Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

شہزادوں کی نسبت زیادہ پیار و محبت اور قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھا اور آپ رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ کے والدحضرتِ سیِّدُناعبدالعزیزرحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ کی وفات کے بعد اپنی لاڈلی بیٹی حضرتِ سیِّدَتُنافاطمہ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہا  کی شادی آپ رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ سے کر دی ۔ (سیرت ابن جوزی ص۳۶)

تاریخی اِعزاز

             حضرتِ سیِّدَتُنافاطمہ بنت عبدُالملک رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہا کو ایک مُنفَرِد تاریخی اِعزاز حاصل ہے جسے کسی شاعر نے ایک شعر میں بیان کیا ہے :

بِنْتُ الْخَلِیْفَۃِ وَالْخَلِیْفَۃُ جَدُّھَا                                                                                                                                                اُخْتُ الْخَلَائِفِ وَالْخَلِیْفَۃُ زَوْجُھَا

یعنی : وہ ایک خلیفہ (یعنی عبدالملک) کی بیٹی تھی، اس کا دادا(یعنی مروان) بھی خلیفہ تھا، وہ خلفاء (یعنی ولیدبن عبدالملک، سلیمان بن عبدالملک، اور یزید بن عبدالملک) کی بہن تھی اور اس کے شوہر (یعنی عمر بن عبدالعزیز) بھی خلیفہ تھے ۔ (تاریخ الخلفاء، ص۱۹۶)

اَخراجات کی کیفیت

            صدرُ الافاضل حضرت مولانا سیدمحمد نعیم الدین مُراد آبادی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الہادی  تفسیر خزائن العرفان میں لکھتے ہیں :خلیفہ عبدالملک بن مَروان نے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز سے اپنی بیٹی بیاہتے وَقت خرچ کا حال دریافت کیا تو جواب دیا: ’’نیکی دو بدیوں کے درمیان ہے ۔ ‘‘(سیرت ابن جوزی ص۳۶) اِس سے مراد یہ تھی کہ خرچ میں اِعتدال نیکی ہے اور وہ اِسراف و اِقتار( یعنی فضول خرچی اور تنگی) کے درمیان ہے جو دونوں بدیاں ہیں ۔ اس سے عبدالملک نے پہچان لیا کہ وہ سورۂ فرقان کی آیت 67کے اِس مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہیں :

وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا(۶۷) (پ۱۹، الفرقان :۶۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں نہ حد سے بڑھیں اور نہ تنگی کریں اور ان دونوں کے بیچ اعتدال پر رہیں ۔ (خزائن العرفان ، تحت الاٰیۃ ۶۷)

اَزواج و اولاد

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیزنے کل تین شادیاں کیں بقیہ دوبیویوں کے نام لمیس بنت علی بن حارث اوراُمِ عثمان بنتِ شعیب بن زِیّان ہیں اور آپ کی ایک کنیز اُمُّ الوَلَد[1]؎  تھی ۔ اِن چاروں میں ہر ایک سے اولاد پیدا ہوئی، کنیزسے 7 بیٹے یعنی عبدالملک، وَلید، عاصِم، یزید، عبداللّٰہ، عبدالعزیز، زِیّان اور 2بیٹیاں اَمینہ اور اُم عبداللّٰہ پیدا ہوئیں ۔ ’’ اُمِّ عثمان ‘‘سے صرف ایک بیٹا ابراہیم پیدا ہوا، دو بیٹے عبداللّٰہ اوربکر اوربیٹی ام عمار’’ لَمیس بنت علی ‘‘کے بطن سے تھے اور بقیہ اولاد یعنی اسحق ، یعقوب اورموسیٰ ، ’’ فاطمہ بنت عبدالملک ‘‘کے بطن سے تھی ۔ یوں آپ رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ کی مجموعی اولاد 16تھی جن میں 14لڑکے اور 2لڑکیاں تھیں ۔ (سیرت ابن جوزی ص۳۱۵ ملتقطاً)

اولاد کی تربیت

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز نے اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت کا نہایت عمدہ انتظام کیا ، چنانچہ جلیل القدر محدِّث حضرتِ سیِّدُنا صالح بن کَیسان   علیہ رحمۃُ الحنّانجو آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کے بھی استاذِ محترم تھے ، ان کو اپنی اولاد کا اَتالیق (یعنی نگران استاذ) مقرر کیا ۔ (التحفۃ اللطیفۃ فی تاریخ المدینۃ الشریفۃ، حرف الصاد ، ج۱ ص۳۰۴ )  علاوہ ازیں آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کے آزاد کردہ غلام سہل بھی اولادکی دیکھ بھال پر مامور تھے ۔ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز ان کو بہترین تعلیم و تربیت دینے پر خود بھی متوجہ کرتے رہتے تھے ، چُنانچہ ایک بار انہیں خط میں لکھا :

فکرِ تربیت اولاد پر مشتمل ایک مکتوب

            میں نے بہت سوچ سمجھ کر تمہیں اپنی اولاد کی تعلیم وتربیت کے لیے منتخب کیا ہے ، ان کو تَرکِ صحبت کی طرف  توجُّہ دلاؤ کہ وہ غفلت پیدا کرتی ہے ، انہیں کم ہنسنے دو کہ زیادہ ہنسنا دل کو مُردہ کردیتا ہے ، تمہاری کوشِشوں کے نتیجے میں ایک اہم بات جو وہ سیکھیں وہ یہ ہے کہ انہیں گانے باجے کی طرف سے نفرت ہو کیونکہ گانا سننا دل میں اسی طرح نِفاق پیدا کرتا ہے جس طرح پانی سے گھاس اُگتا ہے ، میرے بیٹوں میں سے ہر ایک کے جَدوَل میں یہ بھی ہو کہ وہ قراٰن مجیدکھولے اور نہایت اِحتیاط کے ساتھ اس کی قِرائَ ت کرے ، جب اس سے فارِغ ہوجائے تو ہاتھ میں تیر و کمان لے کر برہنہ پا (یعنی ننگے پاؤں ) نکل جائے اور سات تیر چلاکر نشانہ بازی کی مَشق کرے ، پھر قَیلُولہ(یعنی دوپہر کا آرام) کرنے کے لیے واپس آئے کیونکہ حضرتِ سیِّدُناابنِ مسعود رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ  فرماتے ہیں : ’’ قَیلُولہ کرو اس لئے کہ شیطان قَیلُولہ نہیں کرتا ۔ ‘‘(سیرت ابن جوزی ص۲۹۷)

بیٹے کے نام نصیحت آموز خط

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز براہِ راست اپنی اولاد کو بھی تربیت ونصیحت کے مَدَنی پھولوں سے نوازتے رہتے تھے ، چنانچہ اپنے بیٹے کے نام ایک خط میں لکھا: تم اپنے آپ اوراپنے والد پراللّٰہ تعالیٰ کے اِحسانات کو یاد کرو، پھر اپنے باپ کی ان کاموں میں مددکروجن پراسے قدرت حاصل ہے اوراس معاملہ میں بھی مددکروجس کے بارے میں تم یہ سمجھتے ہو کہ میراباپ ان کواَنجام دینے سے عاجِزہے ۔ تم اپنی جان، صحت اورجوانی کی پوری رعایت رکھو، اگرتم سے ہوسکے تو اپنی زبان تَحمِیدوتسبیح کی صورت میں اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے ذِکر سے تَر رکھو ، اس لئے کہ تمہاری اچھی باتوں میں سے سب سے اچھی بات اللّٰہتعالیٰ کی حمداوراس کاذِکرہے ۔ جوشخص جنت کی رَغبَت رکھتاہواورجہنم سے بھاگتاہوتوایسی حالت والے آدمی کی توبہ قبول ہوتی ہے اس کے گناہ معاف کئے جاتے ہیں ۔ مدّتِ مقررہ (یعنی موت) کے آنے سے پہلے اورعمل کے خَتم ہونے سے پہلے اوراللّٰہعَزَّوَجَلَّ جن واِنس کوان کے اعمال کابدلہ دینے سے پہلے ، اللّٰہتعالیٰ انہیں اُن کے اعمال کابدلہ دے گاایسی جگہ جہاں فِدیہ قبول نہیں کیاجائے گااورجہاں معذرت نَفع مندنہیں ہوگی اور جہاں پوشیدہ اُمور ظاہر ہوجائیں گے ، لوگ اپنے اعمال کابدلہ لے کرلَوٹیں گے اورمتفرق ہوکراپنے اپنے مقامات کی طرف جائیں گے ، پس اس آدمی کے لئے خوش خبری ہے جس نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی اِطاعت کی اوراس آدمی کے لئے ہلاکت ہے جس نے اللّٰہتعالیٰ کی نافرمانی کی، پس اگراللّٰہ



[1]    اُمُّ الْوَلَد اس کنیز کو کہتے ہیں جس کے ہاں بچہ پیدا ہوا اور مولیٰ(یعنی اس کے مالک) نے اقرار کیا کہ یہ میرا ہی بچہ ہے ۔ (بہارِ شریعت ، ج ۲، حصہ ۹، ص ۲۹۴)



Total Pages: 139

Go To