$header_html

Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

             ملکی محاصِل کی وجہ سے قومی خزانے کو اچھی خاصی رقم وُصول ہواکرتی تھی لیکن حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیزکیعہدِ خِلافت سے پہلے ان تمام چیزوں کا نظام اس قَدَر اَبتر ہوگیا تھا کہ یہ محاصِل رِعایا کے لئے بالکل ایک جبری چیز بن گئے تھے ۔ اسلام میں جِزیہ  صِرف غیر قوموں کے لیے مخصوص تھا اس لیے اگر کوئی عیسائی ، یہودی یا مجوسی مذہبِ اسلام میں داخل ہوجاتا تھا تو وہ اس سے بالکل بَری ہوجاتا، لیکن حجاج بن یوسف نے اس فرق و اِمتیاز کو بالکل مٹا دیا تھا، اور وہ نومسلموں سے بھی جِزیہ وُصول کرتا تھا ۔ اس کی نسبت حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیزنے حیان بن شریح کو لکھا کہ ذِمّیوں میں جو لوگ مسلمان ہوگئے ہیں ان کا جِزیہ ساقط کردیا جائے کیونکہ پروردگار عَزَّوَجَلَّ  فرماتا ہے :

فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۵) (پ۱۰، التوبہ:۵)

ترجمۂ کنزالایمان:پھر اگر وہ توبہ کریں اور نَماز قائم رکھیں اور زکوٰۃ دیں تو ان کی راہ چھوڑ دوبیشک اللّٰہ بخشنے والا مہربان ہے ۔

سورۂ توبہ کی آیت 29میں اِرشاد ہوتا ہے :

قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ لَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰى یُعْطُوا الْجِزْیَةَ عَنْ یَّدٍ وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ۠(۲۹)  (پ۱۰، التوبہ:۲۹)

ترجمۂ کنزالایمان:لڑو ان سے جو ایمان نہیں لاتے اللّٰہ پر اور قِیامت پراور حرام نہیں مانتے اس چیز کو جس کو حرام کیا اللّٰہ اور اس کے رسول نے اور سچے دین کے تابع نہیں ہوتے یعنی وہ جو کتاب دئے گئے جب تک اپنے ہاتھ سے جِزیہ نہ دیں ذلیل ہوکر

            اس  حُکم کی بناء پر اتنی کثرت سے لوگ اسلام لائے کہ جِزیہ کی آمدنی اچانک کم ہو گئی ، چنانچہ حیان بن شریح نے ان کو اطلاع دی کہ ذِمّیوں کے اسلام نے جِزیہ کو اس قَدَر نقصان پہنچایا کہ میں نے تیس ہزار اشرفیاں قرض لے کر مسلمانوں کے عطیے تقسیم کیے ، لیکن حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیزنے اس کی کچھ پرواہ نہیں کی، اور لکھا کہ میں نے جب تمہیں مِصر کا عامِل مقرر کیا تھا ۔ اسی وَقت تمہاری کمزوری سے واقف تھا، میں نے قاصِد کو  حُکم دیا ہے کہ تمہارے سر پرکوڑے لگائے جِزیہ کو موقوف کرو ۔ (المواعظ والاعتبار ، ج۱، ص ۹۷  )

 جِزیہ نہ لو

            ’’حَیَّرہ‘‘ کے یہودی، عیسائی اور مَجوسی جن سے جِزیہ کی رقم وُصول ہوتی تھی، جب اسلام لائے تو گورنرعبدالحمید بن عبدالرحمن نے ان سے جِزیہ وُصول کرنا چاہا اور حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز سے اس کی اِجازت طَلَب کی، انہوں نے لکھا کہ خدا نے محمدِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اسلام کی دعوت کے لئے بھیجا تھا نہ کہ خَراج جمع کرنے کے لئے ، ان مذاہب کے لوگوں میں جو لوگ اسلام لائیں ان کے مال میں  صِرف صَدقہ ہے جِزیہ نہیں ۔ (طبقات ابن سعد، ج۵ ، ص۲۹۹ملخصًا)

نومسلموں سے جِزیہ لینے والے گورنر کو معزول کردیا

            گورنرجراح کی نسبت جب ان کو معلوم ہوا کہ وہ نو مسلموں سے جِزیہ وُصول کررہے ہیں تو ان کو معزول کردیا ۔ نو مسلموں کے جِزیہ کی موقوفی پر ان کو اس قَدَر اِصرار تھا کہ ایک بارلکھا کہ اگرایک ذِمّی کا جِزیہ ترازو کے پلڑوں میں رکھا جاچکا ہو اور اسی حالت میں وہ اسلام قبول کرلے تو اس کا جِزیہ معاف کردیا جائے ، اسی طرح ایک مرتبہ فرمایا: اگر سال مکمل ہونے سے ایک دن پہلے بھی کوئی ذِمّی مسلمان ہوجائے تو اس سے جِزیہ نہ لیا جائے ۔ (طبقات ابن سعد، ج۵ ، ص۲۷۵)

ٹیکس ختم کردئیے

            پہلے خلفاء کے دور میں رِعایا پر مختلف قسم کے ٹیکس لگائے گئے تھے : روپیہ ڈھالنے پر ٹیکس ، چاندی پگھلانے پر ٹیکس، عرائض نویسی پر ٹیکس، دوکانوں پر ٹیکس ، گھروں پر ٹیکس، پن چکیوں پر ٹیکس، الغرض کوئی چیز ٹیکس سے بَری نہ تھی اور یہ تمام ٹیکس ماہوار وُصول کئے جاتے تھے اور اس لئے اس کو مالِ ہِلالی (یعنی ماہانہ حاصِل ہونے والا مال) کہا جاتا تھا ۔ حضرتِ عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزتختِ خِلافت پر متمکن ہوئے تو دیکھا کہ ان میں بعض قسم کی آمدنیاں  شَرعاً ناجائز ہیں اور بعض سے رِعایا پر غیر معمولی بار پڑرہا ہے ، اس لئے انہوں نے ان کو یک لخت موقوف کردیا ۔ عَرَبی زَبان میں اس قسم کے ٹیکسوں کو مَکْس کہتے ہیں مگر آپ نے فرمایا: یہ مَکْس نہیں بلکہنَجِس ہے ، وہ نجس جس کی نسبت خداوند تعالیٰ فرماتا ہے :

وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَۚ(۱۸۳) ۱۹، الشعراء ۱۸۳)

ترجمۂ کنزالایمان:اور لوگوں کی چیزیں کم کرکے نہ دو اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو ۔

لہٰذا جو اپنے مال کی زکوٰۃ دے وہ قبول کرلو جو نہ دے اللّٰہ  تعالیٰ خود اس سے حساب لے گا ۔ (طبقات ابن سعد، ج۵ ، ص۲۹۸ملتقطًا)

بیتُ المال میں  بَرَکت

             یہ عجیب بات ہے کہ اس قَدَر نَرمی کے باوجود حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز کے زمانہ میں جو مال گزاری وُصول ہوئی، اس سے حجاج کے پُرمظالم زمانہ کو کوئی نسبت نہیں ، حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز فخریہ فرمایا کرتے تھے کہ ’’ حجاج کو نہ دین کی لِیاقت تھی نہ دنیا کی، اس نے کاشت کاروں کو20 لاکھ دِرہم زمین کی آبادی کے لیے بطورِ قَرض کے دیئے تومحصولات کی مَد میں 1 کروڑ 60لاکھ اور وُصول ہوئے ، لیکن باوجود اس ویرانی کے عراق میرے قبضہ میں آیا تو میں نے 10کروڑ 24 لاکھ دِرہم وُصول کیے ، اور اگر زندہ رہا تو اس سے بھی زیادہ وُصولی کروں گا ۔ (معجم البلدان ، باب السین والواو  وما یلیھما، ج۳ ص۸۷ ملخصًا)

سرکاری عہدوں پر تقرری کا طریقہ کار

            زمانہ قدیم کا نظامِ سلطنت موجودہ زمانہ کے نظامِ حکومت سے بالکل مختلف تھا آج کے دور میں حکومت کی شخصیتیں بدل جاتی ہیں ، نظامِ حکومت اُلٹ پلٹ جاتا ہے لیکن سلطنت کے اَعضاء و جوارح یعنی عمّال(یعنی گورنر وغیرہ) پر ان کا کوئی اثر نہیں پڑتا، لیکن قدیم زمانہ میں سلاطین کی شخصیت کا تَغَیُّر و تَبَدُّل گویا نظامِ سلطنت کی تبدیلی تھا، اور یہ اِنقِلاب حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ



Total Pages: 139

Go To
$footer_html