Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

فرمانِ امیر اہلسنت دامَتْ بَرکاتُھُمُ العالیَۃ ہے: ’’ بیان کرنے والا دعوت اسلامی کے مخصوص مدنی سفیدلبا س وسبزعمامہ وسفیدچادرمیں ہر وقت ملبو س رہنے والا ہو۔ ‘‘

( 5)     چیک کرلیں کہ گریبان کے بٹن کھلے ہوئے تو نہیں کیونکہ گریبان کے بٹن کھول کر رکھنا شریف لوگوں کا شیوہ نہیں ۔گریبان کے اوپر تک بٹن بند کرنے میں اگر تکلیف محسوس نہ ہوتو بند کرلیں ۔

( 6)     پائینچے سنت کے مطابق ہمیشہ ٹخنوں سے اوپر ہونے چاہئیں ،  لیکن بیان کرتے وقت تو خصوصی طور پر اس کا خیال رکھیں ۔ ورنہ نہ صرف اعتراض کا نشانہ بننا پڑے گا بلکہ کسی کے بدظن ہوکر بیان کی برکات سے محروم ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔ یونہی کرتے کا دامن دیکھ لیں کہ کہیں شلوار یا پاجامے کے نیفے میں پھنسا ہوا تو نہیں ؟

( 7)     پسینہ آنے کی صورت میں عطر کا استعمال بھی کیا جائے۔

( 8)     منہ میں بدبونہیں ہونی چاہئے ۔

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  ان مدنی پھولوں پر عمل کرکے ہم بیان سے پہلے اپنے لباس و جسم کو دیکھ لیں کہ کوئی افراط وتفریط نہ ہو۔

٭٭٭٭٭٭

بیان کی اقسام

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  ہمیں اپنے بیانات میں اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کا ذہن دینا ہے اور اس سلسلے میں مدنی قافلوں اور مدنی انعامات کی ترغیب دلانی ہے۔ ہمارے پاس بیان کرنے کیلئے کئی موضوعات ہوتے ہیں جن کے ذریعے ہم اپنے مدنی مقصد کو بیان کرتے ہیں ۔بیان کے مختلف انداز ہوتے ہیں اگر ہم ہر بیان کو ایک ہی انداز میں کریں گے تو بیان کی برکات حاصل نہیں کرپائیں گے ۔ لہٰذا بیان کرنے کے مختلف موضوعات کے بارے میں مدنی پھول پیش کئے جاتے ہیں تاکہ ہم ان مدنی پھولوں کے تحت اپنے انداز بیان کو درست کرسکیں ۔

           ہمارے پاس بیان کرنے کے دو مختلف موضوعات ہیں :

          (۱)  تنظیمی   (۲اصلاحی 

(1          تنظیمی:

            تنظیمی اعتبار سے بیان کرنے والے کو اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہئے کہ وہ اپنی بات کو سمجھانے والے انداز میں کرے چونکہ تربیتی اجتماع میں ہم مدنی کام کرنے کاطریقہ سیکھتے ہیں لہذا ہمیں اس طریقہ کار کو بیان کرنے کے لئے چندباتوں کا خیال رکھنا چاہئے ۔ چونکہ تنظیمی موضوع دوسرے موضوعات سے قدرے خشک ہوتا ہے لہٰذا اس میں مبلغ دلچسپی پیدا کرنے کے لئے دلچسپ  واقعات کو بھی شامل کرے مگر اس میں انداز اس طرح کا ہو جس طرح ہم کسی ایک شخص سے گفتگو کرکے اپنی بات سمجھانا چاہتے ہیں ، بلکہ ہم سننے والے اسلامی بھائیوں کے ذہن میں اس طرح اتر جائیں کہ انکی بوریت ختم ہوجائے اس کے لئے لازم ہے کہ ہم نے جونکات بیان کرنے ہیں ، ان پر ہماری اچھی طرح تیاری ہو تاکہ ہم روانی کے ساتھ بیان کرتے جائیں اور ساتھ ہی ساتھ ان پر عمل کی ترغیب بھی دلائی جائے مگر کسی بھی وقت اپنے بیان میں کسی ذمہ دار پر تنقید نہ کی جائے اور نہ یہ احساس دلایا جائے کہ آپ کو مدنی کام کرنے کا سلیقہ نہیں بلکہ مدنی کام کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے۔

            تنظیمی بیان میں نہ بالکل سنجیدگی ہو اور نہ بالکل غیر سنجیدہ پن بلکہ جوش اور نرمی دونوں شامل ہوں ،  اپنی طرف سے کوئی نکتہ ہرگز بیان نہ کریں بلکہ جو مدنی مرکز نے ہمیں مدنی نکات دیئے ہیں انہی کو بیان کریں ۔ اور ان نکات پر عمل کرنے کی ترغیب بھی دلائیں ۔

(2)         اصلاحی:

            اس موضوع پر بیان کرنے والا اس بات کا خاص طور پر خیال رکھے کہ میں اپنی اصلاح کے لئے بیان کررہا ہوں ۔ اصلاحی موضوع میں اصلاحِ معاشرہ ،  اصلاحِ نفس، گناہوں کی مذمت، گناہوں سے بچنے کی ترغیب، تکبر کی مذمت ،  غیبت کی مذمت، حسد، بدنگاہی وغیرہ پر بیان کرنا شامل ہے۔ اصلاحی موضوع میں مبلغ کا اپنا انداز اس طرح رکھنا اور سمجھانا چاہئے جیسے باپ اپنے بیٹے کو سمجھاتا ہے یعنی شفقت اور نرمی کے ساتھ بیان کیا جائے ۔

اگر اس میں محض جذباتی انداز ہوگا اور زورِبیان دکھانا مقصود ہوگا تو یاد رکھئے!   ’’  کسی کو سختی کے ساتھ سمجھانے کی مثال ایسی ہے کہ جس برتن میں پانی ڈالنا ہے گویا اس میں پہلے ہی سے سوراخ کردیا۔ ‘‘

ہے فلاح و کامرانی نرمی و آسانی میں       ہر بنا کام بگڑ جاتاہے نادانی میں

             جس اصلاحی موضوع پر بیان کرناہے پہلے اچھی طرح اس کی تیاری فرمالیں جب بھی اصلاحی بیان کرنا ہو پہلے اس کے موضوع کا تعارف کروائیں ۔ یعنی تکبر کو لے لیجئے کہ پہلے تکبر کی تعریف بیان کریں پھر تکبر کیا ہے؟  اس کے بارے میں بتائیں ،  پھر تکبر کی مذمت ،  پھر تکبر سے کیسے بچ سکتے ہیں اور اس کا علاج بتائیں ۔آخر میں اس کے علاج کی ترغیب ضرور دلائیں مثلاً میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  اگر ہم تکبر سے بچنا اور اپنے اندر عاجزی پیدا کرنا چاہتے ہیں توہمیں مدنی قافلوں میں سفر اور مدنی انعامات پر عمل اپنا معمول بناناہوگا ۔ ہم خود محسوس کریں گے کہ عاجزی ہماری طبیعت ثانیہ بنتی جارہی ہے۔

            فرمان امیر اہلسنت دامَتْ بَرکاتُھُمُ العالیَۃ ہے:  ’’ ہر بیان میں حتی الامکان تین مرتبہ مدنی قافلے اور مدنی انعامات کی ترغیب بھی ہونی چاہئے۔ ‘‘

 



Total Pages: 194

Go To