Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

حساب کتاب سے جلد نجات پانے والا شخص وہ ہوگاجس نے تم میں سے مجھ پر دنیا کے اندر بکثرت دُرُود شریف پڑھے ہوں گے۔ ‘‘  (فردوس الاخبار  باب الیاء ج۲، ص۴۷۱ حدیث ۸۲۱۰)

صلَّوا عَلَی  الحَبِیب!       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

          پندرہویں صدی کی عظیم علمی وروحانی شخصیت، شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت ، بانیٔ دعوتِ اسلامی ، حضرت علّامہ مَولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادِری رضَو ی دامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعالِیَہ نے اس       پُر فتن دَور میں آسانی سے نیکیاں کرنے اور گُناہوں سے بچنے کے طریقوں پر مشتمل شریعت و طریقت کا جامع مجموعہ بنام  ’’  مدنی انعامات  ‘‘  اسلامی بھائیوں کیلئے72، اسلامی بہنوں کے لئے63، جا معۃ المدینہ  کے طلبہ کے لئے 92، طالبات کے لئے 83، مدنی منوں اور مدنی منیوں کے لئے 40، خصو صی  (یعنی گو نگے اور بہرے)اسلامی بھائیو ں کے لئے 27 مدنی انعامات بصورت سُوالات  عطا فرمائے ہیں ۔( اسلامی بھائیوں میں بیان کر رہے ہیں تو یوں کہئے) ہو سکتا ہے  72 کا عدد سن کر کسی کو وسوسہ آئے کہ میں تو بہت مصروف ہوں  اتنا وقت کہاں جو مدنی انعامات کے مطابق عمل کر سکوں ،  اس وسوسے کے تحت ممکن ہے کئی اسلامی بھائی اب تک  مدنی انعامات  کا رسالہ حاصل کرنے کی سعادت سے محروم ہوں ۔

            پیارے اسلامی بھائیو!  یہ شیطان کا خطرناک وار ہے جس کے ذریعے وہ دنیا و آخرت کی بھلائیوں کے حصول میں رکاو ٹ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے،اگر آپ ان وسوسوں پر توجہ دیئے بغیر مدنی انعامات پر غور فرمائیں تو شاید حیران رہ جائیں گے کہ جن مدنی انعامات پر عمل کرنا مشکل لگ رہا تھاان پر عمل کرنا تو بہت آسان ہے، کیونکہ 72مدنی انعامات پر روزانہ عمل نہیں کرنا ہوتا ہے بلکہ صرف 50  مدنی انعامات پرروزانہ عمل کرنا ہے اوران میں بھی 3درجے ہیں پہلے اور دوسرے درجے میں 17اور تیسرے درجے میں صرف 16مدنی انعامات  ہیں اور 8مدنی انعامات پر ہفتہ میں ایک بار،6مدنی انعامات پر مہینے میں ایک باراور 8مدنی انعامات تو ایسے ہیں جن پر سال میں صرف ایک بار عمل کرنا ہے۔

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آپ کو بخوبی اندازہ ہو گیا ہو گا کہ شیطان مدنی انعامات پر عمل کرنا دشوار محسوس کروا رہا تھااس پر عمل اس قدر آسان ہے۔ فی زمانہ ایک مسلمان کے لئے مدنی انعامات پر عمل کس قدر ضروری ہے ،  اس کا  اندازہ آپ کو اسی وقت ہوسکتا ہے جب آپ مدنی انعامات کا بغور مطالعہ فرمائیں آپ دیکھیں گے کہ ان مدنی انعامات میں فرائض وواجبات، سنن ومستحبات کے ساتھ ساتھ کہیں اخلاقیات کے حصول کے مدنی پھول خوشبو لٹا رہے ہیں تو کہیں گناہوں سے بچنے اور آسانی سے نیکیوں کے حصول کے طریقے اپنی برکتیں بکھیررہے ہیں ۔

            حصولِ ثواب کی نیت سے آج میں آپکی خدمت میں صرف ایک مدنی انعام کی وضاحت پیش کرنے کی سعادت حاصل کروں گا ،  اگرمکمل توجہ کے ساتھ شرکت رہی تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ آپ کا دل مدنی انعامات پر عمل کرنے کے لئے بے قرار ہو جائے گا۔ شیخ طریقت، امیر اہلسنّت  دامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعالِیَہ مدنی انعام نمبر 2میں فرماتے ہیں :کیا آج آپ نے پانچوں نمازیں مسجد کی پہلی صف میں تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ با جماعت ادا فرمائیں ؟ اور کسی ایک اسلامی بھائی کو اپنے ساتھ مسجد لے جانے کی کوشش فرمائی؟

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  امیر اہلسنّت  دامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعالِیَہ اپنے رسالہ نیک بننے کا نسخہ میں فرماتے ہیں کہ صرف اس ایک مدنی انعام پراگر کوئی صحیح معنوں میں کاربند ہو جائے تو  اللہ  عَزَّ وَجَلَّاس کا بیڑا پار ہو جائے۔نماز کے فضائل سے کون واقف نہیں ؟

          سرکار ِ مدینہ منورہ،سلطان مکۂ    مکرـمہصلَّی اللّٰہُ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’  جو دو رکعت نماز پڑھے ان میں سہو(یعنی غلطی)نہ کرے تو جو پیشتر گناہ ہوئے ہیں  اللہ    عَزَّوَجَلَّمعاف فرمادیتا ہے۔ ‘‘  (یہاں گناہِ صغیرہ مراد ہے)(المسند للامام احمد ، مسند الانصارحدیث:۲۱۷۴۹،ج۸،ص۱۶۲)

          دیکھا آپ نے ! دو رکعت کی جب یہ فضیلت ہو تو پانچوں نمازوں کی کیسی کیسی برکتیں ہونگی!  اس ــــــ ’’ مدنی انعام ‘‘  میں نمازیں با جماعت ادا کرنی ہیں ،  اور جماعت کی فضیلت کے تو کیا کہنے، مسلم شریف میں سیدنا عبد اللّٰہابن عمررَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُم ا سے روایت ہے کہ تاجدارِ مدینہ، راحتِ قلب و سینہصلَّی اللّٰہُ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ نماز با جماعت تنہا پڑھنے سے 27درجے بڑھ کر ہے۔ ‘‘ (صحیح المسلم ، کتاب المساجد۔۔۔الخ،باب فضل صلاۃ الجماعۃ۔۔۔الخ، الحدیث:۲۴۹۔  (۶۵۰)،ص۳۲۶)

          مزید اس  ’’  مدنی انعام ‘‘  میں تکبیر اولیٰ کا ذکر ہے۔اسکی بھی فضیلت سنئے اور جھومئے ابن ماجہ کی روایت میں ہے ، سلطان مکہ ٔمکرـمہ،سردارِ مَدِینۂ منوَّرَہ صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ جو مسجد میں با جماعت 40راتیں نمازِ عشاء اس طرح پڑھے کہ پہلی رکعت فوت نہ ہو،  اللہ   عَزَّوَجَلَّ اس کے لئے جہنم سے آزادی لکھ دیتا ہے۔ ‘‘ (سنن ابن ماجہ،کتاب المساجد والجماعات،باب صلاۃ العشاء۔۔۔الخ، الحدیث:۷۹۸،ج۱،ص۴۳۷)

            سُبْحٰن  اللّٰہ عَزَّوَجَلّ! چالیس دن جب عشاء کی نماز ِ با جماعت مع تکبیراولیٰ کی یہ فضیلت ہے تو زندہ رہ جانے کی صورت میں بر سہا برس تک پانچوں نمازیں تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ با جماعت ادا کرنے کا کیا مقام ہوگا!

          سرکار ِمدینہ ، راحت قلب و سینہ ،  فیضِ گنجینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان خوشبودا ر ہے، جو طہارت کرکے اپنے گھر سے فرض نماز کے لئے نکلا اس کا ثواب ایسا ہے جیسا حج کرنے والے مُحرِم (احرام باندھنے والے)کا۔(سنن ابی داود ، کتاب الصلاۃ ، باب ماجاء فی فضل المشی۔۔۔الخ،الحدیث: ۵۵۸،ج۱،ص۲۳۱)

          حضرت سیدنا ابو ہریرہ     رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبیٔپاک ،  صاحبِ لولاک،سیَّاحِ افلاک صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم کا فرمان با قرینہ ہے:  ’’ بتاؤ  اگر کسی کے دروازے پر ایک نہر ہو جس میں ہر روز۵ بار غسل کرے تو کیا اس پر کچھ میل رہ جائے گا؟  لوگوں نے عرض کی ’’  اس کے میل میں سے کچھ باقی نہ رہے گا، ‘‘ آپ صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّمنے ارشادفرمایا: ’’  پانچوں نمازوں کی ایسی ہی مثال ہے ۔اللّٰہ تعالٰی ان کے سبب خطاؤ ں کو مٹا دیتا ہے۔(صحیح المسلم ،  کتاب المساجد۔۔۔الخ،باب المشی الی الصلاۃ۔۔۔الخ، الحدیث: ۲۸۴۔(