Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

فیضانِ سنت(تخریج شدہ) کے باب آداب طعام سے ترکیب کچھ اس طرح ہوگی:

(23)فیضانِ سنت (تخریج شدہ) ( نیچے دیئے ہوئے صفحہ نمبر:  ۴۸۱ تا  ۵۱۴ تک)

(24)فیضانِ سنت (تخریج شدہ) ( نیچے دیئے ہوئے صفحہ نمبر:  ۵۱۵ تا  ۵۵۰ تک)

بعد نمازِمغرب:

         فرضوں کے بعددُعا سے پہلے اعلان ،  پہلے اور دوسرے دن ( تقریباً ۱۲ منٹ ) مدنی قافلوں میں ہاتھو ں ہاتھ سفر کی ترغیب پراور آخری دن (۲۶منٹ) بیان ہو۔ پہلے دن ترغیب دلاکر نیتیں کروائیں اور دوسرے دن نیت کروانے کے ساتھ ساتھ نام بھی لکھیں ،  آخری رات سفر کی نیت کرنے اور نام لکھوانے والوں کے ساتھ اجتماع کرکے (تیسرے دن امیرقافلہ کو چاہئے اِس بات کا خصوصی خیال رکھے  کہ مغرب اور عشاء دونوں میں سے جس میں نمازی زیادہ ہوں اسی نماز میں اجتماع کی ترکیب بنائے جس میں مختصر تلاوت ،  نعت شریف اور ۲۶منٹ کا بیان ، صلوٰۃ و سلام کے تین اشعاراور

 دُعاکی جائے)مدنی قافلوں کی بھرپور ترغیب پر بیان ہو ۔اختتام پر ہاتھوں ہاتھ تیار ہونے والوں کی مدنی قافلوں میں سفر کی ترکیب بنایئے ۔ {13}  خود بھی یکمشت ۱۲ ماہ کیلئے سفر کی نیت فرما کر (ممکن ہوتو) ہاتھوں ہاتھ سفر کی ترکیب بنا لیجئے ۔

کھا نا عشاء سے پہلے ہی کھا لیا جا ئے گا۔

بعدنماز عشاء :

             فیضانِ سنت تخریج شدہ سے(۷منٹ) درس دیجئے پھرکیسٹ بیان

سے پہلے (۷منٹ) انفرادی کوشش کے لئے دودو اسلامی بھائی باہَر جائیں اورپھر واپس آکر {14} کیسٹ اجتماع کی ترکیب بنائیں ،  جس میں ایک دن امیر اہلسنت دامَتْ بَرکاتُھُمُ العالیَۃ کا بیان اور ایک دن مدنی مذاکرہ سنیں ۔ اگر کیسٹ بیان میسّر نہ ہو تو امیراہلسنّت دامَتْ بَرکاتُھُمُ العالیَۃ کے رسائل سے26  منٹ درس کیا جائے۔(نوٹ:جن ذمہ داران کے بیانات کی کیسٹیں مکتبۃ المدینہ پرآچکی ہیں ، اس حلقے میں اُن کے بیانات کی کیسٹیں بھی چلاسکتے ہیں ) اس حلقے میں  {15} کم از کم دو گھنٹے دعوت اسلامی کے مدنی کاموں میں صرف کرنے کی نیت کے ساتھ {16}  پردے میں پردہ کے اہتمام اور {17} پورے دن سبز عمامہ شریف مع سربند ،  زلفیں ،  ایک مُشت داڑھی ،  سنّت کے مطابق سفید لباس ،  سامنے سینے کی جانب مسواک اور ٹخنوں سے اونچے پائینچے رکھنے کی نیت کے ساتھ شریک ہوں ۔ بعد حلقہ انفرادی کوشش کے ذریعے مدنی ماحول کی برکتیں بتا کر مدنی قافلوں میں سفر کی نیتیں کروا کر نام وغیرہ لکھیں اور  {18} اپنے ساتھ سفر بھی کروائیں ۔ شرکائے قافلہ کو چونکہ اکثر وقت مسجد ہی میں گزارنا ہے لہٰذا قفلِ مدینہ سے متعلق ان چند انعامات کے نفاذ میں دونوں جہاں کی عافیت ہے ۔ مثلاً  {19}  قہقہہ لگانے سے بچتے ہوئے  {20} ضروری بات بھی  {21}  دعوتِ اسلامی کی اصطلاحات کے استعمال کے ساتھ کم لفظوں میں (درست تلفظ کی ادائیگی کا لحاظ رکھتے ہوئے )  {22} لکھ کر یا اشارے سے کیجئے ۔  {23}   نظریں جھکا کر سامنے والے کے چہرے پر نگاہیں گاڑے بغیر گفتگو کی عادت ڈالئے (اس کے لئے قفلِ مدینہ کی عینک کا استعمال مفید ہے ) اور فضول بات منہ سے نکلنے پر نادم ہوکر دُرُودِ پاک پڑھئے ۔

دُ ہرائی کا حلقہ:

            آج جو کچھ سیکھا ہے امیر قافلہ حلقے کی صورت میں شرکا کے سامنے خود  ہی اسکی دُہرائی کرے اور اگر کوئی بخوشی سنانا چاہے تو سُنے۔ پھر امیر قافلہ مدنی انعامات کے مطابق {24} اجتماعی فکر ِ مدینہ کروائے۔ جس میں تمام شرکائے قافلہ سنجیدگی اور توجہ کے ساتھ آج مدنی انعامات کے مطابق کہاں تک عمل ہواکے تحت رسالہ پرُ کرنے کی ترکیب کریں ۔ پھراجتماعی ترغیب دلا کر ارادہ کروائیں کہ {25}  روزانہ کم از کم دو اسلامی بھائیوں کو مدنی قافلے میں سفر اورہر ماہ مدنی انعامات کا رسالہ پُر کرکے جمع کروانے کیلئے ترغیب دلائیں گے {26} اور  اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ خود بھی ہر ماہ مدنی انعامات کا رسالہ پُر کرکے جمع کروانے کے ساتھ ساتھ تین دن کیلئے مدنی قافلے میں ہر ماہ سفر بھی کریں گے۔

اَخْلاقی نِکھار کیلئے:

             {27} آپ جناب اور جی کہنے کی عادت ڈالنے اور بات سمجھ میں

آنے کے باوجود سوالیہ انداز میں  ’’ ہیں  ‘‘ یا  ’’ کیا؟  ‘‘ کہنے {28}  دوسرو ں کی بات اطمینان سے سننے کی بجائے اُس کی بات کاٹ کر اپنی بات شروع کرنے  {29}  الزام تراشی ،  گالی گلوچ کرنے اور نام بگاڑنے سے بچنے  {30} عُیُوب پر مُطَّلَع ہونے پر پردہ پوشی اور راز کی بات کی حفاظت کی عادت بنانے {31}  جھوٹ ،  غیبت ،  چغلی ،  حسد ،  تکبر اور وعدہ خلافی وغیرہ سے خود کو بچانے  {32}  دوسروں سے مانگ کر چیزیں استعمال کرنے {33} ایسے فضول سوال کرنے سے بچے جس سے مسلمان عموماً جھوٹ کے گناہ میں مبتلا ہوجاتے ہیں (مثلاً بلاضرورت پوچھنا!   کہ بھائی ہمارا کھانا کیسا لگا؟  آپ کوسفر میں تکلیف تونہیں ہوئی؟  وغیرہ)  {34} عاجزی کے ایسے الفاظ (جن کی دل تائید نہ کرے ) بولنے ،  فلمیں ڈرامے دیکھنے اور گانے باجے سننے کی عادت نکالنے {35} سلام کا جواب اور چھینکنے والا اَلْحَمْدُلِلّٰہ عزَّوَجَلَّ   کہے تو!  اس کے جواب میں      یَرْحَمُکَ اللّٰہ اتنی آواز سے کہنا کہ وہ سن لے  {36}  آئندہ کی ہر جائز بات کے ارادے پر(معنٰی پر نظر رکھتے ہوئے) اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ،  مزاج پرسی پر شکوہ کرنے کے بجائے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی کُلِّ حَال،کسی نعمت کو دیکھ کر مَا شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ، ا ورمَعَاذَاللّٰہ گناہ ہوتے ہی فوراً توبہ کرنے کی عادت بنانے کیلئے بھی کوشش فرمائیں گے ۔( اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ) ۔

با ادب با نصیب           بے ادب بے نصیب

            ایک تکیہ پر دو یا، ایک چادر میں بھی دو اسلامی بھائی ہر گز ہر گز نہ سوئیں ،  اپنی چادر یا چٹائی بچھا کر سونے میں احتیاط زیادہ ہے۔(بیدار ہونے پر چادر یا چٹائی اور کپڑے تبدیل کر کے فوراََ تہ



Total Pages: 194

Go To