Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

ماں !   اسلام کیا ہے  ؟

            عاشقانِ رسول کا ایک مدنی قافلہ سنتوں کی تبلیغ کیلئے روس پہنچاتو وہاں کے ایک مسلمان نے یہ واقعہ رو تے ہوئے بیان کیاکہ

             ’’ یہاں پرمیری ملاقات ایک ایسے نوجوان سے ہوئی جو اپنے چہرے اور خدوخال سے مسلمان لگ رہا تھا۔ ملاقات کے دوران اس نے بتایا کہ ’’  میں بھی پہلے مسلمان تھالیکن اب غیرمسلم ہوچکا ہوں جبکہ میرے والدین ابھی بھی  مسلمان ہیں ۔(اپنے غیرمسلم ہونے کا واقعہ بتاتے ہوئے اس نے کہا کہ) میرے مسلمان ہونے کی وجہ سے کالج کے نوجوان طلبہ مجھ سے باربار مذہبِ اسلام کے بارے میں سوالات کرتے لیکن مغربی تہذیب وتمدن کے ماحول میں پرورش ہونے کی بناء پر میں بغلیں جھانک کر رہ جاتا۔روز روز کی پریشانی سے تنگ آکر ایک دن میں نے اپنی ماں سے پوچھا ،   ’’ ماں !  مجھے بتاؤ کہ اسلام کیا ہے ؟  مجھ سے کالج میں طلبہ اس کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔ ‘‘  تو میری ماں نے جواب دیا، ’’  مجھے تو خود معلوم نہیں کہ اسلام کیا ہے۔ ‘‘  جب میری ماں مجھے اسلام کے بارے میں کچھ نہ بتا سکی تو میں نے سوچا کہ  ’’  جس مذہب کے بارے میں نہ میں کچھ جانتا ہوں اور نہ ہی میری ماں تو میں اسے کیوں اختیا رکروں ، چنانچہ میں نے اپنے دوستوں کا مذہب اختیا ر کر لیا۔ ‘‘ پھر وہ نوجوان مجھ سے کہنے لگا ،  ’’ اب آپ ہی بتائیں کہ قصوروار کون ؟  ہم ۔۔ ۔یا۔۔۔وہ مسلمان جن کو اسلام کے بارے میں علم تھا لیکن انہوں نے اسے ہم تک نہیں پہنچایا؟  ‘‘

آہ !  اسلام سے دُ وری

            مدنی تربیت گاہ باب المدینہ کراچی سے ایک مدنی قافلہ ۳ دن کیلئے باب المدینہ کے اطراف میں واقع ایک گوٹھ میں پہنچا ۔اس مدنی قافلے میں دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے ایک رکن بھی شامل تھے ۔تیسرے اور  آخری دن جب دوپہر کے کھانے سے پہلے حلقہ لگا ہوا تھا تو ایک نوجوان مسجد میں آیا اورکہنے لگا کہ ’’  مجھے ایک مسئلہ پوچھنا ہے۔ ‘‘ چنانچہ دو اسلامی بھائی اسے ایک طرف لے گئے ۔اس نوجوان نے کہاکہ ’’  میں مسجد کے قریب سے گزر رہا تھا کہ اچانک میرے دل میں خیال آیا کہ یہاں ایک قافلہ آیا ہوا ہے، ان سے معلومات حاصل کرتاہوں کہ مسلمانوں اور قادیانیوں میں کیا فرق ہے ؟  ‘‘ پھر اس نے بتایاکہ  ’’ میری معلومات کے مطابق قادیانی بھی ہماری ہی طرح ہوتے ہیں ،  دونوں کے پاس ایک جیسا قرآنِ پاک ہے، ان کی تمام عبادتیں ہماری عبادتوں کی مثل ہیں ۔ میرے کافی دوست اس(قادیانیوں کی) طرف  مائل ہوچکے ہیں اورمیں بھی پچھلے ہفتے قادیانی بننے کے فارم پر سائن کرنے والا تھا مگر کسی وجہ سے نہیں کرسکا،اب آپ مدنی قافلے والے مجھے صحیح معلومات فراہم کریں کہ مسلمان اور قادیانی میں کیا فرق ہے؟  ‘‘  اس نے مزید بتایا کہ ’’  میں ان کی عبادت گاہ میں بھی جا چکا ہوں ، میرے پاس ان کی بہت کتابیں بھی ہیں ، میرا یہ ذہن بنایا گیا ہے کہ نمازیں پانچ نہیں ہوتیں بلکہ تین ہوتی ہیں جو تین منٹ میں ادا کی جاسکتی ہیں ۔ ‘‘  اس کی بات سننے کے بعد جب اس پر انفرادی کوشش کی گئی تواَلحَمْدُ للّٰہ عَزَّوَجَل!  اس نے توبہ کر لی اور عطاری سلسلہ میں بھی داخل ہوگیا اور اپنے دوستوں کو بھی اُس باطل مذہب سے بچانے کیلئے آئندہ ملاقات کروانے کی بھی ترکیب بنائی۔

آہ !  سارا گوٹھ ہی داڑھی منڈا

            باب الاسلام سندھ کے ضلع دادو میں ۳۰ دن کا ایک مدنی قافلہ سفر پر تھا ۔ ایک گوٹھ میں تین دن کے مدنی قافلہ کی ترکیب بنائی گئی ۔ جب قافلے والے ایک مسجد میں پہنچے توکسی مؤذن کے موجودنہ ہونے کی بناء پر خود ہی اذان دی ۔جب  جماعت کا وقت ہوا تو چند نمازی مسجد میں آئے اور قافلے والوں کو کہاکہ آپ نماز پڑھائیں ۔ امیرِقافلہ نے جواب دیا: ’’ امام صاحب کہاں ہیں ؟  وہ ہی نماز پڑھائیں تو زیادہ بہتر ہے۔ ‘‘ لوگوں نے بتایا کہ  ’’ یہاں مسجد میں نماز کی جماعت نہیں ہوتی بلکہ سب لوگ اپنی اپنی نماز پڑھتے ہیں ، کیونکہ پورے گوٹھ میں ایک بھی شخص ایسا نہیں ہے جو امام بن سکے جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس پورے گوٹھ میں کوئی شخص بھی ایسا نہیں جس کی سنت کے مطابق داڑھی شریف ہو۔ ‘‘

افسوس !   نماز کے لئے کوئی بھی نہ آیا

            ایک مدنی قافلہ کسی بہت بڑے گوٹھ میں پہنچا۔ اس گوٹھ میں ایک بہت بڑا بازارتھا جس میں تین سو سالہ پرانی تاریخی مسجد بھی تھی۔لیکن آہ !  مسجد کے آس پاس کی دکانوں میں سرِ عام (V.C.R) وی سی آر پر فلمیں دکھائی جارہی تھیں۔

            جب اذانِ ظہر ہوئی تو جماعت میں سوائے مؤذن اور قافلے والوں کے مسجد میں دوسراکوئی نمازی نہ تھا ۔ حتّٰی کہ علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت کے دوران جب لوگوں کو مسجد میں آنے کی دعوت دی گئی تو کوئی بھی مسجد میں آنے کے لئے تیا رنہ ہوا۔

مسجد تو بنادی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے

من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا

            پیارے اسلامی بھائیو!   درجِ ذیل مختصر واقعات پڑھئے اور اندازہ لگایئے کہ اغیار ہماری بے عملی سے فائدہ اٹھا کر ہماری مساجدسے کیا سلوک کر رہے ہیں ۔

(1)  ’’ ایک رپورٹ کے مطابق ایک ملک میں غیر مسلموں نے 157مساجد کو تالے لگا دیئے اورمساجد کو تجارتی اور رہائشی مقاصد کیلئے غیر مسلموں کے حوالے کردیا گیا۔ سرکاری تحویل کے بہانے 324مساجد کو نمازیوں کے لئے بند کردیاگیا۔ ‘‘

(2)  ’’ ایک ملک کے ایک شہر میں 92مساجد کو مویشیوں کے باڑے اور رہائش گاہوں میں تبدیل کردیا گیا۔ ‘‘

(3)  ’’  اسی طرح ایک ملک کے ایک قصبے میں 23مئی 1988ء کو مسجد پر ناجائز قبضہ کرکے اس میں مورتیاں وغیرہ رکھ دی گئیں ۔ ‘‘

(4)  ’’  اس طرح ایک اخبار میں ایک خبر شائع ہوئی کہ یورپ کے ایک ملک میں تُرک مسلمانوں کی ایک مسجد کو آگ لگادی اور شہید کردیا۔ ‘‘

          پیارے اسلامی بھائیو!  ان سب حقائق کے باوجود ہم ابھی تک خوابِ غفلت میں ہیں ۔ گھریلو آسائشیں چھوڑ کر چند دن کے لئے راہِ خدا میں سفر کے لئے ہمارا نفس تیار نہیں ہوتا ،  ہاں !  دنیا کی مادی دولت کمانے کے لئے اپنے گھر والوں سے برسہا برس کے لئے سینکڑوں میل دورجانے کے لئے فوراًتیار ہوجاتے ہیں ۔

 



Total Pages: 194

Go To