Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

            پیارے اسلامی بھائیو! میدانِ محشر کے ہولناک وپُر آشوب ماحول میں  کہ جس دن عرشِ الہٰی کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہو گا، اللہ    عَزَّوَجَلَّاپنے جن مطیع وفرماں بردار خاص بندوں کوعرشِ عظیم کے سائے میں جگہ اور جنّت الفردوس میں داخلہ عطا فرمائے گا اُن خوش نصیبوں میں نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے والے افرادبھی شامل ہوں گے۔

مریض طبیب بن گیا

مشہور بزرگ عالمِ دین حضرتِ  سیِّدُنا شبلی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللّٰہ   القَوِی ایک مرتبہ بیمار ہوگئے لوگوں نے بغرضِ عِلاج شِفاخانہ میں داخل کرادیا۔ وزیر سلطنت علی بن عیسیٰ آپ کا بے حد معتقد تھا، اِس نے خلیفۂ بغداد سے درخواست کی کہ دربارِ شاہی کے رئیس الاطباء کو ان کے علاج کے لیے بھیجاجائے۔ چنانچہ خلیفہ نے رئیس الاطباء کو بھیج دیا جو نصرانی تھا۔ اُس نے بڑی دماغ سوزی اور توجہ سے آپ کا علاج کیامگر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ایک دن رئیس الاطباء نے کہا : اے شبلی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللّٰہ   القَوِی !  اگر مجھے یہ معلوم ہوجائے کہ میرے بدن کے کسی ٹکڑے میں آپ کا  علاج ہے تومجھے آپ کے لیے اپنا عضو کاٹ دینے میں بھی کوئی تردّد نہیں ہوگا۔حضرتِ  سیِّدُنا شبلی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللّٰہ   القَوِینے فرمایا کہ ’’  میرا علاج آپ کے ایک عضو کاٹنے سے کہیں زیادہ آسان ہے۔ اس نے پوچھا کہ وُہ کیا ہے؟  تو آپ نے فرمایاکہ ’’  تم اپنا زُنّار([1])  کاٹ ڈالو اور اِسلام قبول کرلو۔ مارے خُوشی کے میرا مرض جاتا رہے گا۔ طبیب نے فوراً زُنّار توڑ کر کلمہ پڑھ لیا اُسی وقت حضرتِ  سیِّدُنا شبلیعَلَیہِ رَحمَۃُ اللّٰہ   القَوِی تندرست ہو کر بستر بیماری سے اُٹھ کھڑے ہوئے ۔خلیفہ بغداد کو جب یہ خبر پہنچی تو اُس نے حیران ہو کر تعجب سے یہ کہا کہ میں نے تو طبیب کو مریض کے پاس بھیجا تھا، مجھے کیا خبر تھی کہ مریض کو طبیب کے پاس بھیج رہا ہوں ۔ ‘‘ (روح البیان ج ۲ ص ۴۶۱)

           دیکھا آپ نے علمائے حق خلقِ خُدا کی ہدایت اور اِشاعتِ اِسلام کے کتنے شیدائی تھے؟ کہ ایک غیر مسلم کے اِسلام قبول کرلینے سے اُنہیں اتنی عظیم مُسّرتِ قلبی حاصل ہوتی تھی کہ جذبۂ شادمانی سے رُوحانی طور پر اُن کی خطرناک بیماریاں دُور ہوجاتی تھیں ۔ ہمیں بھی اپنا ذہن بنانا چاہیے کہ ’’ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے۔ ‘‘ اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ     

            ابھی دعا کے بعد اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ مسجد سے باہر جاکر نیکی کی دعوتپیش  کی جائے گی آپ بھی ہمارے ساتھ شرکت فرمائیں ،  اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ڈھیروں نیکیاں حاصل ہوں گی، علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت میں شرکت کی سعادت حاصل کرنے والے اسلامی بھائی میرے سیدھے ہاتھ کی طرف تشریف لے آئیں ۔ اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت کے آداب بیان کئے جائیں گے اور جو اسلامی بھائی باہر نہیں جا سکتے وہ مسجد ہی میں تشریف رکھیں کہ مسجد میں بھی سنتوں بھرے درس کا سلسلہ جاری رہے گا۔

مسجدوں کے اوتاد

            نبی اکرم ،  نورِ مجسم ،  شاہِ بنی آدم ،  رسولِ محتشم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا:  ’’ بے شک کچھ لوگ مسجدوں کے اَوتاد ( یعنی عبادات کیلئے مسجد میں اکثر وقت گزارنے والے) ہیں ، فرشتے ان کے ہم نشین ہوتے ہیں اگر وہ موجود نہ ہوں تو فرشتے انہیں تلاش کرتے، بیمار ہوجائیں تو ان کی عیادت کرتے اور مشکل میں ان کی مدد کرتے ہیں ۔  ‘‘

(المسند للامام احمد بن حنبل، مسند ابی ھریرۃ،الحدیث:۹۴۲۴،ج۳،ص۳۹۹)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب              صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 اللہ     عَزَّوَجَلَّہمیں علم دین سیکھنے سکھانے، نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے کی توفیق عطا فر مائے ۔  اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامینصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

٭٭٭٭٭

بیان نمبر4:

نیکی کی دعوت

          شیخ ِطریقت، امیر ِاہل ِسنت، بانیء دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ العَالِیَہ  ’’  رسائل ِعطاریہ ‘‘  (حصہ دوم)کے صَفْحَہ 12 پر حدیث ِپاک نقل فرماتے ہیں : ’’  جس نے مجھ پر ایک بار دُرود پاک پڑھا اللّٰہ عزَّوَجَلَّ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے، دس گناہ مٹاتا اور دس درجات بلند فرماتا ہے۔ ‘‘

   (سنن النسائی،کتاب السہو،باب الفضل فی الصلاۃ۔۔۔الخ،الحدیث:۱۲۹۴،ص۲۲۲)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب               صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

قابلِ رشک لوگ

      بے چین دِلوں کے چَین،رحمتِ دارین، تاجدارِ حَرَمَین، سرورِ کَونَین ،  نانائے  حَسَنَینصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ کیا میں تمہیں ایسے لوگوں کے بارے میں خَبر نہ دوں جو نہ انبیاء عَلَیْہُمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلاممیں سے ہیں نہ شہداء میں سے لیکن قیامت والے دن انبیاء عَلَیْہُمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام اور شہداء اُن کے مقام کو دیکھ کر رَشک کریں گے، وہ لوگ نُور کے منبروں پر بُلند ہوں گے۔ صحابۂ کرامعَلَیْہُمُ الرِّضْوان نے عرض کیا:وہ کون لوگ ہوں گے؟  ارشاد فرمایا: ’’  یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ  عَزَّوَجَلَّ  کے بندوں کو اللہ  عَزَّوَجَلَّکا محبوب بندہ بنادیتے ہیں ۔ اور وہ  زمین



[1]     زنار: وہ دھاگہ یازنجیرجو عیسائی،مجسوسی اوریہودی کمر میںباندھتےہیں۔



Total Pages: 194

Go To