Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

بیان نمبر5:

نیکی کی دعوت

           شیخِ طریقت، امیر ِاہلسنّت، بانیء     دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے رسالہ  ’’  قضا نمازوں کا طریقہ            ‘‘  میں درود شریف کے متعلق حدیثِ پاک نقل فرماتے ہیں کہ دو جہاں کے سلطان ،  سرورِ ذیشان صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ مغفرت نشان ہے :  ’’ مجھ پر دُرودِ پاک پڑھنا پل صراط پر نور ہے جو روزِ جمعہ مجھ پر اَسّی بار دُرودِ پاک پڑھے اُس کے اَسّی سال کے گناہ معاف ہو جائیں گے ۔ ‘‘ (الجامع الصغیر للسیوطی، الحدیث:۵۱۹۱،ص۳۲۰)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْبِ   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدٍ

نوجوان راہِ راست پر آگیا

            حضرتِ  سیِّدُنا ابراھیم بن اَدھَم علَیہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الاکرَم کی خدمتِ سراپا

 عظمت میں ایک شخص حاضِر ہوا اورعرض کی: عالیجاہ !  مجھ سے بَہُت گناہ سر زد ہوتے ہیں ،  آپ  َرَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ مجھے گناہوں کا علاج تجویز فرمائیے ۔

            آپ رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے پہلی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ’’ جب گناہ کرنے کا پکّا ارادہ ہو جائے تو  اللہ    عَزَّوَجَلَّکا رِزق کھانا چھوڑ دو ‘‘  اُس شخص نے حیرت سے عرض کیا حضرت !  آپ کیسی نصیحت فرما رہے ہیں !  یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟  جبکہ رَزَّاق عزَّوَجَلَّ  وُہی ہے ،  تو میں اسکی روزی چھوڑکربھلا کس کی کھاؤنگا ؟ آپ رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ارشاد فرمایا:  ’’ دیکھو !  کتنی بُری بات ہے کہ جس پَروَردگار عَزَّوَجَلَّکی روزی کھاؤ اُسی کی  نافرمانی بھی کرتے رہو۔ ‘‘  

             پھر آپ رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے دوسری نصیحت فرمائی :  ’’ جب بھی گناہ کا ارادہ ہو جائے تو  اللہ    عَزَّوَجَلَّکے مُلک سے باہَر نکل جاو، ‘‘  اس نے عرض کی حُضُور!  یہ بھی کیسے ہو سکتا ہے؟ تمام مشرِق مغرِب، شِمال جُنوب، دائیں بائیں ،  اوپر نیچے الغَرَض جِدھر جاؤں اُدھر  اللہ    عَزَّوَجَلَّہی کا مُلک پاؤں ۔  اللہ    عَزَّوَجَلَّکے مُلک سے باہَر نکلنے کی کوئی صورت ہی نہیں ۔ آپ رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ارشاد فرمایا ،  ’’ دیکھو ! کتنی بُری بات ہے کہ  اللہ    عَزَّوَجَلَّکے مُلک میں بھی رہواور پھر اُس کی نافرمانی بھی کرو ۔ ‘‘  

          تیسری نصیحت آپ رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے یہ ارشاد فرمائی : ’’ جب پُختہ ارادہ ہو جائے کہ بس اب گناہ کر ہی ڈالنا ہے تو کر لو لیکن اپنے آپ کو اتنا چُھپالو کہ  اللہ    عَزَّوَجَلَّدیکھ نہ سکے۔  ‘‘ اُس نے حیرت سے عرض کیا: حُضُور !  یہ کیونکر ممکِن ہے ؟  کہ  اللہ    عَزَّوَجَلَّ مجھے دیکھ نہ سکے وہ تو دلوں کے احوال سے بھی باخبر ہے۔ تو آپ رَحِمَہُ اللّٰہُ تعالٰینے ارشاد فرمایا:  ’’ دیکھو !  کتنی بُری بات ہے کہ جب تم  اللہ   عَزَّوَجَلَّکو سَمیع و بَصیر بھی تسلیم کرتے ہو اور یہ بھی یقین کے ساتھ کہہ رہے ہو کہ  اللہ   عَزَّوَجَلَّ ہر لمحے مجھے دیکھ رہا ہے مگر پھر بھی گناہ کئے جا رہے ہو۔ ‘‘

             چوتھی نصیحت یہ ارشاد فرمائی:  ’’ جب مَلکُ الْمَوْت سَیِّدُناعزرائیل علیہ السلام تمہاری روح قبض کرنے کیلئے تشریف لائیں تو اُن سے کہہ دینا کہ تھوڑی سی مُہْلَت دے دیجئے کہ میں توبہ کرلوں ۔ ‘‘  اُس شخص نے عرض کی:حُضُور !  میری کیا اَوقات اور میری سُنے کون ؟  موت کا وقت مقرّرہے اور مجھے ایک لمحہ بھی مُہلَت نہیں مل سکے گی فورًا میری رُوح قبض کر لی جائیگی ۔ آپ رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا:  ’’ جب تم یہ جانتے ہو کہ میں بے اختیار ہوں اور توبہ کی مُہْلَت حاصل نہیں کر سکتا تو فی الحال جو وقت تمہارے پاس ہے اُسی کو غنیمت جانتے ہوئے مَلَکُ الْمَوْت سیِّدُنا عزرائیل علیہ السَّلام کی تشریف آوَری سے پہلے پہلے توبہ کیوں نہیں کر لیتے؟  ‘‘

             پھر آپ رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے پا نچویں نصیحت یہ فرمائی : ’’ جب تمہاری موت واقِع ہو جائے اور قبر میں مُنکَر نکِیر تشریف لے آئیں تواُنکو قبر سے ہٹا دینا ۔ ‘‘   اُس نے عرض کی: عالیجاہ ! یہ کیافرما رہے ہیں ؟ میں انہیں کیسے ہٹا سکوں گا ؟ مجھ میں اتنی طاقت کہاں ؟  آپ رَحِمَہُ اللّٰہُ تعالٰینے ارشاد فرمایا: ’’  جب تم نکِیرَین کو ہٹا نہیں سکتے تو اُن کے سُوالات کے جوابات دینے کی تیّاری ابھی سے کیوں شُروع نہیں کر دیتے ؟  ‘‘  

            چھٹی اور آخِری نصیحتکرتے ہوئے آپ رَحِمَہُ اللّٰہُ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: ’’  اگر قِیامت کے دن تمہیں جہنَّم کا حکم سنایا جائے توکہہ دینا کہ میں نہیں جاتا۔  ‘‘  اُس نے عرض کی: حُضُور ! وہاں تو گھسیٹ کر دوزخ میں ڈال دیا جائے گا تو آپ رَحِمَہُ اللّٰہُ تعالٰی نے ارشاد فرمایا : ’’  جب تمہارا یہ حال ہے کہ تم  اللہ    عَزَّوَجَلَّکی روزی کھانے سے بھی باز نہیں آسکتے ،  اُس کے مُلک سے باہَر بھی نہیں نکل سکتے ،  اُس سے نظر بھی نہیں بچا سکتے ،  مُنکَرنکِیرکو بھی نہیں ہٹا سکتے اور جہنَّم کے عذاب کا اگر حکم ہو جائے تواُسے بھی نہیں ٹال سکتے تو پھر گناہ کرنا ہی چھوڑ دو تاکہ ان تمام مصائب سے محفوظ رَہ سکو۔  ‘‘  اُس شخص پر سیِّدُنا ابراھیَم بن اد ھم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الاکرم کے تجویز کردہ گُناہوں کے عِلاج کے ان چھ نصیحت آموز مدنی پھولوں کی خوشبوؤں نے بَہُت اثر کیا ، وہ زار وقطار رونے لگا اور اُسی وقت اُس نے اپنے تمام گناہوں سے سچّی توبہ کرلی اور مرتے دم تک توبہ پر قائم رہا۔ (مُلَخَّص از تذکرۃالاولیاء ص ۱۰۰)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے بزرگان دین رَحِمھُمُ اللّٰہُ تعالٰیکے نقش قدم پر چلتے ہوئے نیکی کی دعوت کو عام کریں ۔

            نیکی کی دعوت کی برکت سے وہ اسلامی بھائی جو نمازوں ،  مسجدوں ،  نیکیوں اور سنتوں سے دورہیں اُن کونیکی کی دعوت پیش کرتے ہوئے نمازیں پڑھنے،مسجدوں کو آباد کرنے، سنتوں اور نیکیوں کو اختیار کرنے کا ذہن دیں ۔

نیک شخص بھی عذاب میں

سرکارِ مدینہصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کا فرمانِ عبرت نشان ہے:  اللہ  عَزَّوَجَلَّ نے حضرت جبرئیل عَلیہ السلام کو حکم فرمایا : فلاں شہر کو اس کے رہنے والوں کے ساتھ زیرو زبر کردو،حضرت



Total Pages: 194

Go To