Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

نمازیں پڑھنے،مسجدوں کو آباد کرنے،سنتوں اور نیکیوں کو اختیار کرنے کا ذہن دیں ۔

            نیکی کی دعوت کو عام کرنے کے لئے ہر اسلامی بھائی اپنا یہ ذہن بنائے کہ ’’ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے ‘‘ اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ

            ابھی دعا کے بعداِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ مسجد سے باہر جاکرلوگوں کو نیکی کی دعوت پیش کی جائے گی آپ بھی ہمارے ساتھ شرکت فرمائیں ۔اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ڈھیروں نیکیاں حاصل ہوں گی۔

             علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت میں شرکت کی سعادت حاصل کرنے والے اسلامی بھائی میرے سیدھے ہاتھ کی طرف تشریف لے آئیں ۔

                        اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت کے آداب بیان کئے جائیں گے اور جو اسلامی بھائی باہر نہیں جا سکتے وہ مسجد ہی میں تشریف رکھیں کہ مسجد میں بھی سنتوں بھرے درس کا سلسلہ جاری رہے گا۔  اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ

جنت کی کیاریاں

          درس و بیان کے ثواب کا بھی کیا کہنا ! حضرت ِسیدنا ابن عباسرَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُم ا سے روایت ہے کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدمصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشادفرمایا : ’’  جب تم جنت کی کیا ریوں سے گزراکرو تو اس میں سے کچھ پھول چن لیا کرو۔ ‘‘  صحابہ کرام  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْھُمْ  نے عرض کیا  ’’ یارسولَ  اللّٰہ   صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیکَ وَسلَّم ! جنت کی کیاریاں کونسی ہیں ؟  ‘‘ فرمایا: ’’  علم کی محفلیں ۔ ‘‘  (المعجم الکبیرللطبرانی، الحدیث:۱۱۱۵۸، ج ۱۱، ص ۷۸)

             اللہ عَزَّوَجَلَّ َ ہمیں علم دین سیکھنے سکھانے، نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے کی توفیق عطا فر مائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭٭

بیان نمبر3:

 نیکی کی دعوت

          شیخ ِطریقت، امیر ِاہل ِسنت، بانیء     دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَا    تُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے رسالہ  ’’ قیامت کا امتحان ‘‘  میں درود شریف کے متعلق حدیث پاک بیان فرماتے ہیں کہ حضرتِ  سیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ شفیع ُا    لمُذْ نِبین، رحمۃٌ     لِّلْعالمین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا: ’’  جس نے صبح و شام مجھ پر دس دس بار دُرُودِ پاک پڑھا بروزِ قیامت اُس کو میری شفاعت نصیب ہوگی۔ ‘‘ (مجمع الزوائد ، کتاب الاذکار، باب مایقول اذا اصبح۔۔۔الخ، الحدیث:۱۷۰۲۲، ج۱۰، ص۱۶۳)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                   صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

بھلائی کا دروازہ

            حضرت سیّدنا انس بن مالک      رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’  کچھ لوگ بھلائی کی کنجی اور برائی کا تالا ہوتے ہیں جبکہ کچھ لوگ برائی کی چابیاں اور بھلائی کے لئے تالا ہوتے ہیں خوشخبری ہے ان لوگوں کے لئے جن کے ہاتھوں بھلائیوں کافیضان ہو اور بربادی ہے ان کے لئے جن کے ہاتھوں برائیوں کے دروازے کھولے گئے۔ ‘‘ (ابن ماجہ ،  رقم الحدیث:  ۲۳۷، ج۱،  ص۱۵۵)

           یقینا نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے کا عظیم الشان کام بے شمار فضائل وبرکات کا سبب ہے لہٰذا ہمیں چاہئے کہ تن ، من، دھن سے ان فضائل کو پانے  کی سعی میں مشغول ہوجائیں ۔ ایک اور فضیلت سنئے اور خوشی سے جھومئے ، چنانچِہ

بہترین کون؟

            صاحبِ قراٰنِ مبین،محبوبِ ربُّ العالَمِین، جنابِ صادق و اٰمینصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَایک مرتبہ منبر اقدس پر جلوہ فرما تھے کہ ایک صحابی رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی : ’’  یارَسُولَ اللّٰہصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! لوگوں میں سے سب سے اچھا کون ہے؟  ‘‘  فرمایا: ’’  لوگوں میں سے وہ شخص سب سے اچھا ہے جو کثرت سے قراٰن حکیم کی تلاوت کرے،زیادہ متقی ہو،سب سے زیادہ نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے والا ہو اور سب سے زیادہ صلۂ رحمی کرنے والا ہو ۔(المسند  للامام احمد بن حنبل،مسند القبائل،حدیث درۃ بنت أبی لھب،الحدیث:۲۷۵۰۴، ج۱۰، ص۴۰۲)

عرش کاسا   یہ کس کو ملے گا

             اللہ عَزَّوَجَلََّلَّ نے حضرتِ  سیِّدُنا موسیٰ کلیمُ اللّٰہعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلام کی طرف وَحی فرمائی کہ جس نے بھلائی کا حکم دیاور بُرائی سے منع کیا اورلوگوں کو میری اِطاعت کی طرف بلایا قیامت کے دن میرے عرش کے سائے میں ہو گا۔(حِلْیَۃُ الْاولیاء ج۶ ص۳۶ رقم۷۷۱۶)

جنَّتُ الفردوس کس کے لئے؟

          حضرتِ  سیِّدُنا کعبُ الاحبار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنہکا اِرشَاد ہے : ’’  جنتالفردوس خاص اُس شخص کے لیے ہے جو اَمْر بِالْمعْرُوْف وَنَہْی عَنِ الْمُنْکَر(یعنی نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع ) کرے۔ ‘‘ (تَنبِیہُ الْمُغتَرِّیْن ص ۲۳۶)

 



Total Pages: 194

Go To