Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

یعنی  ’’ صدائے مدینہ ‘‘  لگانے کی ذِمّہ داری ملی ہوئی ہے۔ (دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں مسلمانوں کو نَمازِ فَجر کیلئے اُٹھانے کو  ’’ صدائے مدینہ ‘‘  لگانا کہتے ہیں )

گرچہ اعمالِ بد اور اَفعالِ بد                            نے ہے رُسوا کیا، قافِلے میں چلو

کر سفر آؤ  گے، تم سُدھر جاؤ  گے                    مانگو چل کر دُعا، قافِلے میں چلو

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  دیکھا آپ نے!  عاشِقانِ رسول کی صحبت نے کس طرح ایک بے نمازی نوجوا ن کو دوسروں کو نماز کی دعوت دینے والا بنادیا!  اس میں کوئی شک نہیں کہ صحبت ضَرور رنگ لاتی ہے، اچھی صحبت اچھا اور بُری صحبت بُرا بناتی ہے ۔ لہٰذا ہمیشہ عاشِقانِ رسول کی صحبت اختیار کرنی چاہئے۔(فیضان سُنَّت،باب فیضان رمضان،ج۱،ص۱۳۷۰)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  بیان کو اِختِتام کی طرف لاتے ہوئے سنّت کی فضیلتاورچند سنّتیں اور آداب بیان کرنے کی سعادت حاصِل کرتا ہوں ۔ تاجدارِ رسالت  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کا فرمانِ جنّت نشان ہے:  ’’ جس نے میری سنّت سے مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّتکی اور جس نے مجھ سے مَحَبَّتکی وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا۔ ‘‘ (تاریخ مدینۃ دمشق لابن عساکر، انس بن مالک،ج۹،ص۳۴۳)

لہٰذا گھر میں آنے جانے کے 12مدنی پھول قبول فرمائیے،(اس کتاب کا صفحہ نمبر 665سے بیان کریں )

٭٭٭٭٭

بیان نمبر2:

فیضانِ تلاوت

         شیخ ِطریقت، امیر ِاہل ِسنت، بانیء    دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  ’’  رسائل ِعطاریہ ‘‘  (حصہ دوم)کے صَفْحَہ 12 پر حدیث ِپاک نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم ، رؤوف رحیمصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’  تم جہاں بھی ہو مجھ پر درود پڑھو کہ تمہارا درود مجھ تک پہنچتا ہے۔ ‘‘ (المعجم الکبیر للطبرانی،الحدیث:۲۷۲۹،ج۳،ص۸۲)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                                                       صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

یہی ہے آرزو تعلیمِ قرآں عام ہوجائے

ہر اِک پرچم سے اونچا پرچمِ اسلام ہو جائے

            دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مَکْتَبَۃُ الْمَدِیْنَہ کے مطبوعہ 49 صَفْحات پر مشتمل رسالہ،  ’’  تلاوت کی فضیلت  ‘‘  صَفْحَہ 2 پر ہے:

روزانہ ا   یک با  ر ختمِ قرآنِ  پاک

            حضرتِ  سیِّدُنا ثابِت بُنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیْ روزانہ ایک بار ختمِ قرآن پاک فرماتے تھے۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہہمیشہ دن کوروزہ رکھتے اورساری رات قِیام (عبادت) فرماتے ،  جس مسجِد سے گزرتے اس میں دو رَکعت  (تَحِیَّۃُ الْمَسْجِد) ضَرور پڑھتے۔ تحدیث ِنعمت کے طور پر فرماتے ہیں : میں نے جا مِع مسجِد کے ہرسُتُون کے پاس قرآنِ پاک کا ختم اور بارگاہ ِ الٰہی عزَّوَجَلَّ میں گِریہ کیا ہے۔ نَماز اور تِلاوتِ قرآن کے ساتھ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو خُصوصی مَحَبَّت تھی، آپ  رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہپر   اللہ    عَزَّوَجَلَّکاایسا کرم ہوا کہ رشک آتا ہے چُنانچِہ وفات کے بعددورانِ تدفین اچانک ایک اینٹ سَرَک کر اندر چلی گئی، لوگ اینٹ اٹھانے کے لئے جب جھکے تو یہ دیکھ کر حیران رَہ گئے کہ آپ  رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ قَبْر میں کھڑے ہو کر نَماز پڑھ رہے ہیں !  آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے گھر والوں سے جب معلوم کیا گیا تو شہزادی صاحِبہ نے بتایا : والدِ محترمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم روزانہ دُعا کیا کرتے تھے:  ’’ یااللّٰہ!  اگرتُو کسی کو وفات کے بعد قَبْر میں نَماز پڑھنے کی سعادت عطا فرمائے تو مجھے بھی مُشرّف فرمانا۔ ‘‘  منقول ہے: جب بھی لوگ آپ    رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے مزارِ پُر اَنوار کے قریب سے گزرتے تو قَبْرِ انور سے تِلاوتِ قرآن کی آواز آرہی ہوتی۔(حلیۃ الاولیاء،۱۹۷، ثابت البنانی،ج۲،ص۳۶۲۔۳۶۶ مُلتَقطاًاللہ  عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماریمغفِرت ہو۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

دَہَن مَیلا نہیں ہوتا بدن مَیلا نہیں ہوتا

خدا کے اولیاء کا تو کفن مَیلا نہیں ہوتا

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                   صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          قرآنِ مجید، فرقانِ حمید  اللہ  ربُّ الانام عزَّوَجَلَّ  کامبارَک کلام ہے ،  اِس کا پڑھنا ،  پڑھانااور سننا سنانا سب ثواب کا کام ہے۔قرآنِ پاک کا ایک حَرف پڑھنے پر 10نیکیوں کا ثواب ملتا ہے ، چُنانچِہ

قرآنِ پاک کا ایک حَرف پڑھنے کا ثواب

                خاتَمُ الْمُرْسَلین، شفیعُ الْمُذْنِبیْن،رَحمَۃٌ لِّلْعٰلَمین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ دِلنشین ہے: ’’ جو شخص کتابُ اللّٰہ کا ایک حَرف پڑھے گا، اُس کو ایک نیکی ملے گی جو دس کے برابر ہوگی۔ میں یہ نہیں کہتا ’’   اللہ  ‘‘  ایک حَرف ہے، بلکہ اَلِف ایک حَرف ،  لام ایک حَرف اور میم ایک حَرف ہے۔ ‘‘  (سنن الترمذی،کتاب فضائل القرآن،باب ماجاء فی من قرء حرفاً۔۔۔الخ،



Total Pages: 194

Go To