Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

نیند سے تو نَماز بہتر ہے                              اب نہ مُطلَق بھی لیٹنا اٹّھو!

اُٹھ چکو اب کھڑے بھی ہو جاؤ!                      آنکھ شیطاں نہ دے لگا اٹّھو!

جاگو جاگو نَماز غفلت سے                           کر نہ بیٹھو کہیں قَضا اٹّھو!

اب  ’’ جو سوئے نماز کھوئے ‘‘ وقت                           سونے کا اب نہیں رہا اٹّھو!

یاد رکّھو!  نماز گر چھوڑی                                      قبر میں پاؤگے سزا اٹّھو!

                                                      بے نَمازی پھنسے گا محشر میں                                ہو گا ناراض کِبریا اٹّھو!

میں  ’’ صدائے مدینہ ‘‘  دیتا ہوں                    تم کو طیبہ کا واسِطہ اٹّھو!

میں بِھکاری نہیں ہوں دَر دَر کا                       میں ہوں سرکار کا گدا اٹّھو!

مجھ کو دینا نہ پائی پیسہ تم!                             میں ہوں طالب ثواب کا اٹّھو!

تم کو دیتا ہے یہ دعا عطارؔ                             فضل تم پر کرے خدا  اٹّھو!

باب3:                     درس وبیان

درس کی اہمیت

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!   ’’ دعوت اسلامی ‘‘  کا بنیادی کام مسجد درس ہے۔

            شیخِ طریقت،امیر اہلسنت، حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی    دامَتْ بَرکاتُھُمُ العالیَۃ نے نور مسجد میٹھا در باب المدینہ کراچی سے درس کا آغاز فرمایا ،  اور آج     اَلْحَمْدُ للّٰہ عزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کا پیغام امیرِ اہلسنت دامَتْ بَرکاتُھُمُ العالیَۃ کی برکت سے دنیا کے کم و بیش (تادمِ تحریر)150 ممالک میں پہنچ چکا ہے۔

            یاد رکھئے ! جس طرح ہر عمارت کی بنیاداور اصل ہوتی ہے اسی طرح ہمارے تنظیمی کاموں کی اصل مسجد درس ہے۔ جب تک ہماری ہرمسجد میں  ’’ فیضان سنت  ‘‘ کا درس شروع نہ ہوجائے ہمیں چین سے نہیں بیٹھنا چاہئے ۔

            درس اتنا پُر کشش ہو کہ نمازی درس میں کھنچے چلے آئیں اور درس سننے والوں کی تعداد بڑھ جائے۔

            اگر ہم درس دیتے رہیں گے تو ہماری مسجدیں آباد رہیں گی ۔ اسی طرح اگر ہم بازاروں ،  گھروں ،  محلوں اور دکانوں میں درسِ فیضان سنت دیں تو بے شمار برکتیں پائیں گے ۔

د  رس کی برکات

٭      ایک مدنی قافلہ سکھر کے ایک گاؤں میں گیا۔ ایک اسلامی بھائی نے نماز کے بعد درس دیا ۔ درس میں پانی پینے کی سنتیں اور آخر میں پانی کھڑے ہوکر پینے کے نقصانات بیان کئے۔ ایک بڑی عمر کے صاحب جو وہاں تشریف فرما تھے ،  یہ سن کر رونے لگے ۔ لوگوں نے پوچھا : ’’  آپ کیوں رو رہے ہیں ؟  ‘‘  انہوں نے کچھ اس طرح اپنے جذبات کا اظہار کیا کہ ’’  میری طویل عمر گزر گئی مگر مجھے ان سنتوں کے بارے میں معلومات نہیں ،  عنقریب میں بھی مرنے والاہوں ،  ابھی تک مجھے سرکار ِ مدینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنتوں کے بارے میں علم ہی نہیں تو قبر میں آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کیسے پہچانوں گا۔ ‘‘ وہ بزرگ اتنے ضعیف تھے کہ انہیں سہارادے کر اٹھانا پڑتا۔ وہ دعوتِ اسلامی سے اتنے متاثر ہوئے کہ  اَلْحَمْدُ  للّٰہعَزَّوَجَلَّ                     سر پرسبز سبز عمامہ شریف سجالیا۔

٭      ایک مدنی قافلہ بہاولپور پہنچا ۔ وہاں ایک گاؤں میں قافلے والوں نے دو دن گزارے تو ایک چوہدری صاحب نے قافلے والوں کو دعوت کی پیشکش کی تو امیر قافلہ نے اِس مدنی فیس(یعنی اس شرط)پر دعوت قبول کی کہ پہلے آپ کے گھر درس ہوگا، پھر کھانا کھائیں گے۔ چنانچہ درس شروع ہوگیا ۔فیضانِ سنت سے  ’’ حقوق العباد ‘‘  کے بارے میں درس دیا گیا،درس کے بعد چودھری صاحب یوں کہنے لگے کہ ’’  میری جوانی گزرنے والی ہے مگر افسوس !  مجھے  ’’ حقوق العباد ‘‘  کے بارے میں اتنی معلومات نہیں تھی۔ میں آج ہی سے نیت کرتا ہوں کہ داڑھی اور عمامہ شریف سجالوں گا۔ ‘‘

٭       ایک مدنی قافلہ نواب شاہ شہر میں گیا۔ قافلے والوں نے شہر کے ایک چوک میں حقوقِ عامّہ کا لحاظ رکھتے ہوئے چوک درس دیا، ایک پولیس انسپکٹر بھی چوک درس میں شامل ہوگیا۔فیضانِ سنت سے درس جاری تھاکہ انسپکٹر صاحب کے دل پر درس کا اتنا اثر ہوا کہ وہ اُسی وقت درس کے بعد مسجد میں نماز ادا کرنے کے لئے آگئے۔

درس دینے والے کو کھلی آنکھوں سے مرشد کا دیدار

 ٭     عاشقانِ رسول کا ایک مدنی قافلہ راہِ خدا    میں سفر کرکے سردارآباد  (فیصل آباد) گیا، ان دنوں سخت سردی تھی۔ اسلامی بھائی بتاتے ہیں کہ میں درس دینے کے لیے روانہ ہوا۔ میرے نفس نے مجھے سردی سے ڈرایا اور سستی کا مشورہ دیا لیکن میں نے دل میں ٹھان لی کہ آج درس ضرور دوں گا۔ ابھی نیت کرکے چلا ہی تھا کہ میں نے کھلی آنکھوں سے دیکھا کہ سامنے شیخِ طریقت امیر اہلسنت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی    مدظلہ العالی چلے آرہے ہیں ۔ (حالانکہ وہ اس وقت سردار آباد میں نہیں تھے) اس طرح درس دینے کے عزمِ مُصَمَّم کی برکت سے مجھے دیدارِ مرشد ہوگیا۔

د  رسِ فیضانِ سُنَّت کے مد نی پھول

٭      فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  : جو شخص میری اُمّت تک کوئی اِسلامی بات پہنچائے تا کہ اُس سے سُنَّت قائم کی جائے یا اُس سے بد مذہبی دُور کی جائے تو وہ جنتَّی ہے۔ (حِلْیَۃُ الْاولیاء  ج۱۰ص۴۵رقم ۱۴۴۶۶)

 



Total Pages: 194

Go To