ السَّلام سے کہتا ہے کہ میں فلاں سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو چنانچہ حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلاماس سے محبت کرتے ہیں ، پھر آسمان کے رہنے والوں میں مَنادِی کرتے ہیں کہ خداعَزَّوَجَلَّفلاں سے محبت رکھتا ہے تم لوگ بھی اس سے محبت کرو، چنانچہ آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں ، اس کے بعداللّٰہعَزَّوَجَلَّ  اس کو دنیا میں مقبولِ عام بنادیتا ہے ۔ (بخاری، ج۴، ص۱۱۰، الحدیث ۶۰۴۰)

            مقبولیت اور ہر دلعزیزی بھی ایک بہت بڑا درجہ ہے ، حسنِ اخلاق اور عَدل واِنصاف کی بدولت حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز کو یہی درجہ حاصِل تھا ، چنانچہ وہ ایک بار موسمِ حج میں میدانِ عَرَفات سے گزرے تو لوگوں کی توجُّہ کا مرکز بن گئے ۔ حضرتِ سیِّدُنا سہیل بن ابی صالح رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہجو مذکورہ بالا حدیث کے راوِی ہیں ، وہ بھی اس مجمع میں موجود تھے ، انہوں نے یہ حالت دیکھی تو اپنے والدِ محترم سے کہا کہ میرے خیال میں خدا  عَزَّوَجَلَّعمربن عبدالعزیز(رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ) کو محبوب رکھتا ہے ، انہوں نے اس کی وجہ پوچھی تو کہا کہ لوگوں کے دلوں میں ان کی جگہ ہے ، پھر یہی حدیث بیان کی ۔ (تاریخِ دِ مشق، ج۴۵ ، ص۱۴۵)

اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ ٰ امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

ملّاحوں کی خیرخواہی

            حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیرنے مِصرکے گورنر کو خط لکھا کہ دریائے نِیل کے کنارے شجر کاری نہ کی جائے کیونکہ اس سے ملاحوں کو کشتیوں کا لنگر کھینچنے میں دِقّت پیش آتی ہے ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۵۷)

سفر خرچ عطا کیا

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز ایک مرتبہ حَمص کے بازار میں تشریف لے گئے تو وہاں پر ان سے ایک شخص ملااور پوچھا: یاامیرَالمُؤمنین ! کیا آپ نے یہ  حُکمجاری کیا ہے کہ جو شخص مظلوم ہے وہ آپ کے پاس آجائے ؟ فرمایا: ہاں ۔ اس نے عَرض کی: توپھر بہت دُور سے ایک مظلوم آپ کے پاس حاضِر ہوا ہے ۔ دریافت فرمایا: کہاں کے رہنے والے ہو؟ عَرض کی : عَدَن کا ۔ فرمایا: تم پر کیا  ظُلم ہوا ہے ؟ عَرض کی: ایک شخص نے زبردستی میری زمین پر قبضہ کرلیا ہے ۔ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے عَدَن کے گورنر’’عُروہ بن محمد‘‘ کو لکھا :اس شخص کے دعوے کو سنو اور گواہوں کی بنیاد پر اس کا حق اسے دِلاؤ ۔ پھر مُہرلگا کر یہ خط اس شخص کے حوالے کردیا ۔ جب وہ جانے لگا تو فرمایا: تم اتنی دُور سے



Total Pages: 139

Go To
$footer_html