Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

اللہ   عَزَّوَجَلَّ کی حدودکوقائم رکھنے والوں اوراُن میں مُبتَلا ہونے(یعنی توڑنے) والوں کی مثال اُن لوگوں جیسی ہے جنہوں نے جہاز میں قرعہ اندازی کی ، بعض کے حصّے میں نیچے والا حصّہ آیا اوربعض کے حصّے میں اُوپر والا۔ نیچے والوں کو پانی کی ضرورت کے لئے اُوپر والوں کے پاس جانا پڑتا،وہ ان کی وجہ سے زحمت میں پڑجاتے۔پس نچلے حصّے والوں میں سے ایک شخص نے کلہاڑی لی اور اپنے حصّے میں سوراخ کرنے لگا(تاکہ پانی تک رسائی ہو) ایسی صورت میں اگر اوپر والے اس (سوراخ کرنے والے) کو(سوراخ کرنے سے) نہ روکیں ( اور یہ خیال کرلیں کہ وہ جانیں اُن کا کام، ہمیں ان سے کیا واسطہ) تواِس صورت میں سوراخ کرنے والا خود بھی غرق (یعنی ہلاک)ہوجائے گا اور دونوں فریق بھی ،  اور اگر وہ ان کاہاتھ روک دیں گے تو دونوں فریق ڈوبنے سے بچ جائیں گے اوروہ خود بھی۔‘‘(صَحیح بُخاری،حدیث۲۴۹۳و۲۶۸۶،ج۲ص۱۴۳و۲۰۸)

 ’’  یَا شیخ ،  اپنی اپنی دیکھ !  ‘‘ کی سوچ غلط ہے

مُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان فرماتے ہیں :اس حدیث شریف میں ایک مثال کے ذریعے برائی سے روکنے اور نیکی کا حکم دینے کی اہمیت کوواضح کیا گیا اور بتایا گیا کہ اگر یہ سمجھ کر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر(یعنی نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے ) کا فریضہ ترک کردیا جائے کہ برائی کرنے والا خود نقصان اٹھائے گا ہمارا کیا نقصان ہے ؟ تو یہ سوچ غلط ہے اس لیے کہ اُس کے گناہ کے اثرات تمام معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں اور جس طرح کشتی توڑنے والا اکیلا ہی نہیں ڈوبتا بلکہ وہ سب لوگ ڈوبتے ہیں جو کشتی میں سوار ہیں اسی طرح برائی کرنے والے چند افراد کا یہ جرم تمام معاشرے میں ناسور بن کر پھیلتا ہے۔ ‘‘  (مراۃ المناجیح ج۶ص۵۰۴)

رُعب جاتا رہے گا

حضرت اسماعیل بن عمر رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ،  میں نے ابو عبد الرحمن عمری رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ’’ تیرا اپنی ذات سے غفلت کرنا یہ ہے کہ تو اللّٰہ تعالٰی سے اعراض کرنے لگے ا س طرح کہ تو اللّٰہ تعالٰی کی ناراضگی کا سبب بننے والی کوئی بات دیکھے تو اس سے منہ پھیر لے اور نہ نیکی کی دعوت دے نہ برائی سے منع کرے، ا س شخص کے ڈر سے جو نہ تیرے نقصان کا مالک ہے نہ نفع کا ‘‘  اور میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ  ’’ جس نے مخلوق کے ڈر سے نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے منع کرنا چھوڑ دیا تو اس کی اطاعت کی عظمت ختم کر دی جائے گی یہاں تک کہ اگر وہ اپنی اولاد یا اپنے اہل خانہ و خدام کو حکم دے گا تو وہ اسے ہلکا جانیں گے۔ ‘‘  (الموسوعۃ لابن ابی دنیا، الامربالمعروف ونھی عن المنکر،ج۲،ص۱۹۷)

بُرائیوں سے نہ رُوکنے والا ہی اَب نیک سمجھا جانے لگا ہے!

میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو! بدقسمتی سے اب وہ دور آچکا ہے کہ سنتوں پر عمل کرنے والوں کے لیے زمین تنگ ہوتی چلی جارہی ہے اور خا ص کر نیکی کی دعوت کی سُنّت کو ادا کرنے والے کی لوگ طرح طرح سے دِل شِکنی کرتے ہیں ۔ کبھی اُس  کی آواز کا مذاق اُڑاتے ہیں تو کبھی اُس کے انداز گفتگو پر تنقید کرتے ہیں ۔

           افسوس  !  آج عزت تو اُس کی ہے جو لوگوں کی ہاں میں ہاں مِلائے اور شریف تو وہی سمجھا جاتا ہے جو دوسروں کو گُناہ کرنے دیا کرے اور اُن کی چاپلوسی کرتا پھرے، آج آپ کو بے شُمار  ’’ نیک صورت ‘‘  ایسے ملیں گے۔ جو مالدار فاسِقوں کی تعریف کرتے نہیں تھکتے بلکہ گُناہوں میں بھی اُن کی حوصلہ اَفزائی کرتے ہیں ،  ایسے خوشامد خور ہر گز ہر گز یہ نہیں چاہتے کہ وہ اُن لوگوں کی نافرمانیوں پر اُنہیں تنبیہ کرکے اُن کی ناراضگی مَول لیں ،  حضرتِ  سیِّدُنا فاروق اعظم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے تو پہلے ہی اِس کی پیش گوئی فرمادی تھی۔

             چُنانچہ حضرتِ  سیِّدُنا علاّمہ عبدالوہاب شعرانیقُدِّسَ سرُّہُ الرَّباّنیفرماتے ہیں :  ’’  امیر المؤمنین حضرتِ  سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :  ’’ عنقریب لوگوں پر ایک ایسا دَور آئے گا کہ اُن میں نیک وَہی سمجھا جائے گا جو نہ تواَمْر بِالْمعْرُوْفکرے اور نہ ہی کسی کو بُرائی سے روکے ،  پس لوگ کہیں گے: ہم نے تو اِس سے نیکی ہی نیکی دیکھی ہے ‘‘  کیوں کہ اُس نے کبھی     اللہ    عَزَّوَجَلَّ کے لیے غضب کیا ہی نہ ہوگا(اور لوگ تو اُس پر کیچڑ اُچھالتے ہیں جو نصیحت کی بات کرے) ۔  (تَنبِیہُ الْمُغتَرِّیْن ص ۲۳۶)

پیشاب میں خُون

حضرتِ  سیِّدُنا حفص بن حمید علیہ رَحمَۃُ اللّٰہ المَجِیدسے کسی نے کہاکہ حضرتِ  سیِّدُنا سفیان ثورِی   علیہ رَحمَۃُ اللّٰہ القویکو کس بات نے اِس اَعلیٰ درجے تک پہنچادیا حالانکہ اُن کے زمانے میں بہت سے لوگ ایسے تھے جو عِلم و عبادت میں اُن سے کم نہ تھے۔ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہنے فرمایا : ’’   اللہ    عَزَّوَجَلَّاُن پر رحم کرے، اُن کو حق کے معاملہ میں نافرمانوں کی رِعایت نہ کرنے ہی نے اعلیٰ درجہ تک پہنچایا ہے۔ بَسَا اوقات جب آپ رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کوئی بُرائی دیکھتے اور اُسے روک نہ سکتے تو آپ رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کو اِس قدر جلال آجاتا کہ آپ کے پیشاب میں خون آنے لگتا۔ (تَنبِیہُ الْمُغتَرِّیْن ص ۲۳۶)

برائی کو برائی سمجھنا ضروری ہے

امامُ الانصار ِوَ المہاجِرین ، مُحِبُّ الفُقَرائِ وَالْمَساکِین،جنابِ رحمۃٌ  لِّلْعٰلمینصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ حقیقت نشان ہے: ’’  جب زمین میں گُناہ کیا جائے تو جو وہاں موجود ہے مگر اُسے بُرا جانتا ہے وہ اُس کی مثل ہے جو وہاں نہیں ہے اور جو وہاں نہیں ہے مگر اُس پر راضی ہے وہ اُس کی مثل ہے جو وہاں حاضر ہے۔ ‘‘  (سُنَنِ ابی داود ج۴ ص۱۶۶حدیث۴۳۴۵)

            اس حدیث شریف میں برائی کو دل سے برا جاننے کی اہمیت کا ذکر ہوا کہ اگرچہ ایک شخص برائی کے ارتکاب کے وقت وہاں موجود نہ بھی ہو لیکن اس پر راضی ہو تو گویا وہ موجود تھا اور جو وہاں موجود ہو لیکن اس حرکت کو ناپسند کرے گویا وہ وہاں موجود ہی نہیں حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ رحمۃ اللّٰہ القوی فرماتے ہیں گویا حقیقی موجودگی اور عدمِ موجودگی دل کی ہوتی ہے جسم کی نہیں ۔(مراٰۃ المناجیح ج۶ ص۵۰۶)

            ہمیں چاہئے کہ نیکی کی دعوت کو عام کریں ۔نیکی کی دعوت کی برکت سے وہ اسلامی بھائی جو نمازوں ،  مسجدوں ،  نیکیوں اور سنتوں سے دورہیں اُن کو نیکی کی دعوت پیش کرتے ہوئے



Total Pages: 194

Go To