Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

جو بھلائی مانگے عطا کی جائے

            حضرت سیدنا ابو اُمامہ باہِلی رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : میں نے حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سَیّاحِ اَفلاک صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو فرماتے سنا: ’’ جو با وضو اپنے بستر پر آئے پھر  اللہ    عَزَّوَجَلَّکا ذکر کرے یہا ں تک کہ اس پر غنودگی چھا جائے تو رات کی جس گھڑی میں وہ  اللہ    عَزَّوَجَلَّسے دنیا و آخرت کی جو بھلا ئی مانگے گا  اللہ    عَزَّوَجَلَّاسے وہ بھلائی عطا فرمادے گا۔ ‘‘ (سنن الترمذی،کتاب الدعوات،باب:۹۲،الحدیث:۳۵۳۷،ج۵،ص۳۱۱)

جنت میں داخلہ

            حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ رسولُ اللّٰہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا : ’’   اللہ    عَزَّوَجَلَّکے ننانوے نام ہیں جو اِن مبارک ناموں کو گن گن کر اِخلاص کے ساتھ پڑھتا رہے وہ جنت میں داخل ہوگا۔ ‘‘ (مشکاۃ المصابیح، کتاب الدعوات، باب اسماء اللّٰہ تعالٰی،الحدیث:۲۲۸۷،ج۱،ص۴۲۷)

اللّٰہ  عَزَّوَجَلّ کی رحمت ڈھانپ لیتی ہے

            دوجہاں کے سلطان، رحمت عالمیان، سرورِ ذیشان صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا:  ’’ جو قوم بھی اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کے لیے بیٹھتی ہے تو فرشتے ان کو چاروں طرف سے گھیر لیتے ہیں اور خدا عزَّوَجَلَّ کی رحمت اُن کو ڈھانپ لیتی ہے اور اُن لوگوں پر سکینہ (دل کا اطمینان) نازل ہوتا ہے اوراللّٰہ تعالیٰ اپنے مُقَرَّبِیْن میں ان کا تذکرہ فرماتا ہے۔ ‘‘  (صحیح مسلم،کتاب الذکر والدعائ،باب فضل الاجتماع۔۔۔الخ،الحدیث:۲۷۰۰،ص۱۴۴۸)

ذکر کرنے والے سبقت لے گئے

         حضرت سَیِّدنا ابوہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے:حضورِ اَکرم، نورِ مجسم  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشادفرمایا:  مُفَرِّدُ وْن سبقت لے گئے، صحابہ کرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُم  نے عرض کیا: یارَسولَ اللّٰہ!  مُفَرِّدُونکون ہیں ؟  آپ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا:  اللہ    عَزَّوَجَلَّکا بہت زیادہ ذکر کرنے والے مرد اور عورتیں ۔(صحیح مسلم،کتاب الذکر۔۔۔الخ، باب الحث علی۔۔۔الخ، الحدیث: ۲۶۷۶،ص۱۴۳۹)

رَوزِ قیامت بلند رتبہ والے

            حضرت سَیِّدُنا ابو سعید خُدْری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رَسولُ اللّٰہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی بارگاہ بے کس پناہ میں کسی نے عرض کیا: سب میں افضل اور روزِ قیامت سب سے بلند رتبہ  اللہ    عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں کس کا ہوگا؟  ارشاد فرمایا:  ’’ وہ بندے اور بندیاں جو بہت زیادہ  اللہ    عَزَّوَجَلَّکا ذکر کرنے والے ہیں ،  ‘‘  تو ایک صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کیا: کیا یہ لوگ  اللہ    عَزَّوَجَلَّکی راہ میں جہاد کرنے والے سے بھی افضل ہیں ؟  (یہ سن کر) آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  ’’ اگر کوئی مجاہد کفارومشرکین کو اپنی تلوار سے یہاں تک مارتا رہے کہ تلوار ٹوٹ جائے اور وہ مجاہد خون میں لت پت ہوجائے پھر بھی اللہ    عَزَّوَجَلَّکا ذکر کرنے والا درجے میں اس مجاہد سے افضل ہی ہوگا۔ ‘‘ (مشکاۃالمصابیح،کتاب الدعوات،باب ذکراللّٰہ۔۔۔الخ،الحدیث:۲۲۸۰،ج۱،ص۴۲۷)

بغیر ذکر گزرنے والی گھڑی پر افسوس

            حضرت سیدنا مُعاذبن جَبَل رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ تاجدارِ مدینہ، سلطانِ باقرینہ، صاحبِ مُعَطَّر پسینہصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا:  ’’ اہلِ جنت کسی چیز کا افسوس نہ کریں گے سوائے اس ساعت کے جو دنیا میں انہوں نے ذکر اللّٰہ کے بغیر گزاردی۔ ‘‘   (المعجم الکبیر للطبرا  نی، جبیر بن نفیر عن معاذ بن جبل، الحدیث:۱۸۲،ج۲۰،ص۹۳)

قلم کا قَط

          حافِظ ابن عَسا  ِکر  ’’  تَبْیِیْنُ کَذِبِ الْمُفْتَرِی ‘‘ میں فرماتے ہیں :(پانچویں صدی کے مشہور بزرگ) حضرت سیِّدُنا سُلَیم رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی کا قَلَم جب لکھتے لکھتے گھس جاتا تو قَط لگاتے (یعنی نوک تراشتے)ہوئے (اگر چِہ دینی تحریر کیلئے یہ بھی ثواب کا کام ہے مگر ایک پنتھ دو کاج کے مِصداق) ذِکر اللّٰہ شروع کردیتے تاکہ یہ وَقت صِرف قَط لگاتے ہوئے ہی صَرف نہ ہو۔

ذکر و دُرُود ہر گھڑی وِردِ زَباں رہے

میری فُضُول گوئی کی عادت نکال دو

ساٹھ سال کی عبادت سے بہتر

                                 اگر کچھ پڑھنے کے بجائے خاموش رہنے کو جی چاہے تو اس میں بھی ثواب کمانے کی صورتیں ہیں اور وہ یہ کہ اُلٹے سید ھے خیالات میں پڑنے کے بجائے آدمی یادِخداوندی یا، یادِ مدینہ و شاہِ مدینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  میں گُم ہوجائے، یا علمِ دین میں غورو تَفَکُّر شروع کردے یا موت کے جھٹکوں ،  قبر کی تنہائیوں ، اس کی وحشتوں اور محشر کی ہولناکیوں کی سوچ میں ڈوب جائے تو اس طرح بھی وَقت ضائِع نہیں ہوگا بلکہ ایک ایک سانس اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ                                                                               



Total Pages: 194

Go To