Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

اتنے ہزار غلام ہیں ۔ آپ نے شام کے شہروں میں مکتوب روانہ کیا کہ نابیناؤں اورفالج زدوں کی تفصیلات بھیجی جائیں ، جب معلومات آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ تک پہنچیں تو ہر نابیناکو ایک اور دوفالج زدوں کو ایک خادِم عطا کیا ، اس کے بعد بھی کچھ غلام باقی تھے چنانچہ آپ نے یتیموں اور قرض داروں کی فہرست منگوائی اور ہر پانچ افراد کو ایک غلام عطا کردیا ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۸۳)

 اندھوں اوراپاہجوں کی دیکھ بھال کے لئے غلام عطا فرماتے

            حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیرکے پاس جب ’’خُمُس‘‘[1]؎کے غلام زیادہ ہوجاتے تو دو دو اپاہجوں کو خدمت کے لئے ایک غلام اور ہر نابینا کو راہ دکھانے کے لئے ایک غلام دے دیا کرتے تھے ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۴۸)

اپاہجوں کے وظائف مقرر کئے

            حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیرنے اپاہجوں کے بھی وظائف مقرر کئے اور اس فیصلے پر اِس  شِدّت کے ساتھ عمل کیا کہ جو عامِل اس کی خِلاف ورزی کرتا تھا وہ معتوب ہوتا تھا ۔ ایک بار دِمشق کے بیت المال سے ایک اپاہج کا وظیفہ مقرر کیا گیا تو ایک عامِل نے کہا کہ اس قسم کے لوگوں کے ساتھ حُسنِ سُلُوک تو کیا جاسکتا ہے لیکن تندرست آدمی کے برابر وظیفہ نہیں مقرر کیا جاسکتا، لوگوں نے حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیرکی خدمت میں اس کی شکایت کردی ۔ لہٰذا  ٓآپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے اُس عامِل کی خوب خبر لی ۔

قحط زدگان کی مدد

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کے زمانے میں ایک مرتبہ زبردست قحط پڑا تو عَرَب کے کچھ لوگ ایک وفد کی شکل میں آپ کے پاس آئے اور عَرض کی:’’ یاامیرَالمُؤمنین !  ہم ایک شدید ضَرورت کی وجہ سے آپ کے پاس حاضِر ہوئے ہیں ، فاقوں کے سبب ہمارے جِسم کی چمڑی سُوکھ گئی ہے اور ہماری مشکل کا حل صر ف بیتُ المال کے ذریعہ ممکن ہے ۔ اس مال کی حیثیت تین میں سے ایک ہوسکتی ہے ، یا تو یہ مال اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے لئے ہے یا بندوں کے لئے یا پھر آپ کے لئے ۔ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کو اس کی ضَرورت نہیں وہ بے نیاز ہے ، اگر بندگانِ خدا کے لئے ہے  تو اس میں سے ہمیں بھی دے دیجئے ، اگر آپ کا ہے تو صَدقے کے طور پر ہی ہمیں دے دیجئے ، اللّٰہ تعالیٰ صَدقہ کرنے والوں کو جزائے خیر دے گا ۔ ‘‘یہ سن کرحضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور آپ کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی چنانچہ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے  حُکم دیا کہ ان لوگوں کی تمام ضَروریات بیت المال سے پوری کی جائیں ۔ (التبر المسبوک فی نصیحۃ الملوک ، باب فی ذکر العدل والسیاسۃ ، ج۱ ، ص۲۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حیا آتی ہے

            امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا مولا مشکل کشا علیُّ المرتضٰی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہکے پوتے حضرت سیِّدُناعبداللّٰہبن حسن رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ اپنی کسی ضَرورت کی وجہ سے حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز    عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز  کے پاس آئے تو آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے انہیں تاکید کی:اِذَا کَانَتْ لَکَ حَاجَۃٌ  فَاَرْسِلْ اِلَیَّ اَوِاکْتُبْ ، فَاِنِّی اَسْتَحْیِ مِنَ اللّٰہ تَعَالٰی اَنْ یَّرَاکَ عَلٰی بَابِیْ  یعنی جب آپ کوکوئی حاجت دَرپیش ہوتوکسی کی زَبانی یا لکھ کر پیغام بھجوا دیا کریں کیونکہ مجھے اس بات پر اللّٰہ  تعالیٰ سے حیا آتی ہے کہ وہ آپ جیسی ہستی کو میرے دروازے پر کھڑا دیکھے ۔ (باب السلک فی طبائع الملک ، ظہور العنایۃ بمن لہ حق ، ج۱ ص۹۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

بچوں کے وظیفے

            ملک میں جتنے مسلمان تھے ان میں بچے بچے کا وظیفہ مقرر کیا، چنانچہ محمد بن عمر کا بیان ہے کہ میں ۱۰۰ ھ میں حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کے بابَرَکت دورِ خِلافت میں پیدا ہو ا تو میری دایہ مجھ کوگورنر ابوبکر بن حزم کی خدمت میں لے گئی اور انہوں نے مجھ کو ایک دِینار دیا ۔ اورہَیثَم بن واقد کہتے ہیں کہ میں ۹۷ ھ میں پیدا ہوا، جب حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز خلیفہ بنے تو مجھے ان کی خِلافت میں سالانہ تین دنیار بطورِ وظیفہ ملے ۔ (طبقات ابن سعد، ج۵ ، ص۲۶۷)

ہر ایک کو برابر وظیفہ ملتا تھا

            یہ وظائف تمام لوگوں کو مُساوی ملتے تھے صِرف آزاد شدہ غلاموں کے وظائف میں کچھ فرق تھا ۔ (طبقات ابن سعد، ج۵ ، ص۲۹۲) یہاں تک کہ جو لوگ ہمیشہ سے تفوُّق و اِمتیا ز کے خُوگر (یعنی عادی) تھے وہ اس مساوات کو دیکھ کر حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز سے بالکل الگ ہوگئے ۔

وظائف میں اِضافہ ہوتا رہتا

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزوظائف میں عُرف وعادت کے مطابق اِضافہ بھی کرتے رہتے تھے ، چنانچہ ایک بار ہر ایک کے وظیفے میں دس دینار یا دس دِرہم کا اِضافہ کیاجس سے سب لوگ یکساں طور پرمُستفِید ہوئے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۰۷) اس پُرفیّاض طَرزِ عمل سے بیت المال کو سخت نقصان پہنچا،  چنانچہ بعض عُمّال نے ان کو اس طرف توجہ بھی دلائی لیکن امیرُ المُؤمنین نے اس کی کچھ پروا نہیں کی بلکہ عُمال کو یہاں تک لکھا:اَعْطِ مَافِیْہِ فَاِذَا لَمْ یَبْقَ فِیْہِ شَیْئٌ فَاَمْلِأہُ زُبَلاً یعنی جب تک خزانے میں رقم ہے دیتے چلے جاؤ، جب کچھ نہ رہے تو اس میں گھاس پُھونس بھر دو ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۰۴)

غریبوں کی امدادکے دیگرذرائع

 



[1]    مسلمان جو مال کفار سے بطورِ قوت وغلبہ اور لشکر کشی کے حاصِل کریں اس کو مالِ غنیمت کہا جاتا ہے ۔ اس مالِ غنیمت کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جا تا ہے جن میں سے چارحصے مجاہدین میں تقسیم کئے جاتے ہیں اور پانچواں حصہ الگ کر دیا جاتاہے جس کو خُمُسْ کہا جاتا ہے ۔ (تفسیرنعیمی ج۱۰ص۶، ۷ملخصًا)



Total Pages: 139

Go To