Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عزَّوَجَلَّ اِعتکاف ہی میں 30دِن کے مدنی قافلے میں سفر کی نیّت بھی کی۔اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ مدنی قافلے میں سفر بھی کیا، سفر کے دَوران بَہُت کچھ سیکھنے کے ساتھ ساتھ درس و بیان بھی سیکھنے لگا۔  اَلْحَمْدُ لِلّٰہ نَمازوں کی پابندی کے ساتھ ساتھ دَعوتِ اِسلامی کے مدنی کاموں میں حصّہ لینے لگا۔ آج یہ بیان دیتے وَقت ذیلی مُشاوَرت کے نگران کے طور پر مدنی کاموں کی دھومیں مچانے کی کوشِش کررہا ہوں ۔ (فیضان سنت،باب فیضان رمضان،ج۱،ص۱۳۹۷)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

         میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  بیان کو اِختِتام کی طرف لاتے ہوئے سنّت کی فضیلت اور چند سنّتیں اور آداب بیان کرنے کی سعادت حاصِل کرتا ہوں ۔ تاجدارِ رسالت، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت، مصطفی جانِ رحمت، شمعِ بزمِ ہدایت ، نوشۂ بزمِ جنت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ جنت نشان ہے: جس نے میری سنّت سے مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سیمَحَبَّت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا۔(تاریخ مدینۃدمشق لابن عساکر، انس بن مالک،ج۹،ص۳۴۳)

            لہٰذا سونے جاگنے کے15 مدنی پھول قبول فرمائیے، (اس کتاب کے صفحہ نمبر 650 سے بیان کیجئے)

٭٭٭٭٭

تعلیمِ قرآن کی فضیلت

       فرمانِ مصطفی صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ : ’’ جو قرآن پڑھنے میں ماہر ہے، وہ کراماً کاتِبِین کے ساتھ ہے اور جو شخص رُک رُک کر قرآن پڑھتا ہے اور وہ اُس پر شاق ہے (یعنی اُس کی زَبان آسانی سے نہیں چلتی، تکلیف کے ساتھ ادا کرتا ہے) اُس کیلئے دو اجر ہیں۔ ‘‘  (صحیح مسلم،ص۴۰۰،حدیث:۷۹۸)

بیان نمبر4:

نفلی روزوں کے فضائل

شیخِ طریقت، امیر ِاہلسنت، بانیء دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلالمحمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَا تُہُمُ العَالِیَہ   ’’  رسائل ِعطاریہ ‘‘  (حصہ دوم) کے صَفْحَہ 13 پر حدیثِ پاک نقل فرماتے ہیں کہ رسولُ اللّٰہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ جنت نشان ہے: ’’ بے شک تمہارے نام بمع شناخت مجھ پر پیش کیے جاتے ہیں لہٰذا مجھ پر اَ حسن (یعنی خوبصورت الفاظ میں ) درود پاک پڑھو۔(المصنف للامام عبد الرزاق،باب الصلاۃ علی النبی،الحدیث:۳۱۱۶،ج۲،ص۱۴۰)

                          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !  فرض روزوں کے عِلاوہ نَفْل روزوں کی بھی عادت بنانی چاہئے کہ اس میں بے شُمار دینی و دُنیوی فوائد ہیں اور ثواب تو اِتنا ہے کہ جی چاہتا ہے بس روزے رکھتے ہی چلے جائیں ۔مزید دینی فوائد میں ایمان کی حفاظت، جہنَّم سے نَجات اور جنَّت کا حُصُول شامل ہیں اور جہاں تک دُنیوی فوائد کاتَعلُّق ہے توروزہ میں دن کے اندر کھانے پینے میں صَرْف ہونے والے وَقْت اور اَخراجات کی بچت، پیٹ کی اِصلاح اور بَہُت سارے امراض سے حفاظت کا سامان ہے اور تمام فوائد کی اَصل یہ ہے کہ اِس سے  اللہ   عَزَّوَجَلَّ راضی ہو تاہے۔ اللّٰہ تبارک وتعالیٰ پارہ22 سورۃُ الاحزاب کی آیت نمبر35 میں ارشاد فرماتا ہے:

وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵) (پ۲۲،الاحزاب:۳۵)

ترجمۂ کنز الایمان: اور روزے والے اور روزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور  اللّٰہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کیلئے  اللّٰہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔

صدر الافاضل حضرت علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِیاس کے تحت فرماتے ہیں :  ’’ صوم یہ فرض و نفل دونوں کو شامل ہے۔ ‘‘  (خزائن العرفان)

جنت کا انوکھا درخت

            حضرتِ  سَیِّدُنا قَیس بن زَید جُہَنّی رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،  اللہ    عَزَّوَجَلَّکے مَحبوب، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰیعَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ جنت نشان ہے: ’’  جس نے ایک نفلی روزہ رکھا   اللہ    عَزَّوَجَلَّاُس کیلئے جنت میں ایک دَرَخت لگائے گا جس کا پھل اَنار سے چھوٹا اور سَیب سے بڑا ہوگا،وہ (موم سے الگ نہ کئے ہوئے) شہد جیسا میٹھا اور(موم سے الگ کئے ہوئے خالص شہد کی طرح) خوش ذائقہ ہو گا۔  اللہ    عَزَّوَجَلَّبروزِ قِیامت روزہ دار کو اس دَرَخْت کا پھل کھلا ئے گا۔ (المعجم الکبیر للطبرانی، قیس بن زید الجہنی،الحدیث:۹۳۵،ج۱۸،ص۳۶۵)

دوزَخ سے 50 سال مسافت دُوری

             اللہ    عَزَّوَجَلَّکے پیارے نبی، مکّی مدنی  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عافِیَّت نِشان ہے:  ’’ جس نے رِضائے الٰہی کیلئے ایک دن کا نَفْل روزہ رکھا تو  اللہ    عَزَّوَجَلَّاُسکے اور دوزخ کے درمیان ایک تیز رفتار سُوارکی پچاس سالہ مسافَت کا فاصِلہ فرما دے گا۔ ‘‘  (کنزالعمال،کتاب الصوم،الحدیث:۲۴۱۴۹،ج۸،ص۲۵۵)

مَحشرمیں روزہ داروں کے مزے

             حضرتِ  سیِّدُنا اَنَس  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ قِیامت کے دن روزے دار قبروں سے نکلیں گے تو وہ روزے کی بُو سے پہچانے جائیں گے،ان کے سامنے طرح طرح کے کھانے اور



Total Pages: 194

Go To