Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

                میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  دنیا کی ہر چیز  اللہ    عَزَّوَجَلَّکی تحمید وتقدیس میں رَطْبُ اللسان ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّؕ-وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَ لٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْؕ- (پ۱۵،بنیٓ اسراء یل:۴۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اس کی پاکی بولتے ہیں ساتوں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہیں اور کوئی چیز نہیں جواسے سَرَا ہْتی ہوئی اس کی پاکی نہ بولے ہاں تم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے ۔

         اس آیت مبارکہ کے تحت مفسرِ قرآن حضرت علامہ مولانا صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادیعلیہ رَحمَۃُ اللّٰہ الھادی تحریر کرتے ہیں :

            مفسِّرین     رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن نے کہا کہ دروازہ کھولنے کی آواز اور چھت کا چٹخنا یہ بھی تسبیح کرنا ہے اور ان سب کی تسبیح  ’’  سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ  ‘‘  ہے ۔(تفسیر البغوی، سورۃ الاسراء،تحت الآیۃ:۴۴،ج۳،ص۹۶)

حضرت عبد اللہ  ابن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ     تَعَالٰی عَنْہُ سے منقول ہے کہ رسولِ کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی انگُشتِ مبارک سے پانی کے چشمے جاری ہوتے ہم نے دیکھے اور یہ بھی ہم نے دیکھا کہ کھاتے وقت میں کھانا تسبیح کرتا تھا ۔(صحیح البخا ری،کتاب المناقب، باب علامات النبوۃ۔۔۔الخ، الحدیث:۳۵۷۹، ج۲،ص۴۹۵)

 حضرت جابر بن سَمُرَہ رَضِیَ اللّٰہُ     تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رسولُ  اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشادفرمایا : ’’  میں مکہ کے اس پتھر کو اب بھی پہچانتا ہوں جو میری بعثت سے قبل مجھے سلام کیا کرتا تھا۔ ‘‘ (صحیح مسلم،کتاب الفضائل،باب فضل نسب النبی علیہ الصلاۃ والسلام۔۔۔الخ،الحدیث:۲۲۷۷،ص۱۲۴۹)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  کائنات کا ذرہ ذرہ    اللہ   عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کرتا ہے لیکن ہم کس قدر نادان ہیں کہ ہم پر  اللہ  عَزَّوَجَلَّ کی بے شمار نعمتوں اور طرح طرح کے انعامات ہونے کے باوجود ہم اس کی یاد اور ذکر سے غافل ہیں ہمیں تو چاہیے ہر وقت اس کے ذکر میں مشغول رہیں ،  اللہ عَزَّوَجَلَّ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:

وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ(۴۵) (پ۱۰،الانفال:۴۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اللّٰہکی یاد بہت کرو کہ تم مراد کو پہنچو ۔

            اس آیت مبارکہ کے تحت صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہ رَحمَۃُ اللّٰہِ الھَادِیْفرماتے ہیں : اس سے معلوم ہوا کہ انسان کو ہر حال میں لازم ہے کہ وہ اپنے قلب و زبان کو ذکرِ الٰہی میں مشغول رکھے اور کسی سختی و پریشانی میں بھی اس سے غافل نہ ہو ۔(خزائن العرفان)

          دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مَکْتَبَۃُ الْمَدِیْنَہ کی مطبوعہ743 صَفحات پر مشتمل کتاب  ’’ جنت میں لے جانے والے اعمال  ‘‘    صَفْحَہ 411پر حدیث پاک ہے:

نَفْلی عبادات سے عاجز ہونے والا

        حضرت ِ سیدنا ابن عباس  رَضِیَ اللّٰہُ     تَعَالٰی عَنہُماسے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،  قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشادفرمایا: ’’ تم میں سے جو رات کو عبادت کرنے ، اپنے مال کو راہِ خدا میں خرچ کر نے اور دشمن سے جہاد کرنے سے عاجز ہو توا سے چاہیے کہ  اللہ  عَزَّوَجَلَّکا ذکر کثرت سے کیا کرے۔ ‘‘

(شعب الایمان للبیہقی، باب فی محبۃ اللّٰہ، فصل فی ادامۃ ذکراللّٰہ، الحدیث:۵۰۸،ج۱،ص۳۹۰)

ہر بھلائی لے گئے

حضرت ِ سیدنا مُعاذ  رَضِیَ اللّٰہُتَعَالٰی عَنہفرماتے ہیں کہ ایک شخص نے سیِّدُ المبلِّغِین، رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْن صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کی بارگاہ میں عرض کیا: یارسولَ  اللّٰہ!  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْکَ وَسَلَّمکس مجاہد کا اجر سب سے زیادہ ہے ؟  فرمایا: ’’  جو اُن میں اللّٰہ تبارَک وتعالیٰ کا ذکر کثرت سے کرنے والا ہو۔ ‘‘  اس نے عرض کیا:  ’’  کس روزہ دار کا اجر سب سے زیادہ ہے؟  ‘‘  فرمایا:  ’’  جو اُن میں اللّٰہ تبارَک وتعالیٰ کا ذکر کثرت سے کرنے والا ہو۔ ‘‘  پھر اس نے نماز، زکوٰۃ، حج اور صَدَقہ کے بارے میں یہی سوال کیا ، رسولُ  اللّٰہ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے ہر ایک کے بارے میں یہی ارشاد فرمایا:  ’’  جو اُن میں اللّٰہ  تبارَک وتعالیٰ کا ذکر کثرت سے کرنے والا ہو۔ ‘‘  اس پر حضرت ِ سیدنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ     تَعَالٰی عَنہُنے حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ     تَعَالٰیعَنہُسے فرمایا:  ’’ اے ابو حَفْص!  ذکر کرنے والے تو ہربھلائی لے گئے۔ ‘‘  تو رسولُ  اللّٰہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے فرمایا:  ’’ ہاں !  ایسا ہی ہے ۔ ‘‘  (المسند للامام احمد بن حنبل،حدیث معاذ بن ا نس الجھنی، الحدیث: ۱۵۶۱۴،ج۵،ص۳۰۸)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  ہر گھڑی اپنی زبان کو   اللہ     عَزَّوَجَلَّکے ذکر میں مشغول رکھنے اور فضول گفتگو سے بچنے کی عادت بنانے کاایک بہترین ذریعہ دعوتِ اسلامی کے سنتوں کی تربیت کے مدنی قافلوں میں سفر بھی ہے لہٰذا عاشقانِ رسول کے ساتھ آپ بھی بارہ ماہ، بانوے دن، تیس دن، بارہ دن اور تین تین دن کے مدنی قافلوں میں سفر اختیار فرمائیے اور خوب برکتیں لوٹیے، آئیے میں آپ کو مدنی قافلہ کی مدنی بہار سناتا ہوں چنانچہ

            شاھْدَرَہ (مرکزُ الاولیاء لاہور) کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے، میں اپنے والدین کا اِکلوتا بیٹا تھا، زیادہ لاڈ پیار نے مجھے حد دَرَجہ ڈھیٹ اور ماں باپ کا سخت نافرمان بنا دیاتھا، رات گئے تک آوارہ گردی کرتا اور صبح دیر  تک سویا رہتا۔ ماں باپ سمجھاتے تو اُن کو جھاڑ دیتا۔ وہ بے چارے بعض اوقات رو پڑتے۔ دعائیں مانگتے مانگتے ماں کی پلکیں بھیگ جاتیں ۔ اُس عظیم لمحے پر لاکھوں سلام جس  ’’ لمحے ‘‘  میں مجھے دعوتِ اسلامی والے ایک عاشقِ رسول سے ملاقات کی سعادت ملی اور اُس نے مَحبت اور پیار سے اِنفرادی کوشِش کرتے ہوئے مجھ پاپی وبدکار کو مدنی قافِلے میں سفر کے

Total Pages: 194

Go To