Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  فارغ وقت یوں ہی پڑے پڑے گزارنے کے بجائے ذکر ودُرُود اور نوافل وغیرہ میں گزارنا چاہئے کہ پھر مرنے کے بعد یہ موقع نہیں مل سکے گا۔ زندگی میں کافی فارغ وقت مل سکتا ہے لہٰذا  ’’ فرصت کو مصروفیت سے پہلے غنیمت جانو  ‘‘  کے تحت ہوسکے تو نوافل کی کثرت کیجئے ان کے فضائل وبرکات بے شمار ہیں ،  چنانچہ حضرت سَیِّدنا ابو ہریرہ   رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسلَّمنے فرمایا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:  ’’  میرا بندہ جن چیزوں کے ذریعہ میری قربت چاہتا ہے ان میں سب سے زیادہ فرائض مجھے محبوب ہیں اور نوافل کے ذریعے بندہ میرے قریب ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس کو محبوب بنا لیتا ہوں ۔(صحیح البخاری،کتاب الرقاق،باب التواضع،الحدیث:۶۵۰۲،ج۴،ص۲۴۸)

          اس روایت کے تحت مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی مِرآۃ المناجیح ، جلد 3،صَفْحہ 308پر تحریر کرتے ہیں :  ’’ یعنی بندۂ مسلمان فرض عبادات کے ساتھ نوافل بھی ادا کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ میرا پیارا ہوجاتا ہے کیونکہ وہ فرائض و نوافل کا جامع ہوتا ہے،اس کا مطلب یہ نہیں کہ فرائض چھوڑ کر نوافل ادا کرے۔ ‘‘

            دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مَکْتَبَۃُ الْمَدِیْنَہ کی مطبوعہ 1250 صَفحات پر مشتمل کتاب  ’’  بہارِ شریعت‘‘  جلد اوّل،حصہ 4 ، صَفْحَہ 674پر ہے: نوافل تو بہت کثیر ہیں ،  اوقاتِ ممنوعہ کے سوا آدمی جتنے چاہے پڑھے مگر ان میں سے بعض جو حضور سَیِّدُ الْمُرسَلِین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ و ا    ئمہ ء  دِینرَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُم  سے مروی ہیں ،  بیان کیے جاتے ہیں :

تَحِیَّۃُ الْمَسْجِد

      حضرت       سَیِّدُنا ابوقَـتَادہ رَضِیَ اللّٰہُ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضورِ اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  فرماتے ہیں :  ’’ جو شخص مسجد میں داخل ہو، بیٹھنے سے پہلے دو رکعت پڑھ لے۔ ‘‘ (صحیح البخاری،کتاب الصلاۃ،باب اذا دخل المسجد۔۔۔الخ،الحدیث:۴۴۴،ج۱،ص۱۷۰)

            جو شخص مسجد میں آئے اُسے دو رکعت نماز پڑھنا سنت ہے بلکہ بہتر یہ ہے کہ چار پڑھے، اگر ایسے وقت مسجد میں آیا جس میں نفل نماز مکروہ ہے مثلاً بعد طلوعِ فجر یا بعد نمازِ عصر تو وہ تَحِیِّۃُ الْمَسْجِد نہ پڑھے بلکہ تَسْبِیْحوتَہْلِیْل ودُرُود شریف میں مشغول ہو، حقِ مسجد ادا ہو جائے گا۔(ردالمحتار،کتاب الصلاۃ،باب الوتروالنوافل، مطلب في تحیۃ المسجد،ج۲،ص۵۵۵)

تَحِیَّۃُ الْوُضُو

            نبی کریم، رَئُ وْفٌ رَّحِیْم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا:  ’’ جو شخص وضو کرے اور اچھا وضو کرے اور ظاہر و باطن کے ساتھ متوجہ ہو کر دو رکعت پڑھے، اس کیلئے جنت واجب ہو جاتی ہے۔ ‘‘ (صحیح مسلم،کتاب الطھارۃ، باب الذکر المستحب عقب الوضوئ، الحدیث:۲۳۴، ص۱۴۴)

            وضو کے بعد اعضا خشک ہونے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھنا مستحب ہے، غسل کے بعد بھی دو رکعت نماز مستحب ہے۔ وضو کے بعد فرض وغیرہ پڑھے تو قائم مقام تَحِیَّۃُ الْوُضُو کے ہوجائیں گے۔  (ردالمحتار،کتاب الصلاۃ،باب الوتر والنوافل،مطلب سنۃ الوضوئ،ج۲،ص۵۶۳)

نمازِ اشراق

            حضرت سَیِّدنا انس   رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ سرکارِمدینہ، سلطانِ باقرینہصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ارشادفرماتے ہیں :  ’’ جو فجر کی نماز جماعت سے پڑھ کر بیٹھا ذکرِ خدا کرتا رہا، یہاں تک کہ آفتاب بلند ہوگیا پھر دو رکعتیں پڑھیں تو اُسے پورے حج اور عمرہ کا ثواب ملے گا۔ (سنن الترمذی، کتاب السفر،باب ماذکر مما یستحب من الجلوس في المسجد۔۔۔الخ، الحدیث: ۵۸۶، ج۲ ، ص۱۰۰)

نمازِ چاشت

            حدیثِ پاک میں ہے: ’’  جس نے چاشت کی بارہ رکعتیں پڑھیں اللّٰہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں سونے کا محل بنائے گا۔ ‘‘  (سنن الترمذی،کتاب الوتر،باب ماجاء في صلاۃ الضحیٰ،الحدیث:۴۷۲،ج۲،ص۱۷)

ہرجوڑ کے بدلے صَدَقہ

            حضرت سَیِّدنا ابو ذَر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ نبی کریم عَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالتَّسْلِیمارشاد فرماتے ہیں : آدمی پر اسکے ہر جوڑ کے بدلے صَدَقہ ہے (اور کل تین سو ساٹھ جوڑ ہیں )   ہر تسبیح       صَدَقہ ہے اور ہر حمد صَدَقہ ہے اور لَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ    کہنا     صَدَقہ ہے اور اَللّٰہُ اَکْبَرْ کہنا صدقہ ہے اور اچھی بات کا حکم کرنا صدقہ ہے اور بری بات سے منع کرنا صدقہ ہے اور ان سب کی طرف سے دو رکعتیں چاشت کی کفایت کرتی ہیں ۔(صحیح مسلم، کتاب صلاۃ المسا فرین، باب استحباب صلاۃ الضحٰی۔۔۔الخ، الحدیث:۷۲۰،ص۳۶۳)

            چاشت کی نماز مستحب ہے، کم از کم دو اور زیادہ سے زیادہ اسکی بارہ رکعتیں ہیں اور افضل بارہ ہیں ،  نماز چاشت کا وقت آفتاب بلند ہونے سے زوال یعنی      نِصْفُ النَّہَارِشَرْعی تک ہے اور بہتر یہ ہے کہ چوتھائی دن چڑھے پڑھے۔ (الفتاوی الھندیۃ،کتاب الصلاۃ،الباب التاسع فی النوافل،ج۱، ص۱۱۲،وردالمحتار، کتاب الصلاۃ،باب الوتروالنوافل،مطلب:سنۃ الوضوئ،ج۲، ص۵۶۳)

نمازِ سفر

            سفر میں جاتے وقت دو رکعتیں اپنے گھر پر پڑھ کر جائے، حدیث میں ہے:  ’’ کسی نے اپنے اہل کے پاس اُن دو رکعتوں سے بہتر نہ چھوڑا جو بوقت ارادۂ سفر ان کے پاس پڑھیں۔‘‘(ردالمحتا ر،کتاب الصلاۃ، باب الوتر والنوافل، مطلب في رکعتی السفر،ج۲،ص۵۶۵وفیض القدیر شرح الجامع الصغیر،الحدیث:۷۹۰۰،ج۵،ص۵۶۶)

نماز واپسیٔ سفر

            سفر سے واپس ہو کر دو رکعتیں مسجد میں ادا کرے، حضرت کعب بن مالک   رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ

Total Pages: 194

Go To