Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

پر (لوگوں کو) نصیحتیں کرنے چلتے ہیں ۔ ‘‘ حضور سراپا نُور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی خِدمتِ سراپا رَحمت میں عرض کیا گیا وہ کِس طرح لوگوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کا محبوب بنادیتے ہیں ؟ اِرشاد فرمایا: ’’  وہ لوگوں کو اللہ    عَزَّوَجَلَّکی محبوب باتوں کا حکم دیتے ہیں اور اللہ   عَزَّوَجَلَّ کی ناپسندیدہ باتوں سے منع کرتے ہیں ،  پس جب لوگ ان کی اطاعت کریں تو اللہ   عَزَّوَجَلَّ اِن اطاعت کرنے والوں کو بھی اپنا محبوب بنالے گا۔ ‘‘ (شعب الایمان للبیھقی، الباب العاشر باب فی محبۃ اللّٰہ عزوجل،معنی المحبۃ، الحدیث:۴۰۹، ج۱،ص۳۶۷)

سرخ اونٹوں سے بہتر

 نبیِّ حاشِر،رسولِ صابِر و شاکِر، محبوبِ ربِّ قادِرصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا:  ’’ اگر  اللہ   عَزَّوَجَلَّ  تمہارے ذَرِیعے کسی ایک شخص کوہدایت عطا فرمائے تو یہ تمہارے لئے اس سے اچھاہے کہ تمہارے پاس سُرخ اُونٹ ہوں ۔ ‘‘ (صَحیح مُسلِم  ص۱۳۱۱ حدیث ۲۴۰۶)

             حضرت علّامہ یحییٰ بن شرف نَوَوِی  علیہ رَحمَۃُ اللّٰہِ القَوِی اِس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :    سُرخ اونٹ اہلِ عرب کا بیش قیمت مال سمجھا جاتا تھا ، اس لئے ضربُ المثل کے طور پر اونٹوں کا ذکر کیا گیا ۔اُخروی اُمور کا دنیوی دولت سے تشبیہ دینا صرف سمجھانے کے لئے ہے ورنہ تو ہمیشہ باقی رہنے والی آخرت کا ایک ذرہ بھی دنیا اور اس جیسی جتنی دنیائیں تصور کی جاسکیں ، اُن سب سے بہتر ہے ۔(شَرح مُسلِم لِلنَّوَوِی ج۱۵ ص۱۷۸ )

نیکی کی ترغیب دینے کا فا ئدہ

          سرکارِ نامدار،مدینے کے تاجدار صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا: ’’ نیکی کی راہ دکھانے والانیکی کرنے والے کی طرح ہے۔ ‘‘  (سُنَنِ تِرمِذی ج۴ ص۳۰۵ حدیث ۲۶۷۹)

          مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  ت مفتی احمد یار خان    عَلَیْہِ رَحمَۃُ الحَنَّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں :یعنی نیکی کرنے والا ، کرانے والا، بتانے والا(اور) مشورہ دینے والا سب ثواب کے مستحق ہیں ۔(مراٰۃالمناجیح ج۱ص۱۸۳))

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  جہاں نیکی کی دعوت دینے کے فضائل ہیں وہیں اسے چھوڑ دینے کے نقصانات بھی ہیں ،  چُنانچِہ

دُعا قبول نہ ہوگی

          سرکارِ مدینہ، سُرورِ قلب وسینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ عالی شان ہے:  ’’ قسم ہے اُس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یا تو تم اچھی بات کا حکم کرو گے ا ور برُی بات سے منع کرو گے یا اللّٰہ تعالٰی تم پر جلد اپنا عذاب بھیجے گا پھر دُعا کرو گے اور تمہاری دُعا قبول نہ ہوگی۔ ‘‘ (سنن الترمذیج۴ص۶۹حدیث ۲۱۷۶)

          مُفَسّرِشہیر حَکِیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان     عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں :  اَمْر بِالْمعْرُوْف وَنَہْی عَنِ الْمُنْکَر (یعنی بھلائی کا حکم دینے اور بُرائی سے منع کرنے) کی ذمہ داری سے پہلو تہی کتنا بڑ ا جرم ہے اس حدیث میں نہایت وضاحت کے ساتھ اس کا بیان کیا گیا۔

            رسولِ اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے فرمایا : ’’ یا تو تمہیں یہ فریضہ انجام دینا ہوگا یا اللّٰہ تعالٰی کے عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس کے بعد اگر دعا بھی کرو گے تو قبول نہ ہوگی ‘‘  یہ نہایت سخت قسم کی وعید ہے یعنی جب تک تم اپنی کوتاہی کا ازالہ نہیں کرو گے اور اللّٰہ تعالٰی سے معافی نہیں مانگو گے تمہاری کوئی دعا قبول نہ ہوگی۔ (مراٰۃالمناجیح ج۶ص۵۰۵)

آہ !  مُسلمان کی بَربادی

            آہ !  آج دُنیا میں مُسلمانوں کی جو حالت ہے وہ کسی سے مخفی نہیں ،  ہر طرف ہی بے عملی کا دور دورہ ہے، کوئی کسی کو ٹوکنے والا نظر نہیں آتا، مسلمان عملی طور پر تنزلی کے عمیق گڑھے کی طرف تیزی سے گرتا چلا جارہا ہے اور اپنے شَعائر تک بھُولتا چلا جارہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج ہماری مسجدیں ویران اور برائی کے اڈے آباد ہیں ۔

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  ہم نیکی کی دعوت کے ذریعے برائیوں کے بڑھتے ہوئے سیلاب کو روکنے کی کوشش تو کر سکتے ہیں ۔

             ابھی دُعا کے بعد  اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ مسجد سے باہر جاکر نیکی کی دعوت پیش کی جائے گی آپ بھی اس نیکی کی دعوت میں ہمارے ساتھ شرکت فرمائیں ۔ اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ڈھیروں نیکیاں حاصل ہوں گی۔

            علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت میں شرکت کی سعادت حاصل کرنے والے اسلامی بھائی میرے سیدھے ہاتھ کی طرف تشریف لے آئیں اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت کے آداب بیان کئے جائیں گے اور جو اسلامی بھائی باہر نہیں جا سکتے وہ مسجد ہی میں تشریف رکھیں کہ مسجد میں بھی سنتوں بھرے درس کا سلسلہ جاری رہے گا۔ درس و بیان کے ثواب کا بھی کیا کہنا !

جَنَّت کی بشارت

          سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا: ’’ جو شخص میری اُمت تک کوئی اسلامی بات پہنچائے تاکہ اس سے سُنت قائم کی جائے یا اُس سے بدمذہبی دُور کی جائے تو وہ جنتی ہے ۔  ‘‘ (حلیۃ الاولیاء ج۱۰ص۴۵ حدیث۱۴۴۶۶)

                                                 اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے حضرتِ  سیِّدُنا موسیٰ کَلِیْمُ اللّٰہعَلَیہ السَّلامکی طرف وحی فرمائی:  ’’ بھلائی کی باتیں خود بھی سیکھو اور دوسروں کو بھی سکھاؤ ، میں بھلائی سیکھنے اور سکھانے والوں کی قبروں کو روشن فرماؤں گا تاکہ ان کو کسی قسم کی وَحشت نہ ہو۔  ‘‘ (حلیۃ الاولیاء،۳۲۵-کعب الاحبار،الحدیث:۷۶۲۲،ج۶،ص۵)

           اللہ   عَزَّوَجَلَّہمیں علم دین سیکھنے سکھانے، نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے کی توفیق عطا فر مائے ۔ اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامینصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

 



Total Pages: 194

Go To