Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

۔ طالب علم کے لیے جو آسمان وزمین میں ہیں حتّٰی کہ پانی  میں مچھلیاں سب استغفار کرتے ہیں ۔     (المرجع السابق،الحدیث:۳۴۲،ج۱، ص۱۱۰) 

(35)  جسے موت اس حال میں آئے کہ وہ اسلام زندہ کرنے کے لیے علم سیکھ رہا ہو تو جنت میں اس کے اورانبیاء عَلَیْہِمُ السَّلام کے درمیان ایک درجہ کا فرق ہوگا۔(سنن الدارمی،المقدمۃ،باب فی فضل العلم والعالم،الحدیث:۳۵۴،ج۱، ص۱۱۲)

(36) جو علم طلب کرے پھر اسے حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے تو اس کے لیے دوگنا اجر ہے ۔اگر حاصل نہ کر سکے تو ایک اجر ہے ۔ (المرجع السابق،الحدیث:۳۳۵،ج۱،ص۱۰۹)

(37)  رسول کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  اپنی مسجد میں دومجالس پر گزرے توفرمایا :  ’’ یہ دونوں بھلائی پر ہیں ،  مگر ایک مجلس دوسری سے بہتر ہے پس یہ اللّٰہ تعالٰیسے دعا کررہے ہیں اوراس کی طرف راغب ہیں اللّٰہ     تعالٰیاگر چاہے انہیں دے چاہے نہ دے جبکہ یہ لوگ دینی مسائل اورعلم سیکھ رہے ہیں اورنہ جاننے والوں کو سکھا رہے ہیں یہی افضل ہیں ۔ میں معلِّم ہی بنا کر بھیجا گیا ہوں  ‘‘ ۔پھر آپ ان میں تشریف فرما ہوئے ۔         (المرجع السابق،الحدیث:۳۴۹،ج۱، ص۱۱۱)

(38)  ’’ کیا تم جانتے ہو بڑا سخی کون ہے ؟  ‘‘  عرض کیا گیا:اَللّٰہُ وَرَسُوْلُـہٗ اَعْلَمُ یعنی  اللہ  ورسول عَزَّوَجَل وصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  زیادہ جانتے ہیں ۔فرمایا :  ’’   اللّٰہ     تعالٰیبڑا جواد ہے پھر اولادِ آدم میں مَیں بڑا سخی ہوں اورمیرے بعد وہ شخص بڑا سخی ہے جو علم سیکھے اورپھر اسے پھیلائے وہ قیامت کے دن ایک جماعت ہو کر آئے گا۔ ‘‘   (شعب الایمان للبیہقی، باب فی نشر العلم، الحدیث:۱۷۶۷،ج۲، ص۲۸۱)

(39)  مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ تَکَفَّلَ اللّٰہُ لَہٗ بِرِزْقِہٖ جو شخص علم کی طلب میں رہتا ہے اللّٰہ تعالٰیاس کے رزق کا ضامن ہے۔ (تاریخ بغداد ، محمد بن القاسم ،  الرقم:۱۵۴۵،ج۳، ص۳۹۸)

(40)  افضل عبادت دین کے مسائل سیکھنا ہے اورافضل دین شبہات سے بچنا ہے۔ (المعجم الاوسط، الحدیث:۹۲۶۴،ج۶، ص۴۲۰)

(41)  علم کی فضیلت عبادت کی فضیلت سے زیادہ ہے ۔تمہارا اچھا دین شبہات سے بچنا ہے ۔(المعجم الاوسط، الحدیث:۳۹۶۰،ج۳، ص۹۲)

(42)  تھوڑا سا علم کثیر عبادت سے اچھا ہے ۔(الترغیب والترھیب، کتاب العلم، باب الترغیب فی العلم...الخ ،  الحدیث:۵، ج۱،ص۵۰)

(43)  علم حاصل کرو  اللہ  (عَزَّ وَجَلَّ)کے لیے علم حاصل کرنا اس سے ڈرنا ہے ۔ اس کو طلب کرناعبادت ہے ۔اس کا مذاکرہ کرنا تسبیح ہے ،  اس کے متعلق بحث کرنا جہاد ہے اور جو نہیں جانتا اسے سکھانا صدقہ ہے ۔(جامع بیان العلم وفضلہ، باب جامع فی فضل العلم، الحدیث:۲۴۰، ص۷۷)

(44)  طالبِ علم کو اس حال میں موت آئی کہ وہ طلبِ علم میں مصروف تھا تو وہ شہید ہے ۔(المرجع السابق، الحدیث:۱۹۴، ص۶۴)

(45)  جس نے علم کا ایک باب اس لیے سیکھا کہ لوگوں کو اس کی تعلیم دے گا تو اُسے ستر صدیقین کا ثواب عطاکیا جائے گا۔(الترغیب والترھیب،کتاب العلم ، باب الترغیب فی العلم...إلخ،الحدیث:۱۹،ج۱، ص۵۴)

(46)  افضل صدقہ یہ ہے کہ کوئی مسلمان شخص علم حاصل کرے پھر اپنے مسلمان بھائی کو علم سکھائے ۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ، باب ثواب معلم الناس الخیر،الحدیث:۲۴۳،ج۱،ص۱۵۸)

(47)  جس نے علم سکھایا اسے اس پر عمل کرنے والوں کا اجر بھی ملے گااور عمل کرنے والوں کے اجر میں کوئی کمی بھی نہ ہوگی ۔(سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،باب ثواب معلم الناس الخیر،الحدیث:۲۴۰،ج۱،ص۱۵۶)

(48)  جو صبح مسجد میں صرف نیکی سیکھنے یا سکھانے کی نیت سے گیا اس کے لیے مکمل حج کرنے والے کی طرح اجر ہے۔