Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

میں سفر اختیار کیا۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم کے مزارات صرف مدینہ طیبہ ہی میں نہیں بلکہ دنیا کے متعدد مقامات پر بھی موجود ہیں ۔ ان کے بعد تابعین ،  تبع تابعین ،  ائمہ عظام اور اولیاءے کرام رَحِمَھُمَ اللّٰہُ تعالٰینے نیکی کی دعوت کو عام کرنے کے اس سلسلے کوجس آب وتاب کے ساتھ قائم رکھا، وہ واقفانِ تاریخ(تاریخ جاننے والوں ) سے مخفی نہیں ۔ اسی طرح حضور سیدنا غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ کے دامنِ اقدس سے جو پاکباز لوگ وابستہ ہوئے انہوں نے دینِ اسلام کے لئے بھر پور کوششیں کیں اوراعلی حضرت ، عظیم المرتبت ،  امام احمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن اور آپ کے مریدین ومتوسلین نے بھی اس کام کا بیڑا اٹھایا اور اسلام کے پیغام کو دنیا میں عام کرنے کے لئے بھر پور جدوجہد کی ۔انہی اکابرین ا سلام کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے امیرِ اہلسنت دامَت برکاتُہُمُ العالِیَہ نے مسلمانوں کی اصلاح کے لئے شب وروز کوشش کی اور ان کی کوششوں کا نتیجہ آج  ’’ دعوتِ اسلامی ‘‘  کی عالمگیر تحریک کی صور ت میں ہمارے سامنے ہے۔بانیٔ دعوتِ اسلامی مدَّظلہ العالینے ہر اسلامی بھائی کے لئے خصوصی طور پر دو مدنی کام عطا فرمائے ہیں ، جن کے تحت ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوششیں کی جاسکتی ہیں ۔

 (۱) مدنی انعامات                   (۲) مدنی قافلے۔

            اگر ہر اسلامی بھائی ان دو مدنی کاموں کے لئے اپنی بھر پور کوشش صرف کرے توپوری دنیا میں دعوتِ اسلامی کی دھوم مچ جائے گی اورکچھ ہی عرصے میں دعوتِ اسلامی کا یہ پیغام ہر ملک، ہر صوبے،ہر شہر، ہر گاؤں ، ہر محلے اورہر گھر میں پہنچ جائے گا، اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ۔

            مدنی قافلوں میں سفرکرنے اوردوسرے اسلامی بھائیوں کو سفر کروانے کی اہمیت کا اندازہ مندرجہ ذیل واقعات سے بخوبی لگایاجاسکتاہے ۔

بلوچستان کا واقعہ

             عاشقانِ رسول کاایک مدنی قافلہ بلوچستان کی ایک آبادی میں گیا ۔ علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت کے دوران شرکائے قافلہ نے جب ایک عمررسیدہ بزرگ کو نیکی دعوت دی تواس ضعیف بزرگ نے جذبات کی شدت سے  رونا شرو ع کردیا اور کہنے لگا کہ ’’  افسوس! تم نے آنے میں بہت دیر کر دی ،  اب آئے ہو جب ہماری آدھی بستی دین سے دور ہوچکی ہے ،  خود میرے گھر میں دو نوجوان دین سے دور ہوگئے،… کاش !  میری جوانی میں یہ تحریک ہوتی تو خدا عَزَّوَجَل کی قسم ! میں کبھی بھی گھرمیں سکون سے نہ بیٹھتا ،  بلکہ مدنی قافلوں میں سفر کرکے ہر غریب و امیر کو ایمان کی حفاظت کی دعوت دیتا۔‘‘  

و یران مسجد

            عاشقانِ رسول کاایک مدنی قافلہ سنتوں کی تربیت کی غرض سے اندورنِ سندھ گیا۔جب قافلے والے اس گاؤ ں میں پہنچے تو دیکھا کہ مسجد پر تالا پڑا ہواہے۔ لوگوں سے معلومات کرنے کے بعد جب اس مسجد کو کھولا گیا تو قافلے والے یہ دیکھ کر انتہائی غمگین ہوگئے کہ طویل عرصہ سے صفائی نہ ہونے کے سبب مسجد میں ہر طرف گردو غبار پھیلا ہوا ہے اوردیواروں پر مکڑی کے بڑے بڑے جالے نظر آرہے ہیں ۔ مدنی قافلے والوں نے وہاں کے لوگوں سے نہایت افسردہ لہجے میں پوچھا کہ  ’’ مسجد کب سے بند ہے ؟  ‘‘ تو انہیں بتایا گیا کہ ’’  عرصہ دراز سے مسجد بند ہے کیونکہ لوگوں نے نماز پڑھنا ہی چھوڑ دیا،لہٰذا امام صاحب بھی یہاں سے چلے گئے اوراب لوگ دنیاداری میں مصروف ہیں چنانچہ نمازیوں کے نہ ہونے کی وجہ سے مسجد کو تالا لگا دیا گیاہے ۔ ‘‘  جبکہ اس علاقے میں اکثر دکانوں پر گانے باجے اور فلمیں دکھانے کا سلسلہ سرِ عام جاری تھا۔

بوڑھا رونے لگا

            عاشقانِ رسول کا30 دن کا ایک مدنی قافلہ سنتوں کی تربیت کیلئے سفر پر تھا۔ دورانِ تربیت ایک علاقے کے مقامی اسلامی بھائیوں نے علمِ دین سیکھنے کے حلقوں میں شرکت کی تو جب غسل کے فرائض سکھائے گئے توایک بزرگ روتے ہوئے کہنے لگے کہ  ’’ میری عمر 70سال ہے لیکن غسل کے فرائض کے بارے میں مجھے آج قافلے والوں سے پتہ چلا ہے جبکہ اس سے پہلے مجھے یہ بات معلوم ہی نہ تھی کہ غسل میں فرائض بھی ہوتے ہیں ۔ ‘‘

درد بھرے مکتوب کی پکار

            دعوتِ اسلامی کے ایک ذمہ دار اسلامی بھائی کوبیرونِ ملک سے ایک مکتوب موصول ہوا جس کا مضمون کچھ یوں تھا کہ ’’  میرے والدین پہلے مسلمان تھے لیکن علمِ دین اور اسلامی تربیت سے بالکل دور تھے، جس کی وجہ سے غیر مسلموں نے ان کو اپنے باطل مذہب کی تبلیغ کی ،  آہ !  وہ آج غیر مسلم ہیں ۔ اس کے باوجود آج ہمارے یہاں مسلمانوں کو شرعی احکام سکھانے والا کوئی نہیں اور نہ ہی کوئی نیکی کی دعوت دینے والا۔ میرے والدین خود تو غیر مسلم ہوہی گئے لیکن وہ دیگر افرادکے ایمان کی تباہی کے بھی در پے ہیں ۔ لہٰذا یہاں ہمارے ملک میں دعوت اسلامی کے مدنی قافلوں کی اشد ضرورت ہے ،  پاکستان سے عاشقانِ رسول کے مدنی قافلے روانہ کیجئے جو ہمارے ملک میں نیکی کی دعوت عام کریں ۔

اِن سب کی جہالت کا ذمہ دار کون ؟

            ضلع ٹھٹھہ باب السلام سندھ ،  کیٹی بندر کے نزدیک ایک جزیرہ ہے۔ وہاں قادیانیوں نے کھلے عام اپنے دین کی تبلیغ شروع کردی اور دینی معلومات سے محرومی کی وجہ سے وہاں کے لوگ مرتد ہو نا شروع ہوگئے۔ وہاں جہالت کا یہ عالم ہے کہ میت کو دفن نہیں کرتے بلکہ غسل دیئے بغیر سمندر میں پھینک دیتے ہیں ۔

             پیارے اسلامی بھائیو! ذرا سوچئے کہ اب وہاں اور اس قسم کے دیگر علاقوں کے لوگوں کا ایمان کیسے بچایا جائے ؟  میرے دل جلانے والے اسلامی بھائیو!  اس نامساعد حالات کے مقابلے کے لئے ہمیں درجِ ذیل دو مدنی کام اپنی  ذات پر نافذ کرلینے چاہئیں :

 (۱)  خود بھی مدنی قافلوں میں سفر کرنا ہے…اور

 (۲)  اسلامی بھائیوں کو تیار کرکے ہاتھوں ہاتھ مدنی قافلے میں سفر کروانا ہے۔

 



Total Pages: 194

Go To