Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

            لہٰذا ہر جائز کام کے شروع میں ( جبکہ کوئی مانع شرعی نہ ہو )  ’’  بِسْمِ اللّٰہ شریف ‘‘  پڑھنے کی عادت بنا لینی چاہیے۔

زہرِ قا   تل بے ا   ثر ہوگیا

            ایک مرتبہ سیِّدنا خالِد بن ولید رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے کچھ مَجوسیوں نے عرض کیا کہ آپ ہمیں کوئی ایسی نشانی بتایئے جس سے ہم پر اسلام کی حقّانِیَّت واضِح ہو چُنانچِہ آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے زہرِقاتِل منگوایا اور بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پڑھ کراُسے کھالیا،  ’’ بِسْمِ اللّٰہ ‘‘  کی بَرَکت سے اُس زہرِقاتل نے آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ پر کو ئی اثر نہ کیا، یہ منظر دیکھ کر مَجوسی ( آتش پرست ) بے ساختہ پکار اُٹھے:  ’’ دین اسلام حق ہے۔ ‘‘ (التفسیرالکبیر،الباب الحادی عشر،ج۱،ص۱۵۵)

        معلوم ہوا کہ کھانے یا پینے سے قبل  بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پڑھ لینے سے جہاں آخِرت کا عظیم ثواب ہے وہیں دنیا میں بھی اسکا یہ فائدہ ہے کہ اگر کھانے یاپینے کی چیز میں کوئی مُضِر (نقصان دہ ) اَجزاء شامل ہوں بھی تووہ  اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نقصان نہیں کریں گے ۔

موٹا تازہ شیطان

            ایک مرتبہ دو شیاطین میں ملاقات ہوئی ایک شیطان خوب موٹا تازہ تھا جبکہ دوسرا دُبلاپتلا، موٹے نے دُبلے سے پوچھا: بھائی !  آخر تم اتنے کمزور کیوں ہو ؟  اُس نے جواب دیا: میں ایک ایسے نیک بندے کیساتھ ہوں جو گھر میں داخِل ہوتے اور کھاتے پیتے وقت  بِسْمِ اللّٰہ شریف پڑھ لیتا ہے تو مجھے اُس سے دُور بھاگنا پڑتا ہے، پھر دُبلے نے کہا: یار!  یہ تو بتاؤ  !  تم نے بَہت جان بنا رکھی ہے اِس میں کیا راز ہے؟  موٹا بولا:  ’’ میں ایک ایسے غافل شخص پر مُسلَّط ہوں جو گھر میں بِسْمِ اللّٰہ پڑھے بغیر داخل ہو جاتا ہے اور کھاتے پیتے وقت بھی بِسْمِ اللّٰہ نہیں پڑھتا لہٰذا میں اس کے ان تمام کاموں میں شریک ہو جاتا ہوں اور اس پر جانور کی طرح سُوار رہتا ہوں ۔ (یہ راز ہے میری صحت مندی کا )    (اسرار الفا   تحۃ ،  ص۱۵۵)

            اِس حکایت سے یہ درس ملتا ہے کہ اگرہم اپنے کاموں میں شیطان کی شرکت سے حفاظت اور خیر و بَرَکت کے طلبگا ر ہیں تو ہر نیک کام کے آغاز میں بِسْمِ اللّٰہ پڑھا کریں بصورتِ دیگر ہر فِعل میں شیطان لعین شریک ہو جائے گا ۔

جنَّات سے سامان کی حفاظت کا طریقہ

            حضرتِ  سیِّدُنا صَفوان بن سُلَیم رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :   ’’ انسان کے ساز و سامان اور ملبوسات کو جنّات استِعمال کرتے ہیں لہٰذا تم میں سے جب کوئی شخص کپڑا (پہننے کے لئے) اٹھائے( یا اُتار کر) رکھے تو  ’’ بِسْمِ اللّٰہ شریف‘ ‘ پڑھ لیا کرے اس کے لئے اللہ    عَزَّوَجَلَّکا نام مُہر ہے ۔ ‘‘  ( یعنی بِسْمِ اللّٰہ پڑھنے سے جِنّات ان کپڑوں کو استِعمال نہیں کریں گے)

(لقط المرجان فی احکام الجان للسیوطی،ذکرمایعتصم بہ منہم،ص۱۶۱)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  ہر چیز رکھتے اُٹھاتے  ’’ بِسْمِ اللّٰہ ‘‘ پڑھنے کی عادت بنانی چاہئے  اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ شریر جنّات کی دست بُرد سے حفاظت حاصِل ہوگی۔

گھریلو جھگڑوں کا علاج

            مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَنَّان فرماتے ہیں : گھر میں داخِل ہوتے وقت پوری  ’’ بِسْمِ اللّٰہ ‘‘  پڑھ کر داہنا قدم پہلے دروازہ میں داخل کرے پھر گھر والوں کو سلام کرتا ہوا گھر میں آئے ،  اگر کوئی نہ ہو تو:  اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَ یُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُہٗ کہدے ،  بعض بُزرگوں کو دیکھا گیا کہ اوّل دن میں جب پہلی بار گھر میں داخل ہو تے تو  ’’ بِسْمِ اللّٰہ  ‘‘  اور  ’’  قُلْ ھُوَ اللّٰہ  ‘‘ پڑھ  لیتے ہیں کہ اس سے گھر میں اِتِّفاق بھی رہتا ہے۔(یعنی جھگڑا نہیں ہوتا ) اور رزق میں بَرَکت بھی ۔(مراٰۃالمناجیح،کھانوں کا بیان،ج۶،ص۹)

فرشتے نیکیاں لکھتے رہتے ہیں

             حضرتِ  سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ ،  قرارِ قلب و سینہ ،  فیض گنجینہ، صاحِبِ مُعَطّر پسینہ، باعثِ نُزُولِ سکینہ صَلَّی   اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا: اے ابوہریرہ!  جب تم وضو کرو تو  ’’ بِسْمِ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ ‘‘  کہہ لیاکرو جب تک تمہارا     وضو باقی رہے گا اُس وقت تک تمہارے فرشتے ( یعنی کِراماً کاتِبِین) تمہارے لئے نیکیاں لکھتے رہیں گے۔ (المعجم الصغیرللطبرانی،باب الالف من اسمہ احمد، الجزء الاوّل،ص۷۳)

نیکیاں ہی نیکیاں

            جو شَخص کسی جَانور پر سُوار ہوتے وَقت  ’’ بِسْمِ اللّٰہ ‘‘  اور  ’’  اَلْحَمْدُ لِلّٰہ ‘‘ پڑھ لے تو اُس جانور کے ہر قدم پر اُس سوار کے حق میں ایک نیکی لکھی جائے گی، جو شخص کشتی میں سوار ہوتے وقت  ’’ بِسْمِ اللّٰہ ‘‘  اور  ’’  اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  ‘‘  پڑھ لے جب تک و ہ اُس میں سُوار رہے گا اُس کے واسطے نیکیاں لکھی جائیں گی ۔ (تفسیرِ نعیمی، پ۱،ج۱،ص۵۲)

قیامت کے لیے نرا  لی سند

            حضرت مفتی احمد یار خان