Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز  نے اپنے گورنر وں کو تاکید ی مکتوب روانہ کیا کہ مسلمان قیدیوں کا فدیہ ادا کر کے انہیں رہائی دلوائیں چاہے سارا خزانہ  صَرف کرنا پڑے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۲۰)

سزا کی حد مقرر کردی

            اسلام نے خود جن جرائم پر سزائیں مقرر کردی ہیں ان میں تو کسی قسم کی تبدیلی  نہیں ہوسکتی، تاہم اسلام نے تعزیز (یعنی قاضی یا حاکمِ اسلام کی طرف سے دی جانے والی سزا) کی کوئی تحدید (یعنی حد مقرر) نہیں کی ہے اور اس کو خود حاکمِ اسلام وقاضیٔ اسلام کی رائے پر چھوڑ دیا ہے ، حضرتِ عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکے زمانہ میں عُمّال نے اس میں اس قَدَر سختیاں کردی تھیں کہ بعض جرائم پر بلکہ  صِرف اِلزام و شبہہ پر تین تین سو کوڑے مارتے تھے ۔ حضرتِ عمر بن عبدالعزیز   عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزنے قانونی طور پر تعزیر کی تحدید کردی جس کی انتہائی مِقدار30 کوڑے تھی ۔ (طبقات ابن سعد، ج۵ ، ص۲۷۳)

لوگوں کو مَشَقَّت کا عادی بنا رہا ہوں

            ان سب اَقدامات کے باوجود ابھی تک حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز  اس طرح کام نہیں کرپائے تھے جس طرح کرنا چاہتے تھے ، چُنانچِہ جب آپ کے شہزادے حضرت سیِّدناعبدُالملک عَلَیْہِ رَحمَۃُاللّٰہِ الْخالِق نے اس بارے میں آپ کی خدمت میں عَرض کی تو فرمایا: مجھے اپنی اور تمہاری جان کی پرواہ نہیں مگر میں لوگوں کو مَشَقَّت کا عادی بنا رہا ہوں ، اگر زندگی باقی رہی تو اپنی رائے کے مطابق ہی عمل کروں گا اور اگر اس سے پہلے دنیا سے چلاگیا تواللّٰہعَزَّوَجَلَّ  نیتوں کا حال جانتا ہے ، مجھے ڈر ہے کہ اگر لوگوں کے ساتھ اچانک سختی کی تو وہ مجھے تلوار کے اِستِعمال پر مجبور کردیں گے اور جو اچھاکام تلوار کے بغیر نہیں ہوسکتا اس میں کوئی اچھائی نہیں ۔ (حلیۃ الاولیاء ج ۵ ص۳۱۵)

تمہارے دلوں سے حِرص ولالچ نکالنا چاہتا ہوں

            حضرت میمون بن مِہران علیہ رحمۃُ الحنّان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کو یہ فرماتے ہوئے خود سنا ہے کہ اگر میں پچاس سال بھی تمہارا خلیفہ رہوں تب بھی میں اِنصاف کے جُملہ مُراتِب تم کو نہیں سکھا سکتا ، میں تمہارے دل سے دنیاوی حِرص ولالچ نکال دینا چاہتا ہوں لیکن ڈرتا ہوں کہ طَمع کے ساتھ تمہارے دل بھی سینے سے نکل پڑیں گے ، میری آرزو ہے کہ تم برائیوں کو سچے دل سے بُرا سمجھوتاکہ  عَدل واِنصاف سے دلوں کو تسکین ہو ۔ (تاریخ الخلفاء ص۱۸۸)

مسلمان کو تکلیف پہنچنا گوارا نہیں

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے جَعوَنہ بن حارِث کو ’’مَلَطیَہ‘‘ کی طرف بھیجا ، انہوں نے وہاں پر حملہ کیا اور بہت سامالِ غنیمت حاصِل کیا ۔ جب وہ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کے پاس آئے اور اپنی کارکردگی پیش کی تو دریافت فرمایا: کسی مسلمان کو تو نقصان نہیں پہنچا؟ عَرض کی: یاامیرَالمُؤمنین ! سوائے ایک معمولی آدمی کے کسی کو نقصان نہیں پہنچا ۔ تڑپ کر فرمایا:’’ معمولی آدمی؟ ‘‘پھر جَعوَنہ کو ڈانٹا:تم ایک مسلمان کو نقصان پہنچا کر میرے پاس گائے اور بکریاں لاتے ہو! جب تک میں زندہ ہوں تم کسی عہدے پر دوبارہ فائز نہیں ہوسکتے ۔ (حلیۃ الاولیاء ج ۵ ص۳۶۸رقم۷۴۳۴)

 

اپنے ہاتھ ، پیٹ اور زبان کی حفاظت کرو

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے ایک گورنر کو نصیحت فرمائی:تم اپنے ہاتھ کو مسلمانوں کے خون سے ، پیٹ کو ان کے مال سے اور زَبان کو ان کی بے عزتی سے بچانا ، اگر تم نے یہ کام کرلئے تو گویا اپنی ذمّہ داری نبھا لی ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۱۴)

نیک بندے چیونٹیوں کو بھی اِیذا نہیں دیتے

            اللّٰہ کے نیک بندے کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ وہ غُصّے میں آ کر مسلمانوں کو تو کیا تکلیف دیگا چیونٹیوں تک کو اِیذا دینے سے گُریز کرتا ہے ۔ چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا خواجہ حسن بصری رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍۙ(۲۲) (ترجَمۂ کنزالایمان :بے شک نکوکار ضرور چین میں ہیں ۳۰، المطففین۲۲) کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : اَ لَّذِیْنَ لَایُؤْذُوْنَ الذَّرّ  یعنی نیک بندے وہ ہیں جو چیونٹیوں کو بھی اَذِیَّت نہ دیں ۔  (تفسیر حسن بصری ج۵ ص۲۶۴)

تلوار کے اِستِعمال سے روکا

            جراح بن عبداللّٰہ نے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کو اہلِ خراسان کی صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے لکھا کہ یہ لوگ بہت بگڑے ہوئے ہیں ان کی اِصلاح تلوار اور دُرّوں کے بغیر نہیں ہوسکتی ، آپ میری راہنمائی فرمائیں ۔ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے ان کو جواب میں لکھا : تم نے یہ غَلَط لکھا کہ اہلِ خراسان تلوار کے بغیر نہیں سدھریں گے ، عَدل اور حق ایسی چیزیں ہیں جن کی بدولت یہ خود بخود دُرُست ہوجائیں گے ، لہٰذا تم ان میں حق واِنصاف کا بول بالا کرو، والسلام ۔ ‘‘(تاریخ الخلفاء ص۱۹۴)

خونریزی کی اِجازت نہیں دی

             دوافراد کوحضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے عراق کے کسی کام پرمقررکیاتھاتو انہوں نے بھی لکھا تھا کہ لوگ بغیرتلوارکے دُرُست نہیں ہوتے ، آپ نے ان دونوں کولکھا:بے وقوفو!تم مجھ سے مسلمانوں کے خون کے بارے میں عَرض ومعروض کرتے ہو؟ لوگوں میں سے کسی ایک شخص کے خون کے بجائے میرے لئے تم دونوں کے خون بے قیمت ہیں ۔ (حلیۃ الاولیاء ج ۵ ص ۳۴۰ رقم ۷۳۲۱)

            مسلمان ایک دوسرے کے محافظ ہوتے ہیں چنانچہ حجۃ الاسلام حضرت سیِّدُنا امام محمد غزالی علیہ رحمۃ اللّٰہ الوالی’’ احیاء العلوم‘‘ میں نقل کرتے ہیں ، ہمارے پیارے پیارے اور میٹھے میٹھے آقا مکی مَدَنی مصطفے صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے صحابہ کرام علیہم الرضوان سے اِستِفسار فرمایا:جانتے ہو ’’ مسلمان‘‘ کون ہوتا ہے ؟ سب نے عَرض کی : اللّٰہ ورسولعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم بہتر



Total Pages: 139

Go To