Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

والے جب باہم ملیں اور مُصَافَحَہکریں اور نبی صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم پر دُرُودِ پاک بھیجیں تو اُن کے جُدا ہونے سے پہلے دونوں کے اگلے پچھلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں ۔ (مسند ابی یعلٰی،مسند انس بن مالک،الحدیث:۲۹۵۱،ج۳،ص۹۵)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!         صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

پسندیدہ اعمال

            قبیلہخَثْعَم کا ایک آدمی بارگاہِ نبوت  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّممیں حاضِر ہوا، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم مکہ شریف میں تھے، کہنے لگا: ’’  آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم ہی ہیں جو اللہ   عَزَّوَجَلَّ کا رَسُول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں ؟  ‘‘  آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم نے اِرشاد فرمایا: ’’ ہاں  ‘‘  سائِل نے پوچھا: اللہ    عَزَّوَجَلَّکے یہاں سب سے زیادہ محبوب عَمل کیا ہے ؟  اِرشاد فرمایا: ’’      اللہ   عَزَّوَجَلَّ  پر ایمان لانا، ‘‘       پُوچھا، پھر کون سا ؟  اِرشاد ہوا: ’’ صلۂ رحمی کرنا ‘‘ (یعنی رشتہ داروں کے ساتھ حُسنِ سُلوک کرنا) عرض کیا، پھر کون سا ؟  اِرشاد فرمایا: ’’ بھلائی کا حکم دینا بُرائی سے روکنا۔ ‘‘ ( مَجْمَعُ الزَّوائِد ج ۸ ص۲۷۷حدیث ۱۳۴۵۴)

بُرائی کو کم از کم بُرا تو جانو

            سرکار مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ تم میں جو شخص بری بات دیکھے اسے اپنے ہاتھ سے بدل دے اور اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو زبان سے بدلے اور اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو دل سے (یعنی اسے دل سے برا جانے) اور یہ کمزور ایمان والا ہے۔(صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بیان کون النھی عن المنکر من الایمان۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۱۷۷، ص۶۸۸)

نیکی کی دعوت د ینا ہر شخص کی ذمہ داری ہے

          مفسرِ شہیر حکیم ُالامّت مفتی احمد یار خان علیہ رَحمَۃُ الحَنَّانفرماتے ہیں :  ’’ امر بالمعروف ہر شخض پر اس کے منصب کے حوالے سے اور حسب استطاعت واجب ہے اِس پر قرآن و سنت ناطق ہے اور اِجماعِ امت بھی ہے۔ ‘‘  ایک جگہ لکھتے ہیں : ’’ امر بالمعروف حکمرانوں ،  علماء ومشائخ بلکہ ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے اسے صرف ایک طبقہ تک محدود کردینا صحیح نہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اگر ہر شخص اس کو اپنی ذمہ داری سمجھے تو معاشرہ نیکیوں کا گہوار ہ بن سکتا ہے۔ ‘‘  مزید فرماتے ہیں :  ’’    بُرائی کو بدلنے کے لیے ہر طبقے کو اس کی طاقت کے مطابق ذمہ داری سونپی گئی کیونکہ اسلام میں کسی بھی انسان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دی جاتی ۔ اربابِ اقتدار، اساتذہ ، والدین وغیرہ جو اپنے ماتحتوں کو کنٹرول کرسکتے ہیں وہ قانون پر سختی سے عمل کراکے اور مخالفت کی صورت میں سزا دے کر برائی کا خاتمہ کرسکتے ہیں ۔مبلغینِ اسلام، علماء و مشائخ ، ادیب و صحافی اور دیگر ذرائع ابلاغ مثلاً ریڈیو اور ٹی وی وغیرہ سے سبھی لوگ اپنی تقریروں تحریروں بلکہ شعراء اپنی نظموں کے ذریعے برائی کا قلع قمع کریں اور نیکی کوفروغ دیں ، بِلِسَانِہٖ (یعنی زبان سے نیکی کی دعوت پیش کرنے)کے تحت یہ تمام صورتیں آتی ہیں ۔ اور عام مسلمان جسے اقتدار کی کوئی صورت بھی حاصل نہیں اور نہ ہی وہ تحریر و تقریر کے ذریعے برائی کا خاتمہ کرسکتا ہے وہ دل سے اس برائی کو برا سمجھے اگرچہ یہ ایمان کا کمزور ترین مرتبہ ہے کیونکہ کوشش کرکے زبان سے روکنا چاہیے لیکن دل سے جب برا سمجھے گا تو یقیناً خود برائی کے قریب نہیں جائے گا اور اس طرح معاشرے کے بیشمار افراد خودبخود    را ہِ راست پرآجائیں گے۔ ‘‘ (مراٰۃ المناجیح ج۶ ص۵۰۲ ،  مکتبہ اسلامیہ )

ہم نیکی کی دعوت کے عظیم کام کو کتنا وقت دیتے ہیں ؟

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!   نیکی کی دعوت عام کرنے کے لئے ہمارے دل میں کم از کم اتنی کُڑھن تو ہو جو بچے کو بیمار دیکھ کر یا گھر میں راشن نہ دیکھ کر ہوتی ہے ۔ اپنے روزمرّہ معمولات کا محاسبہ کیا جائے تو شاید یہ کیفیت ہو کہ ہم روزانہ تقریباً 8 گھنٹے سونے میں گزار دیتے ہیں ، ایک گھنٹہ تین وقت کے کھانے میں صرف ہوجاتا ہے ، نصف گھنٹہ استنجا خانے اورنصف دیگر حوائجِ زندگی کی نذر ہوجاتا ہے ۔ بقیہ 14گھنٹوں میں سے ہم کتنا وقت نیکی کی دعوت کے عظیم کام کو دیتے ہیں ، کبھی آپ نے سوچا؟  بلاشبہ نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے منع کرنا بہت اہم کام ہے ،  اگر اس کی بساط لپیٹ دی جائے توتباہی وبربادی کی طر ف ہمارا سفر مزید تیز ہوجائے گا ۔دُنیا کے کئی مسلمان ممالک جہاں پر نیکی کی دعوت عام کرنے کی باقاعدہ ترکیب نہیں ہے اور انفرادی طور پر بھی سستی پائی جاتی ہے ،  وہاں کے حالات ہمیں جھنجھوڑ دینے کے لئے کافی ہیں ۔ آہ!  آج دنیاکا ہرکام پوری ذمہ داری کے ساتھ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے مگر اس عظیم فریضے کو طاقِ نسیاں پر رکھ دیا جاتا ہے ، خدارا !  اس کی اہمیت کو سمجھنے کی کوشش کیجئے اورنیکی کی دعوت کی دھومیں مچانے کے لئے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوجائیے۔

اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّدعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول کی برکت سے لاکھوں  لاکھ مسلمان تائب ہوکر صلوٰۃ وسنت کی راہ پر گامزن ہوچکے ہیں ،  چُنانچہ

پُل صِراط کی د ہشت

 قصور(پنجاب،پاکستان)کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے  کہ بہت سے نوجوانوں کی طرح میں بھی متعدد اخلاقی برائیوں میں مبتلا تھا ۔ فلمیں ڈرامے دیکھنا،کھیل کود میں وقت برباد کرنا میرا محبوب مشغلہ تھا ۔ایک مرتبہ رمضان المبارک تشریف لایا تو مجھ گناہ گار کو بھی نمازوں کے لئے مسجد میں حاضری کی سعادت ملنے لگی ۔وہاں دعوتِ اسلامی کے ایک ذمہ دار اسلامی بھائی فیضانِ سنت سے درس دیتے تھے ۔درس کے بعد وہ بڑی ملنساری سے ملاقات کیا کرتے ، ان کا حسنِ اخلاق دیکھ کر میں بہت متأثر ہوا ۔بالخصوص اُن کا ’’ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ‘‘ کہنا کافی دیر تک میرے کانوں میں رس گھولتارہتا ۔ ایک دن وہ مجھے بڑے پُرتپاک انداز میں ملے اور جمعرات کو ہونے والے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت پیش کی ،  میں نے شرکت کی نیت کرلی ۔ جمعرات آنے سے پہلے ہی مجھے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے جاری کردہ بیان کا کیسٹ  ’’  پُل صراط



Total Pages: 194

Go To