Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

تھے ،  ایک اسلامی بھائی نے ان پر انفرادی کوشِش کرتے ہوئے دعوتِ اسلامی کے سنّتوں کی تربیّت کے مدنی قافِلے میں سفر کر کے وہاں دعا مانگنے کی ترغیب دلائی ،  چُنانچِہ وہ تین دن کیلئے مدنی قافِلے کے مسافر بنے، واپسی پر طبیعت کو بہتر پایا، جب ٹیسٹ کروائے تو تمام رَپورٹیں دُرُست تھیں ،  ڈاکٹر نے حیرت سے پوچھا کہ تمہارے دل کی دونوں بند نالیاں کھل چکی ہیں آخر یہ کیسے ہوا ؟  جواب دیا: اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلّدعوتِ اسلامی کے مدنی قافلے میں سفر کر کے دعا کرنے کی بَرَکت سے مجھے دل کے مُہلِک مرض سے نَجات مل گئی ہے ۔

لوٹنے رحمتیں قافِلے میں چلو                        سیکھنے سنّتیں قافلے میں چلو

دل میں گر دَرْد ہو ڈر سے رُخ زَرْد ہو              پاؤ  گے رَاحتیں قافلے میں چلو

(فیضان سنت ،  باب۳،ج ۱،ص۷۷۲)

          پیارے اسلامی بھائیو!  بیان کو اِختِتام کی طرف لاتے ہوئے سنّت کی فضیلت اور چند سنّتیں اور آداب بیان کرنے کی سعادت حاصِل کرتا ہوں ۔ تاجدارِ نُبُوَّتصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ جنت نشان ہے: ’’  جس نے میری سنّت سے مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سے مَحَبَّتکی وہ جنّت میں میرے ساتھ ہو گا۔ ‘‘  (تاریخ مدینۃ دمشق لابن عساکر، انس بن مالک،ج۹،ص۳۴۳)

            لہٰذا جوتے پہننے کے 7مدنی پھول قبول فرمائیے، (اس کتاب کے صفحہ نمبر 647سے مدنی پھول بیان کیجئے)

٭٭٭٭٭

بیان نمبر8:

ذِکْر کی فضیلت

        شیخِ طریقت، امیر ِاہل ِ سنّت، بانیء     دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے رسالہ  ’’  نماز کا طریقہ (حنفی)  ‘‘  میں درود شریف کے متعلق حدیث پاک نقل فرماتے ہیں کہ سرکارِ مدینہ، سلطانِ با قرینہ، قرار ِقلب و سینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے نماز کے بعد حمد وثنا اور درود شریف پڑھنے والے سے فرمایا :  ’’ دعا مانگ!  قبول کی جائے گی، سوال کر!   دیا جائے گا۔  ‘‘  (سنن النسائی،کتاب السھو، باب التمجید والصلاۃ۔۔۔الخ،الحدیث:۱۲۸۱،ص۲۲۰)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                   صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            قرآنِ کریم میں  اللہ    عَزَّوَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:

فَاِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلٰوةَ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا (پ۵،النساء:۱۰۳)

ترجمۂ کنزالایمان : پھر جب تم نماز پڑھ چکو        تو اللّٰہ کی یاد کرو کھڑے اور بیٹھے

            صدرُ الا َفاضل حضرت علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِیْ اس آیہ مبارکہ کے تحت  ’’ خزائن العرفان ‘‘  میں فرماتے ہیں : یعنی ذکر ِالٰہی کی ہر حال میں مُداوَمَت کرو اور کسی حال میں  اللہ  عَزَّوَجَلَّ کے ذکر سے غافل نہ رہو۔ حضرت ابنِ عباسرَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُم ا نے فرمایا :  اللہ عَزَّوَجَلَّ نے  ہر فرض کی ایک حد مُعیّن فرمائی سوائے ذِکر کے ،  اس کی کوئی حد نہ رکھی ،  فرمایا : ذکر کرو کھڑے بیٹھے ،  کروٹوں پر لیٹے، رات میں ہو یا دن میں ،  خشکی میں ہو یا تری میں ،  سفر میں اور حَضَر میں ،  غَنَاء میں اور َفقْر میں ،  تندرستی اور بیماری میں ،  پوشیدہ اور ظاہر۔(خزائن العرفان)

نورِ عرش میں ڈوبا ہوا شخص

         حضرت ِ سیدنا ابو مُخَارِق رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْور، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰیعَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :       معراج کی رات میں نے ایک شخص کو دیکھا جو عرش کے نور میں ڈوبا ہوا تھا تو پوچھا یہ کون ہے؟  کیا کوئی فرشتہ ہے؟ کہاگیا نہیں ،  میں نے پوچھا کیا کوئی نبی ہیں ؟  عرض کیا گیا : نہیں ،  میں نے پوچھا پھر یہ کون ہے ؟ کہا گیا: یہ وہ شخص ہے جس کی زبان دنیا میں  اللہ   عَزَّوَجَلَّ کے ذکر سے تر رہتی تھی اور دل مساجد میں لگا رہتا تھا اور اس نے کبھی اپنے والدین کو گالیاں نہیں دلائیں ۔ (الترغیب والترہیب، کتاب الذکروالدعائ، باب الترغیب فی الاکثارمن ذکراللّٰہ۔۔۔الخ،الحدیث:۲۳۰۰،ج۲،ص۲۴۲)

ذکر کرنے والے ہر بھلائی لے گئے

               حضرت ِ سیدنا      مُعاذرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ایک شخص نے سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰـلَمِیْنصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کی بارگاہ میں عرض کیا: یارسولَ اللّٰہ!  کونسا مجاہد سب سے زیاد ہ ثواب والا ہے ؟  فرمایا : جو اُن میں سے اللّٰہ کا ذکر کثرت سے کرنے والا ہو۔ انھوں نے پھر عرض کیا : کونسا روزہ دار سب سے زیادہ ثواب والا ہے ؟  فرمایا: جو اُن میں سے  اللہ    عَزَّوَجَلَّکا ذکر کثرت سے کر نے والاہو۔ پھر انھوں نے نماز، زکوٰۃ، حج اور صدقہ کے بارے میں یہی سوال کیا اور رسولُ اللّٰہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  و ہی جواب دیتے رہے کہ جو اُن میں سے کثرت سے اللّٰہ عَزَّوجَلَّ کا ذکر کرنے والا ہو، تو حضرت ِ سیدنا ابو بکر صدیق رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے فرمایا: اے ابو حَفْص!  ذکر کرنے والے تو ہر بھلائی لے گئے، تو رسول اللّٰہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  ’’  ہاں !  ایسا ہی ہے۔‘‘ (المسند للامام احمد بن حنبل،مسند المکیین، حدیث معاذ بن انس الجھنی، الحدیث: ۱۵۶۱۴، ج۵،ص۳۰۸)