Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

پہلے اِس نے پڑھنا شروع کر دیا ہو اور اگر وہ جگہ کام کرنے کیلئے مقرر نہ ہو تو اگر پہلے پڑھنا اِس نے شروع کیا اور لوگ نہیں سنتے تو لوگوں پر گناہ اور اگرکام شروع کرنے کے بعد اِس نے پڑھنا شروع کیا، تو اِس(یعنی پڑھنے والے) پر گناہ (غنیۃ المتملی،ص۴۹۷)  {10} جہاں کوئی شخص علمِ دین پڑھا رہا ہے یا طالبِ علم علمِ دین کی تکرار کرتے یا مُطالَعَہ دیکھتے ہوں ،  وہاں بھی بلند آواز سے پڑھنا منع ہے (ایضًا،ص۴۹۷) {11}  لیٹ کر قرآن پڑھنے میں حرج نہیں جبکہ پاؤ ں سِمٹے ہوں اور منہ کُھلا ہو، یوہیں چلنے اور کام کرنے کی حالت میں بھی تلاوت جائز ہے، جبکہ دل نہ بٹے، ورنہ مکروہ ہے۔ (ایضًا،ص۴۹۶)  {12}  غسل خانے اورنَجاست کی جگہوں میں قرآنِ مجید پڑھنا، ناجائز ہے (ایضًا)  {13}  قرآنِ مجید سُننا، تلاوت کرنے اورنَفل پڑھنے سے افضل ہے (ایضًا،ص۴۹۷)  {14}  جو شخص غَلَط پڑھتا ہو تو سُننے والے پر واجِب ہے کہ بتا دے، بشرطیکہ بتانے کی و جہ سے کینہ وحسد پیدا نہ ہو (ایضًا،ص۴۹۸) {15}  اسی طرح اگر کسی کا مُصْحف شریف (قرآنِ پاک) اپنے پاس عارِیَت (یعنی وقتی طور پر لیا ہوا) ہے، اگر اس میں کِتابت کی غَلَطی دیکھے، (تو جس کا ہے اُسے ) بتا دینا واجِب ہے (بہارشریعت،ج۱،حصہ۳،مسئلہ۶۰، ص۵۵۳)  {16}  گرمیوں میں صبح کو قرآنِ مجید ختم کرنا بہتر ہے اورسردیوں میں اوّل شب کو کہ حدیثِ پاک میں ہے:  ’’ جس نے شروع دن میں قرآن ختم کیا، شام تک فرِشتے اس کے لیے اِستِغفار کرتے ہیں اور جس نے اِبتِدائے شب میں ختم کیا، صبح تک اِستِغفار کرتے ہیں ۔ ‘‘  (حلیۃ الاولیاء ،  طلحۃ بن مصرف ،  الحدیث : ۶۱۹۹،ج۵،ص۳۰) گرمیوں میں چُونکہ دن بڑا ہوتا ہے تو صبح کے وَقت ختم کرنے میں اِستِغفارِ ملائکہ زیادہ ہوگی اور جاڑوں (یعنی سردیوں ) کی راتیں بڑی ہوتی ہیں تو شروع رات میں ختم کرنے سے اِستِغفار زیادہ ہوگی۔(غنیۃ المتملی، ص۴۹۶)   {17} جب قرآنِ پاک ختم ہو تو تین بار سورۂ اِخلاص پڑھنابہتر ہے اگرچِہ تراویح میں ہو، البتَّہ اگر فرض نَماز میں ختم کرے تو ایک بار سے زیادہ نہ پڑھے (غنیۃ المتملی،ص۴۹۶)    {18}  ختمِ قرآن کا طریقہ یہ ہے کہ سُورَۃُ النَّاس پڑھنے کے بعد سورۂ فاتحہ اور سورۂ بقرہ سے وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۵)تک پڑھئے اور اس کے بعد دعا مانگئے کہ یہ سنّت ہے چُنانچِہ حضرتِ  سیِّدُنا  عبد   اللّٰہ    بن عباسرَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُم ا حضرتِ  سیِّدُنا اُبی بن کَعْب  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کرتے ہیں کہ نبیِّ کریم، رؤ وفٌ رَّحیم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  جب ’’  قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ(۱)  ‘‘  پڑھتے تو سورۂ فاتحہ شروع فرماتے پھر سورۂ بقرہ سے  ’’  وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۵)  ‘‘ تک پڑھتے پھر ختم قرآن کی دعا پڑھ کر کھڑے ہوتے۔  (الاتقان فی علوم القران،النوع الخامس والثلا ثون فی آداب تلاوتہ وتالیفہ،ج۱،ص۱۵۸)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!             صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  تلاوت کی فضیلتیں اور بَرَکَــــــتیں حاصل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ قرآن شریف کو درست پڑھا جائے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّامت کی خیر خواہی کے مقدس جذبے کے تحت، تجوید ومخارج کے ساتھ قرآن پاک سیکھنے سکھانے کیلئے تبلیغِ قرآن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک،  ’’ دعوتِ اسلامی ‘‘  کے تحت دنیا کے مختلف ممالِک میں بے شمار مدارِس بنام مَدْرَسۃُ الْمَدِ  ینَہ قائم ہیں ۔ جن میں تادمِ تحریر صرف پاکستان میں کم وبیش بَہتّرہزار مدنی مُنّے اور مدنی مُنّیاں حِفظ وناظِر ہ کی مفت تعلیم حاصل کررہے ہیں ،  نیز لا تعداد مساجِد و مقامات پر مَدْرَسَۃُ الْمَدِ   یْنَہ   (بالِغان) کا بھی اہتمام ہوتا ہے، جن میں دن کے اندر کام کاج میں مصروف رہنے والوں کو عُمومًا نَمازِ عشا کے بعد تقریباً 40    مِنَٹ کیلئے دُرُست قرآنِ مجید پڑھانے کے علاوہ مختلف دعائیں یاد کروائی جاتیں اور سنّتیں بھی سکھائی جاتی ہیں ،  آپ بھی ان مدارس میں قرآنِ کریم پڑھئے، اگر پڑھے ہوئے ہیں تو پڑھایئے!  

            آپ کی ترغیب و تَحْرِیْص کے لئے عرض ہے: ایک اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے: میرے گناہ     بَہُت زیادہ تھے۔جن میں معاذَ اللّٰہ     V.C.R. کی لیڈ سپلائی کرنا، راتوں کو اَوباش لڑکوں کے ساتھ گھومنا، روزانہ دوبلکہ تین تین فلمیں دیکھنا، وِرائٹی پروگرامز میں راتیں کالی کرنا شامل ہے۔ اَلْحَمْدُللّٰہ عَزَّوَجَلَّ بابُ المدینہ کراچی کے عَلاقے نیا آباد کے ایک اسلامی بھائی کی مسلسل اِنفِرادی کوشِش کی بَرَکت سے عَلاقے کے مَدْ   رَسَۃُ الْمَدِ  یْنَہ (برائے بالِغان)  میں جانے کی ترکیب بنی، اور اس طرح عاشقانِ رسول کی صُحبت ملی اور میں تبلیغِ قرآن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ،  دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابَستہ ہوکر مدنی کاموں میں مصروف ہوگیا۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  بیان کو اِختِتام کی طرف لاتے ہوئے سنّت کی فضیلت اور چند سنّتیں اور آداب بیان کرنے کی سعادت حاصِل کرتا ہوں چنانچہ تاجدارِ رسالت، شمعِ بزمِ ہدایت ، نوشۂ بزمِ جنت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰیعَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ جنت نشان ہے: جس نے میری سنّت سے  مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سیمَحَبَّت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا۔(تاریخ مدینۃ دمشق لابن عساکر، انس بن مالک،ج۹،ص۳۴۳)

            لہٰذا سرمہ لگانے کے 4مدنی پھول قبول فرمائیے(اس کتاب کے صفحہ نمبر  583سے بیان کیجئے)

٭٭٭٭٭

بیان نمبر3:

فیضانِ نوافل

شیخ طریقت، امیر ِاہلسنت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال   محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ العَالِیَہ  ’’  رسائل ِعطاریہ ‘‘  (حصہ دوم) کے صَفْحَہ 12 پر حدیثِ پاک نقل فرماتے ہیں کہ نبی مکرَّم، نورِ مجسَّم، شَہَنْشاہِ بنی آدم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان مغفِرَت  نشان ہے: ’’  جو مجھ پرروزانہ دن میں ایک ہزار بار درود پاک پڑھے گا وہ اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک جنت میں اپنا مقام نہ دیکھ لے۔ ‘‘  (الترغیب و الترہیب،کتاب الذکر والدعاء،الترغیب فی اکثار الصلاۃ علی النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلم،الحدیث:۲۵۹۱،ج۲،ص۳۲۶)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 



Total Pages: 194

Go To