Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

بیان تیارکرنے کا طر یقہ

( 1)     پہلے جمع شدہ مواد مثلاًحکایات یا واقعات ،  قرآنی آیات یا احادیث جن سے بیان شروع کرنا ہے انہیں بغور پڑھ لیں ۔

( 2)     اب غور کریں کہ اس میں کون سی بات سب سے پہلے بیان کرنا ضروری ہے ،  پھر کونسی ،  اس کے بعد کونسی اور آخر میں کونسی یا یوں غور کیجئے کہ سننے والے اس میں سے کس چیز کو پہلے جاننا چاہیں گے،اس کے بعد کس کو،مثلاً آپ حسد کا بیان کرنا چاہتے ہیں اور آپ کے پاس اس کا علاج ،  تباہ کاریاں ،  علامات، تعریف اور اس سلسلے میں بزرگانِ دین کے واقعات موجود ہیں تو یقینا سب سے پہلے اس کی تعریف بیان کرنی چاہئے کیونکہ عوام تو عوام بعض خواص بھی اس کی شرعی تعریف سے ناواقف ہونگے۔ اب اگر آپ نے تعریف بیان کئے بغیر حسد کی تباہ کاریاں بیا ن کرناشروع کردیں تو نہ سننے والے صحیح معنی میں خوف محسوس کریں گے اور نہ ہی اپنا محاسبہ کرسکیں گے، ہاں اگرآپ پہلے تعریف بیان کردیں تو ابتداء ہی سے سب کو معلوم ہوجائے گا کہ یہ عیب میری ذات میں موجود ہے یا نہیں ۔ اب اس کے بعد جب آپ اس کی تباہ کاریاں بیان کریں گے تو اس گناہ میں مبتلا حضرات بہت اچھی طرح اپنا محاسبہ کرسکیں گے ،  نیز اس کی آفات کے بیان سے ان کے دلوں میں خوف بھی پیدا ہوگا ۔ تعریف کے بعد اس گناہ سے توبہ کی طرف مائل کرنا یا محفوظ رہنے کے لئے عملی اقدام کی سوچ فراہم کرنا بھی ضروری ہے یقینا اس کے لئے حسد کی آفات کو بالتّفصیل بیان کیا جانا چاہئے، چنانچہ اس کی تباہ کاریاں بیان کیجئے اگرچہ تعریف کے ذریعے ہی حسد کی موجودگی پر باآسانی مطلع ہو ا جاسکتا ہے لیکن یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ نفس اپنی غلطی و عیب کبھی بھی تسلیم نہیں کرتا ،  چنانچہ اب اس کی علامات بیان کی جانی چاہئے تاکہ نفس کے لئے راہ فرار کے تمام راستے بند ہوجائیں ۔ تعریف و علامات و باعثِ ہلاکت ہونے کابیان کرنے کے بعد بے شک علاج بیان کرنے کی بھی ضرورت ہے اور علاج اختیار کرنے کی ترغیب کے لئے بزرگانِ دین کے اعمال و اقوال معاون ثابت ہوتے ہیں ،  لہٰذا آخر میں علاج، اسلاف کرامرَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُم کی حیات طیبہ کے ایمان افروز واقعات بیا ن کئے جائیں ۔ اس طرح غور کرنے پر حسد کے بیان کی درج ذیل ترتیب

سامنے آئی:  (۱ حسد کی تعریف    (۲)  حسد کی تباہ کاریاں    (۳علامات     (۴ علاج        (۵علاج کی ترغیب

  پس اسی طرح ہر بیان کو مرتب کرکے بیان کرنے کی عادت ڈالئے، اس کا فائدہ آپ خود دیکھیں گے۔(  اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ )

                 مدنی مشورہ ہے کہ اگر ممکن ہوسکے تو ہر عنوان کے تحت جمع شدہ مواد کو اسی طرح بالترتیب کسی الگ ڈائری میں لکھتے جائیں ،  یوں آپ کے پاس مختلف موضوعات پر کئی بیا ن بالکل تیار حالت میں موجود ہوں گے۔

٭٭٭٭٭

مبلغ کے مد نی پھول

( 1)    ’’ دعوت اسلامی ‘‘  کے مدنی ماحول میں بولی جانے والی اصطلاحات یاد ہوں اور ان کا استعمال عام اوقات میں اور دوران بیان بھی کرتا ہو۔

( 2)    ’’ دعوت اسلامی ‘‘  کے مخصوص سفیدمدنی لباس و سبز سبزعمامہ شریف اورسفیدچادر میں ہر وقت ملبوس رہتا ہو۔

( 3)     قبر و آخرت اور سنتوں کے فضائل وغیرہ اصلاحی موضوعات پر بیان کرے۔

( 4)    زبانی بیان نہ کرے علمائے اہلسنت کی کتب سے فوٹو کاپیاں کرواکر اپنی ڈائری میں چسپاں کرلے۔

( 5)    بیان سے قبل ایک نظر دیکھ لیا کرے اور بغیر تیاری کے بیان نہ کرے۔

( 6)    آیات کریمہ اور احادیث مبارکہ کا عربی متن صرف عالم ہی بیان کریں یا علماء سے سیکھ کر ان کو سنانے کے بعد ان کی اجازت سے بیان کرنے میں مضائقہ نہیں ۔ آیات مبارکہ کا ترجمہ صرف کنزالایما ن ہی سے بیان کرے۔

( 7)    دوران بیان نہ صرف مدنی قافلوں اور مدنی انعامات کا تذکرہ ہو بلکہ ان کی اچھی طرح ترغیب دلائے، صرف مدنی انعامات پر عمل کا کہنے کی بجائے روزانہ فکرِ مدینہ کرکے ہر ماہ رسالہ جمع کروانے کا مشور ہ بھی دے، مدنی ماحول کی برکتوں اورمدنی بہاروں سے آگاہ کرے۔

( 8)    بیان کرتے وقت دوسروں کو نصیحت کرنے کی بجائے تصور یہ کرے کہ خود اپنے آپ کو سمجھارہا ہوں ۔

( 9)    مشکل الفاظ اورادق(نہایت باریک)مضامین سے اجتناب کرے۔

( 10)  لوگوں پر اثر نہ ہو تو ان کو سخت دل سمجھنے یا کہنے کی بجائے اپنے اخلاص کی کمی تصور کرکے استغفار کرے۔

( 11)  بیان سنجیدہ ہوگا تو دل پر اثر کرے گا اگر دورانِ بیان اس قسم کے جملے استعمال نہ کریں مثلاََ بولو سُبْحٰنَ اللّٰہ !  یا ادھوراجملہ کہہ کر اس انداز میں خاموش ہوئے کہ سامعین نے فقرہ پورا کیا یا بار بار کہتے رہے، کیا سمجھے؟  نہیں سمجھے آپ!  سمجھ گئے نا؟ وغیرہ اسی طرح لطائف بیان کئے یاایسے فقرے کہے کہ لوگ ہنسنے لگے اس طرح حاضرین اگرچہ محظوظ ہوکر واہ واہ کرتے ہیں مگر تجربہ یہ ہے کہ اس سے صحیح معنوں میں خوف خدا (عَزَّ وَجَلَّ)و عشق مصطفی( صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) اور سوز و گداز حاصل ہونا مشکل ہے۔

( 12)  علماء و مشائخ اہلسنت دامَتْ بَرکاتُھُمُ العالیَۃپر نہ بیان میں تنقید ہو نہ نجی گفتگو میں بلکہ دل میں بھی ان کا احترام لازم جانیں ۔

( 13)  سیاسی پارٹیوں ،  حکومت اور اس کے محکمے ،  پولیس ،  افواج، بلکہ دنیا کےکسی بھی ملک اور اس کے معاملات پر تنقید نہ کرے کہ اس طرح اس محکمے یا ملک وغیرہ کی اصلاح کی اُمید کم اور دین کے کام میں رکاوٹیں کھڑی ہوجانے کا امکا ن زیادہ ہے۔

( 14)  بیان میں وقت کی پابندی کو ملحوظ رکھے اتناطویل بیان نہ کرے کہ لوگ گھبرا جائیں ۔

 



Total Pages: 194

Go To