Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

                یاربِّ مصطَفٰیعَزَّوَجَلَّ !   بطفیلِ مصطَفٰے صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    ہماری ،  ہمارے ماں باپ کی اور ساری اُمّت کی مغفِرت فرما۔ یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! درس کی غلَطیاں اور تمام گناہ مُعاف فرما،نیک  عمل کا جذبہ دے، ہمیں پرہیزگار اور ماں باپ کافرماں بردار بنا۔ یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! ہمیں اپنا اور اپنے مدنی حبیبصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا     مُخلِص عاشِق بنا۔ ہمیں گناہوں کی بیماریوں سے شِفا عطا فرما۔یا اللّٰہ عَزَّوَجَلّ!   ہمیں مدنی انعامات پر عمل کرنے، مدنی قافِلوں میں سفر کرنے اور اِنفِرادی کوشِش کے ذَرِیعے دوسروں کو بھیمدنی کاموں کی ترغیب دلوانے کا جذبہ عطا فرما ۔یا اللّٰہ عَزَّوَجَلّ! مسلمانوں کوبیماریوں ،  قرضداریوں ،  بے رُوزگاریوں ،  بے اولادیوں ،  بے جامقدّمہ بازیوں ،  اور طرح طرح کی پریشانیوں سے نَجات عطا فرما۔ یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! اسلام کا بول بالا کر ا ور دُشمنانِ اسلام کا منہ کالا کر۔ یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! ہمیں دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں استِقامت عطا فرما۔ یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!    ہمیں زَیرِگنبدِخَضرا جلوۂ محبوبصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  میں شہادت ،  جنَّتُ الْبقیع میں مدفن اور جنَّتُ الفردوس میں اپنے مدنی حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کاپڑوس نصیب فرما۔ یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! مدینے کی خوشبو دار ٹھنڈی ٹھنڈی ہواؤ ں کا واسِطہ ہماری  جائز دُعائیں قبول فرما۔

کہتے رہتے ہیں دعاکے واسطے بندے ترے

کر دے پوری آرزو ہر بے کس و مجبور کی

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

 شعر کے بعد یہ آیت  ِمبارک پڑھئے: اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶) (پ۲۲الاحزاب:۵۶)

سب دُرُودشریف پڑھ لیں پھر پڑھئے: وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَۚ(۱۸۱) وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠(۱۸۲)(پ۲۳اَلصّٰفٰت:۱۸۱تا۱۸۳)

                درس کی کمائی پانے کے لیے ثواب کی نیت کے ساتھ(کھڑے کھڑے نہیں بلکہ) بیٹھکر خندہ پیشانی کے ساتھ لوگوں سے مُلاقات کیجئے، چند نئے اسلامی بھائیوں کو اپنے قریب بٹھا لیجئے اور انفرادی کوشِش کے ذَرِیعے خوب مسکراتے ہوئے اُنہیں مدنی انعامات اورمدنی قافلوں کی بَرَکتیں سمجھایئے۔

(بیٹھ کر ملنے میں حکمت یہ ہے کہ کچھ نہ کچھ اسلامی بھائی ہو سکتا ہے آپ کے ساتھ بیٹھے رہیں ورنہ کھڑے کھڑے ملنے والے عموماً چل پڑتے ہیں یوں انفرادی کوشش کی سعادت سے محرومی ہو سکتی ہے)

تمہیں اے مُبلّغ یہ میری دعا ہے

کیے جاؤ  طے تم ترقی کا زینہ

دعائے عطّار :

            یااللّٰہ عزَّوَجَلَّ !   میری  اور پابندی کے ساتھ فیضانِ سنَّت سے روزانہ کم از کم دو دَرس ایک گھر میں اوردوسرا مسجد، چوک یااسکول وغیرہ میں دینے اور سننے والے کی مغفِرت فرما اور ہمیں حُسنِ اَخلاق کا پیکر بنا۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

مجھے درسِ فیضانِ سنّت کی توفیق

ملے دن میں دو مرتبہ یاالٰہی

٭٭٭٭٭٭

بیان کی اہمیت

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  عموماًہم کسی کو اپنا مقصد بول کر ہی سمجھاتے ہیں ۔  بیان میں مبلغ کے بولنے کا انداز جتنا زیادہ مؤثر ہوگا اتنا ہی وہ اپنے مقصد کو بہتر انداز میں سمجھا سکے گا۔ یوں سمجھئے کہ بیان اپنے مقصد کو پوری دنیا میں پہنچانے کا ذریعہ ہے،اچھے بیان سے مدنی قافلے مضبوط ہوتے ہیں ، ہم بیان سے اجتماعی طور پر مدنی کام کرنے کا ذہن بناسکتے ہیں ، بیان مبلغ کی شخصیت میں نکھار پیدا کرتا ہے،بیان سے خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ پیارے آقا مدنی مصطفی صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمان عالیشان ہے  ’’ بعض بیان جادو ہیں ۔ ‘‘  (صحیح البخاری،کتاب النکاح،باب الخطبۃ،الحدیث:۵۱۳۶،ج۳،ص۴۴۶)

            مُفَسِّر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یارخان نعیمی عَلَیہ رَحمَۃُ اللّٰہ الکریم اس حدیث کے تحت تحریر فرماتے ہیں : ’’ یعنی بعض کلام ( بیان) لوگوں کے دل اپنی طرف مائل کرنے میں ،  لوگوں کو حیران کردینے میں جادو کا سا اثر رکھتے ہیں ۔ (مرأۃ المناجیح،ج۶،ص۴۲۶)

            پس اس سے معلوم ہوا کہ بعض بیان سننے والوں پر اس طرح اثر انداز ہوتے ہیں جیسے جادوگر کا جادو اثر انداز ہوتا ہے۔لہٰذا  قلوب میں انقلاب پیدا کرنے کے سلسلے میں بیان کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ یقینا یہ انقلاب و تبدیلی ایسے بیان سے ظہور پذیر ہوگی جسے ہر زاویے سے جانچ پرکھ کر سپر د سامعین کیا گیا ہو۔ مذکورہ بالا حدیث پاک اور اس سے اخذ شدہ نتیجے کی روشنی میں یہ بات بخوبی سمجھ میں آتی ہے کہ ہمیں اپنی پیاری پیاری سنتوں کی عالمگیر تحریک دعوت اسلامی کی ترقی و بقاء کی خاطر اپنے بیان کو بہتر بنانا، اس کی ادائیگی میں سستی اور کاہلی سے بچنا اور دیگر اسلامی بھائیوں میں اس کے لئے شعور و صلاحیت بیدار کرنا بے حد لازمی و ضروری ہے۔

            لہٰذاہمیں مدنی قافلوں کو سفر کروانے کے لئے اور مدنی انعامات پر عمل کی ترغیب دلانے کے لئے اپنے بیان کو مضبوط کرنا ہوگا ۔

بیان کے مقاصد

بیان کرنے والے مبلغ کو چند باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

 



Total Pages: 194

Go To