Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

(۱)  بیان کا مقصد اپنی اصلاح ہو:

            اگر مبلغ کی بیان کرتے وقت یہ سوچ ہوکہ میں سامعین اسلامی بھائیوں کی اصلاح کے لئے بیان کررہا ہوں تو پھر وہ خود بیان کی برکت سے محروم ہوجائے گا۔ بیان کرتے وقت مبلغ کی کیا سوچ ہونی چاہئے؟  اس سلسلے میں فرمانِ امیر اہلسنّت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری دامَتْ بَرکاتُھُمُ العالیَۃ ملاحظہ فرمائیے کہ ’’ مبلغ بیان کرتے وقت یہ نیت کرے کہ میں دوسروں کو نصیحت کرنے کی بجائے خود اپنے آپ کو سمجھا رہا ہوں۔ ‘‘

            لہذا ہمیں چاہئے کہ جب بھی بیان کرنے کی سعادت حاصل ہو تو اپنی  اصلاح کی نیت سے بیان کریں ۔ اس مدنی پھول سے  اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   بیان کے بعد مبلغ کے دل میں شیطان کی طرف سے بیدار ہونے والے اس وسوسے کی کاٹ بھی ہوجائے گی کہ لوگ میرے بیان کی تعریف یا میری واہ واہ کریں ۔ کیونکہ جب اپنی اصلاح مقصود ہوگی تو تعریف کی خواہش ختم ہوجائے گی حقیقت یہ ہے کہ بیان اسی مبلغ کا کامیاب ہوتا ہے جو اخلاص کے ساتھ اللّٰہ      ورسول عزَّوَجَلَّ و صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی رضا و خوشنودی کے لئے بیان کرتا ہے۔ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّہمیں بھی اخلاص عطا فرمائے۔

(۲)اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی رضا مقصود ہو:

          فرمانِ امیر اہلسنت دامَتْ بَرکاتُھُمُ العالیَۃ ہے: ’’ اِخلاص قبولیت کی کُنجی ہے۔ ‘‘ لہذا! بیان صرف اور صرف اللّٰہ عَزَّوَجَلّ کی رضا کی خاطر ہی کرنا چاہئے کیونکہ مخلوق کو متاثر کرنے کے لئے بیان کرنے کی نحوست سے انسان نہ صرف گنہگار ہوتا ہے بلکہ اس کے باعث بیان کی تاثیر بھی بے حد متاثر ہوتی ہے۔بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اگر کسی مبلغ کا پراثر بیان سن لیا تو نفس یہ چاہتا ہے میں بھی ایسا ہی بیان کرو ں پھر اس طرح کے بیانات کا مواد جمع کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔جس سے مقصود اپنی دھاک بٹھانا ہوتا ہے اور جب اس مبلغ کی طر ح بیان نہ کیا جاسکا تو حوصلے پست اور ولولے سرد پڑ جاتے ہیں۔بیان میں اخلاص کے بارے میں تین مواقع پر غور کرنا ضروری ہے۔

 (1)     ابتداء میں اپنے آپ سے سوال کریں کہ ’’  تو یہ بیان کس نیت کے ساتھ کررہا ہے۔ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کو راضی کرنے اور خدمت ِدین کی نیت سے یا اس لئے کہ تیری عزت میں اضافہ ہو،لوگ تجھ سے متاثر ہوجائیں ،  تیری تعریفیں کی جائیں ،  بعد ِبیان تجھے تعجب خیز نگاہوں سے دیکھا جائے وغیرہ ‘‘ ۔ پہلی مرتبہ کسی بڑے اجتماع میں بیان کرنے والے مبلغین اس کا خاص خیال رکھیں۔

(2)       بعض اوقات شروع میں اخلاص پیشِ نظر ہوتا ہے لیکن درمیان میں مذکورہ فاسد نیتیں داخل ہوجاتی ہیں ۔ لہٰذا درمیان میں بھی اس کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

(3)      بیان کے بعد بھی یہ خواہش ہرگز پیدا نہ ہو کہ اب میرے بیان کی تعریف کی جائے لوگ میرے ہاتھ چومیں ،  اپنے علاقے میں میرا بیان کروانے کے لئے اصرار کریں ،  مجھ سے میرا نام و پتہ معلوم کیا جائے وغیرہ۔

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!   ہم اخلاص کے ساتھ اپنی اصلاح کی نیت سے بیان کرتے رہیں گے تو ایک دن ہم اپنے مدنی مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے۔  اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  امیر اہلسنت دامَتْ بَرکاتُھُمُ العالیَۃ فرماتے ہیں : ’’ بیان کرنے والا صرف گفتار کا غازی نہ ہو بلکہ اپنے بیان پر عمل کرنے کا بھی ذہن رکھتاہو۔ ‘‘ کاش!  ہم سب کاایسا ہی ذہن بن جائے اور ہم سب اپنی اصلاح کے لئے ہی بیان کرنے والے بن جائیں ۔

 (۳)  بیان کا اثر ظاہر نہ ہو تو اپنے اخلاص کی کمی تصورکرے:

            بعض اوقات بیان کرنے کے بعد مبلغ کی زبان سے یہ الفاظ بھی جاری ہوجاتے ہیں کہ ’’  میں نے بیان تو کیا لیکن سننے والوں پر اثر نہیں ہوا، مدنی قافلے میں سفر کے لئے تیار نہیں ہوئے ،  کسی نے اٹھ کر مدنی قافلے میں سفر کی نیت سے نام نہیں لکھوایا ،  یہاں کے اسلامی بھائی بہت سخت دل ہیں ان کے دل پر بات بھی اثر نہیں کرتی ہے۔ ‘‘ اس قسم کی بات وہ ہی کرسکتا ہے جو خود کو قابلِ اصلاح تصور نہ کرتا ہو ۔

            اپنے آپ کو اصلاح شدہ سمجھنا یقینا نادانی ہے ۔ امیر اہلسنت مدظلہ العالی فرماتے ہیں :ـ ’’ لوگوں پر اثر نہ ہو تو ان کو سخت دل سمجھنے یا کہنے کی بجائے اپنے اخلاص کی کمی تصور کرکے استغفار کریں ۔  ‘‘  اے کاش!  ہم سب کا ایسا ہی ذہن بن جائے اور ہم بھی خوفِ خدا سے لرزتے ، عشقِ رسول میں ڈوب کر ایسا بیان کرنے والے بن جائیں جیسا بیان ہمارے امیر اہلسنت دامَتْ بَرکاتُھُمُ العالیَۃفرماتے ہیں ۔

یہ آپ مدظلہ العالیکے اخلاص ہی کی برکت ہے کہ جو بھی آپ کے بیان کو کماحقہ سنتا ہے آپ کی زبانِ مبارک سے نکلنے والے الفاظ تاثیر کا تیر بن کر دل میں اترتے چلے جاتے ہیں ، جس کے نتیجے میں اسے سابقہ گناہوں پر ندامت محسوس ہوتی ہے اور توبہ کی توفیق ملتی ہے، نمازکی ادائیگی پر استقامت نصیب ہوتی ہے،اس کے دل میں نیکیوں کا شوق بیدار ہوتا ہے ، وہ مدنی قافلوں کا مسافربنتا ہے ۔ اے  اللہ           عَزَّوَجَلَّ!  ہمیں امیر اہلسنت دامَتْ بَرکاتُھُمُ العالیَۃ کے صدقے میں اخلاص عطا فرمادے۔

بیان کرنے سے پہلے چنداحتیاطیں

( 1)      اپنے پاؤں دیکھ لیجئے کہ ان پر میل تو نہیں جما ہوا؟ ناخن بڑھے ہوئے تو  نہیں ؟  کیونکہ جب آپ بیان کرنے کے لئے کھڑے ہوں گے تو قریب بیٹھے ہوئے لوگوں کی نگاہ آپ کے پیروں پر بھی پڑے گی اگر ان پر میل کی تہہ جمی ہوگی اورناخن بڑے ہونگے تو ان پر آپ کی شخصیت کا برا اثر قائم ہوگا، جس کا منفی اثر آپ کے بیان پر بھی پڑے گا۔ نیز جب بھی آپ کھڑے ہوں تو خیال رکھئے کہ دونوں پیرو ں کے درمیان زیادہ فاصلہ نہ ہو۔

( 2)      یونہی بیان کے بعد عموماً لوگ مصافحہ کرکے سنت پر عمل کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں اگر آپ کے ہاتھ میلے کُچیلے اور ناخن بڑے بڑے اور میل زدہ ہوئے تو مصافحہ کرنے والے کے دل میں آپ کے متعلق کراہیت پیدا ہوسکتی ہے اور اس کے باعث بیان کا اثر زائل یا کم ہوسکتا ہے لہٰذا ہاتھ بھی صاف ستھرے ہونے چاہئیں ۔

( 3)      اسی طرح لباس صاف ستھرا ہونا چاہئے تاکہ کسی کو کراہیت محسوس نہ ہو۔

( 4)      عمامہ بھی صاف ستھرا اور اچھے انداز سے باندھیں ،  نیز داڑھی شریف اور زلفوں میں کنگھا کرلیں تاکہ دیکھنے والوں کے دل میں نفرت و کراہیت کی بجائے سنت کی محبت و رغبت پیدا ہو۔

 



Total Pages: 194

Go To