Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

دیکھی تو کہا: تو عذاب سے بچ گیا۔(الدر المختار،کتاب الصلاۃ،باب صلاۃ الجنازۃ،ج۳،ص۱۸۶)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

             میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  جب بھی کوئی مسلمان فوت ہو جائے تو بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم وغیر ہ ضرور لکھ لیا کریں ،  آپ کی تھوڑی سی توجُّہ بے چارے مرنے والے کی بخشِش کا ذریعہ بن سکتی ہے اور میِّت کے ساتھ ہمدردی کی نیکی آپ کی بھی نَجات کا باعِث بن سکتی ہے۔

مَیَّت کی پیشانی اور سینہ پر لکھئے

            حضرت علّامہ شامی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِیْ فرماتے ہیں : ’ ’یوں بھی ہوسکتا ہے کہ مَیِّت کی پیشانی پر بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم لکھئے اور سینے پر لَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ لکھئے مگر نہلانے کے بعد اور کفن پہنانے سے پہلے کلمہ کی اُنگلی سے لکھئے، روشنائی (INK) سے نہ لکھئے ۔(اِعْرَاب لگانے کی حاجت نہیں ) (ردالمحتار،کتاب الصلاۃ،باب صلاۃ الجنازۃ،مطلب فی مایکتب۔۔۔الخ،ج۳،ص۱۸۶)

            شَجرہ یا عہد نامہ قبر میں رکھنا جائز ہے اور بہتر یہ ہے کہ میِّت کے منہ کے  سامنے قبلہ کی جانب طاق کھود کر اس میں رکھیں بلکہ  ’’  دُ رِّمُخْتَار ‘‘  میں کفن پر عہد نامہ لکھنے کو جائز کہا ہے اور فرمایا کہ اس سے مغفرت کی ا     مّید ہے۔ (الد    رالمختار،کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ،ج۳،ص۱۸۵)

بِسْمِ اللّٰہ لکھنے کی فضیلت

            حضرت ِسیِّدُنا اَنَس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوا یت ہے کہ  اللہ   عَزَّوَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا :  ’’ جس نے   اللہ   عَزَّوَجَلَّ کی تعظیم کے لئے عمدہ شکل میں بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم تحریر کیا   اللہ  عَزَّوَجَلَّ  اُسے بخش دے گا۔ ‘‘  (الد رالمنثور، سورۃ الفا      تحۃ،ج۱،ص۲۷)

عمد گی سے پڑھنے کی فضیلت

              حضرتِ  مولائے کائنات عَلِیُّ الْمُرْتَضٰی شیرِ خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے رِوایت ہے: ایک شخص نے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم کو خوب عمدگی سے پڑھا اس کی بخشِش ہوگئی ۔(شعب الایمان للبیہقی،باب فی تعظیم القرآن،فصل فی تفخیم قدر المصحف ۔۔الخ،الحدیث:۲۶۶۷،ج۲،ص۵۴۶)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                   صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

برکتیں ہی برکتیں

        حضرت سیِّدنا شیخ ابوالعباس احمد بن علی بونی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیّ فرماتے ہیں : جو بِلا ناغہ سات دن تک  ’’ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ  ‘‘ 786 بار ( اوّل آخر ایک بار دُرود شریف) پڑھے اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس کی ہر حاجت پوری ہو ،  اب وہ حاجت خواہ کسی بھلائی کے پانے کی ہو یا برائی دور ہونے کی یا کاروبار چلنے کی ۔ (شمس المعارف الکبری،الباب الخامس فی اسرارالبسملۃ۔۔۔الخ،ص۳۷)

ہر طرح کی آفت و بلا سے محفوظ

            جو کوئی سوتے وقت  ’’ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم  ‘‘ 21 بار ( اوّل آخر ایک بار دُرود شریف ) پڑھ لے  اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اُس رات شیطان ،  چوری ،  اچانک موت اور ہر طرح کی آفت و بلا سے محفوظ رہے ۔(ایضًا، ص۳۷)

شَر سے بچا رہے

            جو کسی ظالم کے سامنے  ’’ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ‘‘  50 بار ( اوّل آخر ایک بار دُرود شریف ) پڑھے اُس ظالم کے دل میں پڑھنے والے کی ہَیبت پیدا ہو اور اس کے شَر سے بچا رہے ۔ (ایضًا، ص۳۷)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                   صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

امیر و کبیر ہونے کا نسخہ

            جو شخص طلوعِ آفتاب کے وقت سورج کی طرف رُخ کر کے  ’’  بِسْمِ  اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ  ‘‘  300     بار اور دُرُود شریف 300 بار