Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

اس کا پتا مجھے یہ بیان سن کر چلا ۔ جب میں نے اپنے گناہوں ‘ پھرناتواں بدن کی طرف نظر کی تو میری آنکھوں میں آنسو آگئے کہ میں پل صراط کیونکر پار کرسکوں گا ۔ چنانچہ میں نے اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ  کی نافرمانیوں سے توبہ کرکے سدھرنے کا پختہ ارادہ کرلیا ۔اَلْحَمْدُ للّٰہعَزَّوَجَلَّ  دعوت ِاسلامی کے سنتوں بھرے مدنی ماحول کی برکت سے سنت کے مطابق داڑھی شریف ، عمامہ اور سفید لباس میرے بدن کاحصہ بن چکے ہیں ۔

اَمْر بِالْمَعْرُوْف کی صورتیں

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ بات ذِہن نشین رکھیں ،  جب کوئی گُناہ کررہا ہو اور ہمیں یہ ظَنِّ غَالِب ہو کہ اگر منع کریں گے تو گُناہ کرنے والا گُناہ سے باز آجائے گا تو ہم پر یہ واجب و ضروری ہے کہ ہم اُس کو سمجھائیں ۔مَثَلاً کسی اِسلامی بھائی نے سونے یا کسی اور دھات کی زنجیر گلے میں پہن رکھی ہے اور ہمیں معلوم بھی ہے کہ یہ ناجائز کام ہے، اب اگر ہمارا خیال غالِب ہے کہ ہماری بات یہ مان لے گا تو ہم پر واجِب ہے کہ ہم اُس کو اَحْسَن طریقے پر اِس گناہ سے باز رہنے کی تلقین کریں ،  اگر ہم نہیں سمجھائیں گے تو واجب کا ترک ہوگا اور واجب کا ترک کرنا گناہ ہے۔

          چُنانچہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے      مکتبۃُ المد ینہ کی مطبوعہ 1234 صَفَحات پر مشتمل کتاب ،   ’’ بہارِ شریعت جلد سوم ‘‘ حصّہ 16 صَفْحَہ 615 پر  ’’ فتاویٰ عالمگیری ‘‘  کے حوالے سے مرقوم ہے: ’’    اَمْر بِالْمَعْرُوْف ‘‘ کی کئی صورتیں    ہیں : (1) اگر غالِب گُمان یہ ہے کہ ہم اُس سے کہیں گے تو وہ شخص بات مان جائے گا اور بُری بات سے باز آجائے گا تواَمر بِالْمَعْرُوْفواجب ہے۔ اب ہمیں اس سے رُکنا جائز نہیں اور(2) اگر گمان غالب یہ ہے کہ وہ طرح طرح کی تُہمت باندھے گا اور گالیاں دے گا تو ترک کرنا اَفضل ہے اور(3) اگر معلوم ہو کہ ہمیں مارے گا اور ہم صبر نہ کرسکیں گے یا اِس کی وجہ سے فتنہ وفساد پیدا ہوگا، آپس میں لڑائی ٹھَن جائے گی، جب بھی چھوڑنا اَفضل ہے، اور(4) اگر معلوم ہو کہ مجھے مارے گاتو صبر کرلوں گا تو جو ایسے شخص کو بُرے کام سے منع کرے تو یہ شخص مُجاہدہے ،  اور(5) اگر معلوم ہے کہ وہ مانے گا نہیں مگر نہ ہی مارے گا نہ گالیاں دے گا تو اُسے اِختیار ہے اور افضل یہ ہے کہ اَمَربَالْمَعْرُوْفکرے۔(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراھیۃ، الباب السابع عشر فی الغنائ۔۔۔الخ،ج۵،ص۳۵۲۔۳۵۳)

بہرحال اگر ہم بُرائی کو روک نہیں سکتے تو کم از کم دل میں بُرا تو جاننا ہی چاہئے ۔

          پیارے اسلامی بھائیو!  ہمیں اپنا ذہن بنانا چاہیے کہ ’’ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے  ‘‘ اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  !

            ابھی دُعا کے بعد اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ مسجد سے باہر جاکرلوگوں کو نیکی کی دعوت پیش کی جائے گی آپ بھی ہمارے ساتھ اس نیک کام میں شرکت فرمائیں ،  اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ڈھیروں نیکیاں حاصل ہوں گی، علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت میں شرکت کی سعادت حاصل کرنے والے اسلامی بھائی میرے سیدھے ہاتھ کی طرف تشریف لے آئیں ،    اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت کے آداب بیان کئے جائیں گے اور جو اسلامی بھائی باہَر نہیں جا سکتے وہ مسجد ہی میں تشریف رکھیں کہ مسجد میں بھی سنتوں بھرے درس کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نبی اکرم ،  نورِ مجسم ،  شاہِ بنی آدم ،  رسولِ محتشم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا:  ’’ بے شک کچھ لوگ مسجدوں کے اَوتاد ( یعنی عبادات کیلئے مسجد میں اکثر وقت گزارنے والے) ہیں ، فرشتے ان کے ہم نشین ہوتے ہیں اگر وہ موجود نہ ہوں تو فرشتے انہیں تلاش کرتے، بیمار ہوجائیں تو ان کی عیادت کرتے اور مشکل میں ان کی مدد کرتے ہیں ۔  ‘‘ (المسند للامام احمد بن حنبل،الحدیث: ۹۴۲۴،ج۳،ص۳۹۹)

            ایک اور حدیثِ پاک میں ہیکہ  ’’ جو شخص میری اُمت تک کوئی اسلامی بات پہنچائے تاکہ اس سے سُنت قائم کی جائے یا اُس سے بدمذہبی دُور کی جائے تو وہ جنتی ہے ۔  ‘‘  (حلیۃ الاولیاء ج۱۰ص۴۵ حدیث۱۴۴۶۶)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                   صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 اللہ    عَزَّوَجَلَّہمیں علم دین سیکھنے سکھانے، نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے کی توفیق عطا فر مائے ۔ اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامینصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

بیان نمبر2:

نیکی کی دعوت

          شیخ ِطریقت، امیر ِاہل ِسنت، بانیء دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال  محمد الیاس عطار قادری رضوی     دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے رسالہ  ’’  گانوں کے 35 کفریہ اشعار  ‘‘  میں درود شریف کے متعلق حدیث پاک نقل فرماتے ہیں کہ سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہ،باعثِ نُزولِ سکینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ برکت نشان ہے : اے لوگو ! بیشک تم میں سے قیامت کے دن اس کی دہشتوں اور حساب کتاب سے جلد نجات پانے والا وہ شخص ہوگا جس نے دنیا

میں مجھ پر بکثرت دُرُود شریف پڑھے ہوں گے۔(فردوس الاخبار للدیلمی، باب الیاء،الحدیث:۸۲۱۰،ج۲،ص۴۷۱)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب !             صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

بحری جہاز کے مسافر

          حضرتِ  سیِّدُنا نعمان بن بشیر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسولوں کے سالار،  نبیوں کے سردار،شفیعِ روزِ شمار، دو عالم کے مُختارصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کا فرمانِ مُشکبار ہے:  



Total Pages: 194

Go To