Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

کو عبادت کرنے ، اپنے مال کو راہِ خدا میں خرچ کر نے اور دشمن سے جہاد کرنے سے عاجز ہو توا سے چاہیے کہ  اللہ    عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کثرت سے کیا کرے۔ ‘‘ (شعب الایمان للبیہقی،باب فی محبۃ اللّٰہ،فصل فی ادامۃ ذکر اللّٰہ، الحدیث:۵۰۸، ج۱،ص۳۹۰)

ممتاز لوگ

         ایک مرتبہ سرکار ِمدینہ، راحتِ قلب وسینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  مکہ مکرمہ کے ایک راستے پر چل رہے تھے ،  جب آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا گزر  ’’ جُمْدَان ‘‘  نامی پہاڑ کے قریب سے ہوا تو آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ اے لوگو!  چلے چلو یہ ’’  جُمْدَان  ‘‘ ہے اور سن لو کہ جو ممتاز لوگ ہیں وہ قرب خداوندی پالینے میں دوسروں سے آگے بڑھ گئے ہیں تو لوگوں نے عرض کی: یارسولَ اللّٰہ!  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ممتازلوگ کون ہیں ؟  آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا کہ وہ مرد جو اللہ   عَزَّوَجَلَّ کا بکثرت ذکر کرتے رہتے ہیں اور وہ عورتیں جو    خدا عزَّوَجَلَّ کا ذکر کثرت سے کرتی رہتی ہیں ۔  ( صحیح مسلم ،  کتاب الذکر۔۔۔الخ،باب الحث علی ذکراللّٰہ تعالٰی، الحدیث: ۲۶۷۶،ص۱۴۳۹)

 اللّٰہ عزَّوَجَلَّ کے عذاب سے بچانے والا عمل

              حضرت ِ سیدنا    مُعا ذ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ذکر اللّٰہ سے بڑھ کر کوئی شے ایسی نہیں جو اللہ   عَزَّوَجَلَّ کے عذاب سے نجات دلانے والی ہو۔ (سنن الترمذی،کتاب الدعوات، باب منہ(ت:۶)،الحدیث:۳۳۸۸،ج۵،ص۲۴۶)

سب سے افضل مال

            حضرت ِ سیدنا ثوبان رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت مبارکہ نازل ہو ئی :

وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ (پ۱۰،التوبۃ:۳۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور وہ کہ جوڑ کر رکھتے ہیں سونا اور چاندی ۔

            تو ہم اس وقت رحمت ِ عالم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کیساتھ سفر پر تھے، بعض صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کہنے لگے:  ’’  سونے اور چاندی کے بارے میں تو آیت نازل ہوگئی ،  اگر ہم جان لیں کہ کونسا مال بہتر ہے تو ہم اسے اختیار کرلیں گے۔ ‘‘  تو رسول اللّٰہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا: ’’  سب سے افضل مال ذکر کرنے والی زبان، شکر کرنے والا دل اور ایماندار بیوی ہے جو اس کے ایمان میں مدد گا ر ہو۔ ‘‘ (سنن الترمذی،کتاب التفسیر،باب ومن سورۃ التوبۃ،الحدیث:۳۱۰۵،ج۵،ص۶۵)

            یاد رہے تلاوت قرآن ،  حمد و ثنا ،  مناجات و دعا ،  درود و سلام ،  نعت ،  خطبہ، درس، سنتوں بھرا بیان وغیرہ سب ذکر اللّٰہ میں شامل ہیں لہٰذا کتنے خوش نصیب ہیں وہ اسلامی بھائی اور اسلامی بہنیں جو اپنی زبان کو فضول گوئی سے بچاتے ہوئے اسے نیکی کی دعوت، سنتوں بھرے بیان اور ذکر و درود میں لگائے رکھتے ہیں اور  اللہ        عَزَّوَجَلَّکی رضا اور رحمتوں کے حقدار ٹھہرتے ہیں ۔ اللہ    عَزَّوَجَلَّ ہم پر رحم فرمائے اور زَبان کو لگام نصیب کرے کہ یہ ذکر اللّٰہ سے غافِل نہ ہو ،  فُضُول نہ بو لے ۔ کاش!  زَبان کا قفلِ مدینہ لگانے کی سعادت نصیب ہو جائے نیز خاموشی کی عادت ڈالنے کے لئے کچھ نہ کچھ گفتگو لکھ کر یا اشارے سے کر لینے کا بھی ذہن بن جائے کیونکہ جو زیادہ بولتا ہے عُمُوماً خطائیں بھی زیادہ کرتا ہے، راز بھی فاش کر ڈالتا ہے۔ غیبت وچغلی اور عیب جُوئی جیسے گناہوں سے بچنا بھی ایسے شخص کے لئے  َبہُت دشوار ہوتاہے بلکہ بک بک کا عادی بعض اوقات مَعَاذَاللّٰہ  کفر یات بھی بک ڈالتا ہے۔ کاش!  ہم بولنے سے پہلے تولنے کے عادی ہوجائیں کہ ہم جوبولنا چاہتے ہیں اِس میں آخِرت کا کوئی فائدہ بھی ہے یا نہیں ؟  اگر نہیں تو پھر زہے نصیب!  بات کر نے کے بجائے اتنی دیر ذکر اللّٰہ کر لیا کریں ،  دُرُود شریف پڑھ لیا کریں کہ اس طرح آخِرت کا عظیم فائدہ حاصل ہوجائے گا ۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب !             صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اللّٰہ عزَّوَجَلَّ کا شکرادا کرنے کا طریقہ

 حضرت ِ سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ شفیعُ الْمُذْنِبِیْن،  محبوبِ ربُّ الْعٰلَمِیْن، جنابِ صادق و امین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا:  ’’   اللہ عَزَّوَجَلَّ        َ فرماتا ہے کہ اے ابن آدم! جب تو میرا ذکر کرتا ہے تو میرا شکر کرتاہے اور جب مجھے بھول جاتا ہے تو میری ناشکری کرتا ہے۔  ‘‘ (المعجم الاوسط للطبرانی،من اسمہ محمد،الحدیث:۷۲۶۵،ج۵،ص۲۶۱)

کرم والے لوگ

            حضرت ِ سیدنا ابو سعید خُدْرِی رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے: عنقریب قیامت کے دن جمع ہونے والے جان جائیں گے کہ کرم والے لوگ کون ہیں ؟  عرض کیا گیا: یارسولَ اللّٰہ!   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کرم والے لوگ کون ہیں ؟  فرمایا:  ’’ مساجد میں ذکر کی محفلیں قائم کرنے والے ۔ ‘‘ (الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان، کتاب الر



Total Pages: 194

Go To