$header_html

Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

جانتے ہیں ۔ فرمایا : ’’مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زَبان سے دو سرے مومنوں کو مال او ر جسمانی لحاظ سے کوئی خطرہ نہ ہو ۔ ‘‘پھر پوچھا ، مہاجرکون ہوتا ہے ؟ فرمایا : ’’ جو بر ے کام کرنا چھوڑدے ۔ ‘‘ اوراِرشاد فرمایا کہ مسلمان کیلئے جائز نہیں کہ دو سرے مسلمان کی طرف آنکھ سے  اس طر ح اِشارہ کرے جس سے اسے تکلیف پہنچے اور یہ بھی حلال نہیں کہ ایسی حرکت کی جائے جو کسی مسلمان کو خوفزدہ کردے ۔ ‘‘(کتاب الزھد لابن مبارک ، ص۲۴۰، الحدیث ۶۷۹۰۶۸۸اتحاف السادۃ المتقین ، ج ۷، ص ۱۷۵ ، ۱۷۷)

کھیتی کے مالک کی شکایت

             ایک شخص نے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کی بارگاہ میں حاضِر ہو کر شکایت کی: میں نے کھیتی کاشت کی تھی کہ اہلِ شام کا لشکر وہاں سے گزرا اور اِسے خراب کردیا ۔ حضرت عمر نے اس کے بدلے اُسے دس ہزار دِرہم دیئے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۹۷)

            شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ اسی نوعیت کی ایک حکایت کے بعد لکھتے ہیں :اِس حِکایت سے اُن لوگوں کو دَرس حاصِل کرنا چاہئے جو لوگوں کی دیواروں اور سیڑھیوں کے کونوں وغیرہ کو پِیک(یعنی پان کے رنگین تھوک) کی پچکاریوں سے بد نُما کردیتے ہیں ، اِسی طرح بِغیر اِجازتِ مالِک مکانوں اور دُکانوں کی دیواروں اور دروازوں نیز سائن بورڈز اور گاڑیوں ، بسوں وغیرہ کے باہَر یا اندراِسٹیکرز اور پوسٹر لگانے والے ، دیواروں پر مالِک کی اِجازت کے بِغیر’’ چاکنگ‘‘ کرنے والے بھی دَرس حاصِل کریں کہ اس طرح کرنے سے لوگوں کے حُقُوق پامال ہوتے ہیں ۔ بے شک حُقُوقُ اللّٰہ ہی عظیم تر ہیں مگرتوبہ کے تعلُّق سے حُقُوقُ الْعِباد کا  مُعامَلہحُقُوقُ اللّٰہ سے  سَخت تر ہے ، دنیا میں جس کسی کا حق ضائِع کیا ہواگر اُس سے مُعافی تَلافی کی ترکیب دنیا ہی میں نہ بنی ہو گی تو قِیامت کے روز اُس صاحِبِ حق کو نیکیاں دینی پڑیں گی اور اگر اس طرح بھی حق ادا نہ ہوا تو اُس کے گناہ اپنے سر لینے ہوں گے ۔ مَثَلاًجس نے بِلاعُذرِ شَرعی کسی کو جھاڑا ہوگا، گُھور کر یا کسی بھی طرح ڈرایا ہوگا، دل دُکھایا ہوگا ، کسی کو مارا ہوگا، کسی کے پیسے دبا لئے ہوں گے ، پِیک ، پوسٹر یا چاکنگ وغیرہ کے ذَرِیعے کسی کی دیوار خراب کی ہوگی، کسی کی دکان یا مکان کے آگے جگہ گھیر کر اُس کیلئے ناحق پریشانی کا سامان کیا ہوگا، کسی کی عمارت سے قریب غیر واجِبی طور پر زبردستی اپنی عمارت بنا کر اُس کی ہوا اور روشنی میں رُکاوٹ کھڑی کی ہوگی، کسی کی اسکوٹر یا کار وغیرہ کو اپنی گاڑی سے ڈَینٹ ڈال کر یا خَراش لگا کر راہِ فِرار اِختیار کی ہوگی، یابھاگ نہ سکنے کی صورت میں اپنا قُصُور ہونے کے باوُجُود اپنی چَرب زَبانی یا رُعب داب سے اُسی کو مُجرِم باور کرا کر اُس کی حق تلفی کی ہوگی، عیدِ قرباں وغیرہ کے موقع پر صاحِبِ مکان کی رِضا مندی کے بِغیر اُس کے گھر کے آگے جانور باندھ کر یا ذَبح کر کے اُس کی دیوار یا گھر سے نکلنے کا رَستہ گوبر ، خون اور کیچڑ وغیرہ سے آلودہ کر کے اُس کیلئے اِیذا کا سامان کیا ہو گا، کسی کے مکان یا دکان کے پاس یا اس کی چھت یا پلاٹ پر پریشان کُن گند کچرا پھینکا ہو گا، اَلغَرَض لوگوں کے حُقُوق پامال کرنے والا اگر چِہ نَمازیں ، حج ، عمرے ، خیراتیں اور بڑی بڑی نیکیاں لیکر گیا ہوگا، مگربروزِ قِیامت اُس کی عِبادتیں وہ لوگ لے جائیں گے جن کو ناحق نقصان پہنچایا ہوگا یا بِلااِجازتِ شَرعی کسی طرح سے ان کی دل آزاری کا باعث بنا ہو گا ۔ نیکیاں دینے کے باوُجُودحُقُوق باقی رہنے کی صورت میں اُن کے گناہ اِس ’’نیک نَمازی ‘‘ کے سر تھوپ دیئے جائیں گے اوریوں دوسروں کی حق تلفی کرنے کے سبب حاجی، نَمازی، روزہ دار اور تہجُّد گزار ہونے کے باوُجُودوہ جہنَّم میں جا پڑے گا ۔ وَالْعِیاذ بِاللّٰہ تعالٰی ۔ (اوراللہعَزَّوَجَلَّکی پناہ) ہاں اللہعَزَّوَجَلَّجس کے لئے چاہے گا محض اپنے فضل و کرم سے صُلح کرائے گا ۔ مزید تفصیلات کیلئے دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہکا مطبوعہ رسالہ’  ظُلم کا اَنجام‘مُلاحظہ فرما لیجئے ۔ (ماخوذ از’’ اشکوں کی برسات‘‘ ، ص۱۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

فلاحِ عامہ کے کام

            عوام کی فلاح وبہبود کے لئے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے تمام ممالکِ محروسہ میں نہایت کثرت سے مسافر خانے بنوائے ، چنانچہ خراسان کے عامِل کو لکھا کہ وہاں کے راستے میں بہت سے مسافر خانے تعمیر کرائے جائیں ۔ (الطبقات الکبری ج۵، ص۲۶۶)

مسافروں کی خیرخواہی کرو

             سمر قند کے عامِل سلیمان بن ابی السریٰ کے پاس فرمان بھیجا کہ وہاں کے  شہروں میں سَرائیں (یعنی مسافر خانے ) تعمیر کراؤ، جو مسلمان اُدھر سے گزریں ایک دن اور رات ان کی مہمان نوازی کرو، ان کی سواریوں کی حفاظت کرو جو مسافر مریض ہو اس کو دو رات اور دو دن مقیم رکھو ۔ اگرکسی کے پاس گھر تک پہنچنے کا سامان نہ ہو تو اس قَدَر سامان کردو کہ اپنے وطن میں پہنچ جائے ۔ (الکامل فی التاریخ ، ج۴ ، ص۳۲۷)

عوامی لنگر خانہ

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے ایک عام لنگر خانہ قائم کیا ، جس میں تمام فقراء مساکین اور مسافروں کو کھانا ملتا تھا ۔ ( تاریخ دمشق ج۴۵ص۲۱۸)

چراگاہوں کو کھول دیا

            ماتحت ممالک میں جو چراگاہیں تھیں ان میں نَقِیع کے سوا تمام چراگاہوں کو عام کردیا (الطبقات الکبری ج۵، ص۲۶۶) اور ان کے متعلِّق ایک عامِل کو لکھا:فَمَا حُمِیَ مِنَ الْاَرْضِ اَ لَّایُمْنَعُ اَحَدٌ مَوَاقِعَ القَطْرِفَاَبِحِ الْاَحْمَائَ  ثُمَّ اَبِحْہَا جوزمینیں چراگاہ بنائی گئی ہیں تو جہاں جہاں برسات کا پانی گرے ان سے کسی کو نہ روکا جائے ، اس لئے چراہ گاہوں کو عام کردو اور ضرور عام کردو ۔ (الطبقات الکبری ج۵، ص۲۹۶)

ضَرورت مندوں کی تلاش

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کی طرف سے ایک شخص باقاعدہ اِعلان کیا کرتا : کہاں ہیں قرض دار؟ کہاں ہیں نکاح کی خواہش رکھنے والے ؟

 کہاں ہیں مَساکین؟ کہاں ہیں یتیم ؟ اور جب یہ لوگ مُنادِی کرنے والے سے رابطہ کرتے تو وہ ان کی ضروریات کو پورا کیا کرتا تھا ۔ (البدایۃ والنھایۃ، ج۶ ، ص ۳۴۰)

نابیناؤں ، فالج زدوں اور یتیموں کی خیر خواہی

            غلاموں کے نگران نے حاضِر ہوکر ان کے کھانے پینے اور رہنے سہنے کے اَخراجات مانگے تو حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے غلاموں کی تعداد دریافت فرمائی تو بتایا گیا کہ



Total Pages: 139

Go To
$footer_html