Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

الحدیث:۲۹۱۹،ج۴،ص۴۱۷)

تلاوت کی توفیق دیدے الٰہی

گناہوں کی ہو دور دل سے سیاہی

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب              صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

بہترین شخص

            نبی ِمکرَّم ،  نُورِ مُجَسَّم، رسولِ اکرم ، شَہَنشاہِ بنی آدم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ معظَّم نشان ہے: خَیْرُ کُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْاٰنَ وَعَلَّمَہٗ یعنی تم میں بہترین شخص وہ ہے جس نے قرآن سیکھا اور دوسروں کو سکھایا۔ (صحیح البخاری،کتاب فضائل القرآن، باب خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ،الحدیث:۵۰۲۷،ج۳،ص۴۱۰)

            حضرتِ  سیِّدُنا ابو عبد الرحمن سُلَمی رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ مسجِدمیں قرآنِ پاک پڑھایا کرتے اور فرماتے: اِسی حدیث ِمبارک نے مجھے یہاں بٹھا رکھا ہے۔(فیض القدیر،تحت الحدیث:۳۹۸۳،ج۳،ص۶۱۸)

اللّٰہ   مجھے   حافظِ   قرآن    بنا دے

قرآن کے اَحکام پہ بھی مجھ کو چلا دے

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب  صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

قرآن پاک شفاعت کرے گا

           حضرتِ  سیِّدُنا اَنَس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوایت ہے کہ رسولِ اکرم، رحمتِ عالَم ،  نُورِ مُجَسَّم ،  شاہِ بنی آدم ،  رسولِ مُحْتَشَمصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ معظَّم ہے: جس شخص نے قرآنِ پاک سیکھا اور سکھایا اور جو کچھ قرآنِ پاک میں ہے اس پر عمل کیا، قرآن شریف اس کی شفاعت کریگااور جنت میں لے جائے گا۔(تاریخ د مشق لابن عسا کر،ذکر من اسمہ عقیل،۴۷۳۴۔عقیل بن احمد بن محمد، ج۴۱،ص۳)

الٰہی خوب دیدے شوق قرآں کی تلاو ت کا

شَرَف دے گنبد ِخضرا کے سائے میں شہادت کا

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                   صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

قرآنِ مجید کی ا  یک آیت سکھا نے کی فضیلت

            حضرتِ  سیِّدُنا اَنَس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوایت ہے کہ جس شخص نے قرآنِ مجید کی ایک آیت یا دین کی کوئی سنّت سکھائی قِیامت کے دن اللّٰہ تعالٰیاس کے لیے ایسا ثواب تیار فرمائے گا کہ اس سے بہتر ثواب کسی کے لیے بھی نہیں ہوگا۔  (جمع الجوامع للسیوطی،حرف المیم، الحدیث:۲۲۴۵۴،ج۷،ص۲۰۹ )

تلاوت قرآن کے مختلف مدنی پھول

        شیخ ِطریقت، امیر ِاہل ِسنت، بانیء دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال  محمد الیاس عطّار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ 49  صَفْحات پر مشتمل رسالہ  ’’ تلاوت کی فضیلت  ‘‘   صَفْحَہ 11 پر تحریر فرماتے ہیں :

  {1}  تلاوت کے آغاز میں اَعُوْذُپڑھنا مُسْتَحَب ہے اور ابتدائے سورت میں بِسْمِ اللّٰہسنّت، ورنہ مُسْتَحَب۔            (بہار شریعت، ج۱،حصہ۳،ص۵۵۰)

 {2} باوُضُو، قِبلہ رُو، اچّھے کپڑے پہن کر تِلاوت کرنامُسْتَحَب ہے (ایضاً،ص۵۵۰)   {3}  قرآنِ مجیددیکھ کر پڑھنا، زَبانی پڑھنے سے افضل ہے کہ یہ پڑھنا بھی ہے اور دیکھنا اور ہاتھ سے اس کا چُھونا بھی اور یہ سب کام عِبادت ہیں ۔ (غنیۃ المتملی، ص۴۹۵)

 {4}  قرآنِ مجید کو نہایت اچھی آواز سے پڑھنا چاہیے، اگر آواز اچّھی نہ ہو تو  اچّھی آواز بنانے کی کوشش کرے،مگر لَحْن کے ساتھ پڑھنا کہ حُرُوف میں کمی بیشی ہوجائے جیسے گانے والے کیا کرتے ہیں یہ ناجائز ہے، بلکہ پڑھنے میں قوا   عِدِ تَجوید کی رعایت کیجئے  (الدرالمختار و رد المحتار،کتاب الحظروالاباحۃ،فصل فی البیع،ج۹، ص۶۹۵)

 {5}  قرآنِ مجید بلند آواز سے پڑھنا افضل ہے جب کہ کسی نَمازی یا مریض یا سوتے کو اِیذا نہ پہنچے۔ (غنیۃ المتملی،ص۴۹۷) {6} جب قرآنِ پاک کی سورَتیں یا آیَتیں پڑھی جاتی ہیں اُس وقت بعض لوگ چپ تو رہتے ہیں مگر اِدھر اُدھر دیکھنے اور دیگر حرکات و اشارات وغیرہ سے باز نہیں آتے،ایسوں کی خدمت میں عرض ہے کہ چپ رہنے کے ساتھ ساتھ غور سے سننا بھی لازِمی ہے جیسا کہ فتاویٰ رضویہ جلد 23 صَفْحَہ 352پرمیرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت، مولیٰنا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں :قرآنِ مجید پڑھا جائے اسے کان لگا کر غور سے سُننا اور خاموش رہنا فرض ہے۔ قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی(اللّٰہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا)     :

وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ(۲۰۴) (پ۹،الاعراف:۲۰۴)

ترجَمۂ کنزالایمان:اورجب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو کہ تم پر رحم ہو۔

 {7}  مجمع میں سب لوگ بلند آواز سے پڑھیں یہ حرام ہے، اکثر تیجوں میں سب بلند آواز سے پڑھتے ہیں یہ حرام ہے، اگر چند شخص پڑھنے والے ہوں تو حکم ہے کہ آہستہ پڑھیں (بہارشریعت،ج۱