Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

٭      سرکارِ مدینہصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا: ’’  اللّٰہ تعالٰی اسکوتَروتازہ رکھے جو میری حدیث کو سنے ،  یاد رکھے اور دوسروں تک پہنچائے ۔ ‘‘  (سُنَنِ تِرمِذی ج۴ ص۲۹۸حدیث ۲۶۶۵ )

٭      حضرت سیِّدُنااِدریس عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے نامِ مبارَک کی ایک حِکمت یہ بھی ہے کہ کُتُب الہٰیہ کی کثرتِ درس وتدریس کے باعث آپ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کا نام اِدریس ہوا۔ (تفسیرکبیر ج ۷ ص ۵۵۰، تفسیر الحسنات ج۴ص۴۸)

٭      حُضورِغوثِ پاک رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’  دَرَسْتُ الْعِلْمَ حتّٰی صِرْتُ قُطْباً(یعنی میں عِلْم کادرْس لیتا رہایہاں تک کے مقامِ قُطْبِیَّت پر فائز ہوگیا)(قصیدۂ غوثیہ)

٭      فیضانِ سُنَّتسے دَرْس دینا بھی دعوتِ اسلامی کا ایک مدنی کام ہے ۔ گھر، مسجِد ،  دُکان، اسکول ، کالج، چوک وغیرہ میں وقت مقرَّر کر کے روزانہ درس کے  ذَرِیْعے خوب خوب سُنتوں کے    مَدَ نی پھول لُٹائیے اور ڈھیروں ثواب کمائیے۔  

٭      فیضانِ سنَّتسے روزانہ کم از کم دودرس دینے یا سننے کی سعادت حاصِل کیجئے۔

پارہ 28 سورۃُ التَّحْرِیم کی چھٹی آیت میں ارشاد ہو تا ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ (پ۲۸ التحریم:۶)

تَرجَمۂ کنزالایمان:اے ایمان والو !  اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اُس آگ سے بچاؤجس کے ایندھن آدَمی اور پتَّھر ہیں ۔

                اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگ سے بچانے کا ایک ذَرِیْعہ فیضانِ سُنَّت  کا در س بھی ہے۔( درس کے علاوہ سنّتوں بھرے بیان یا مدنی مذاکرہ کا روزانہ ایک کیسٹ بھی گھر والوں کو سنایئے)

٭      ذِمَّہ دار گھڑی کا وقت مقرَّر کر کے روزانہ چوک درس کا اہتمام کریں ۔ مَثَلاً رات 9 بجے  مدینہ چوک (ساڑھے نوبجے)بغدادی چوک میں وغیرہ۔چُھٹّی والے دن ایک سے زیادہ مقامات پرچوک درس کا اہتمام کیجئے۔( مگر حُقوقِ عامّہ تَلَف نہ ہوں مَثَلاً مسلمانوں کاراستہ نہ رُکے ورنہ گنہگار ہوں گے)

 ٭          دَرس کیلئے وہ نَمازمُنْتَخبکیجئے جس میں زِیادہ سے زِیادہ اسلامی بھائی شریک ہو سکیں ۔

٭      دَرْس والی نَماز اُسی مسجِد کی پہلی صَف میں تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ باجما عَتادا فرمایئے۔

٭      مِحراب سے ہٹ کر (صحن وغیرہ میں )کوئی ایسی جگہ درس کیلئے مخصوص کر لیجئے جہاں دیگر نَمازیوں اورتلاوت کر نے والوں کو دُشواری نہ ہو۔

٭      ذَیلی نگران کو چاہئے کہ اپنی مسجِد میں دوخیر خواہ مقَرَّر کرے جو درس (بیان)   کے موقع پر جانے والوں کو نرمی سے روکیں اورسب کو قریب قریب بٹھائیں ۔

٭      پردے میں پردہ کیے دوزانو بیٹھ کر دَرس دیجئے۔اگر سننے والے زیادہ ہوں تو کھڑے ہو کر یا مائیک پر دینے میں بھی حرج نہیں جبکہ نَمازیوں وغیرہ کو تشویش نہ ہو۔

٭      آواز نہ تو زیادہ بُلند ہو اور نہ ہی بالکل آہستہ،حتی الامکان اتنی آواز سے

دَرس دیجئے کہ صِرْف حاضِرین سُن سکیں ۔اس بات کی ہمیشہ احتیاط فرمایئے کہ درس وبیان کی آواز سے کسی سوتے ہوئے یا کسی نمازی یا مشغولِ تلاوت وغیرہ کو تکلیف نہ ہو۔

٭      دَرْس ہمیشہ ٹھہر ٹھہرکراور دھیمے انداز میں دیجئے۔

٭      جو کچھ دَرْس  دینا ہے پہلے اس کا کم از کم ایک بارمُطالَعَہ کرلیجئے تا کہ غلَطیاں نہ ہوں ۔

٭      فیضانِ سنّت کے مُعَرَّب الفاظ اِعراب کے مطابِق ہی ادا کیجئے اس طرح  اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ تَلَفُّظکی دُرُست ادائیگی کی عادت بنے گی۔

 ٭     حمدو صلوٰۃ، دُرُود و سلام کے دونوں صیغے، آیَتِ دُرُوداور اِختتامی آیات وغیرہ کسی سُنّی عالم یا قاری کوضَرور سنادیجئے۔ اِسی طرح عَرَبی دُعائیں وغیرہ جب تک عُلَمائے اہلسنّت کو نہ سنا لیں اکیلے میں  بھی نہ پڑھا کریں ۔

٭      فیضانِ سُنّتکے علاوہمکتبۃُ المدینہ سے شائع ہونے والے مدنی رسائل سے بھی دَرْس دے سکتے ہیں ۔ 

٭      دَرس مع اِختتامی دعا سات مِنَٹ کے اندر اندر مکمَّل کر لیجئے۔

٭      ہر مبلّغ کو چاہیے کہ وہ دَرس کا طریقہ بعدکی ترغیب اوراختِتامی دعا زَبانی یاد کر لے۔

٭      دَرسکے طریقہ میں اسلامی بہنیں حسبِ ضَرورت ترمیم کرلیں ۔

مسجد میں درس د ینے کے مقاصد

1  :درس دینے کاسب سے بڑا مقصد اللّٰہ و رسول    عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رضا ہے۔

2 :درس فیضانِ سنت کے ذریعے شرکائے درس اور اہل محلہ کو اہل محبت بلکہ حقیقی معنوں میں  ’’  دعوت اسلامی ‘‘  والا بنانا ہے۔

3 : مسجد میں درسِ فیضان سنت کے شرکا کے ذریعے ہفتے میں ایک بار علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت کی ترکیب بنانی ہے۔

4 : فیضانِ سنت کے درس میں شرکائے درس کو مدنی انعامات پر عمل اورروزانہ فکرِمدینہ کرکے (مدنی انعامات کا)رسالہ پُرکرنے کی ترغیب دلانی ہے اور ان کو مدنی قافلے میں سفر کرنے اور کروانے کا ذہن بھی دینا ہے۔

 



Total Pages: 194

Go To