Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

                                                  چوتھی ترغیب: اللّٰہ تعالٰی کی بارگاہ میں حاضری

             پیارے اسلامی بھائی!   اس حقیقت سے کسی مسلمان کو انکار نہیں ہوسکتا کہ مختصر سی زندگی کے ایام گزارنے کے بعدہر ایک کو اپنے پروردگارعَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضر ہوکر تمام اعمال کا حساب دینا ہے۔ہر ایک کی حاضری کا انداز مختلف ہوگا ،  کوئی گرمی کی وجہ سے اپنے پسینے میں ڈبکیاں کھا رہا ہو گا اور کسی کو اپنی ذِلت ورسوائی کا خوف اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہو گا ،  کسی کی کمر بھوک کی وجہ سے جھک چکی ہوگی تو کوئی پیاس کے مارے بلبلا رہا ہوگا ،  کسی کا رنگ جہنم کو دیکھ کر زرد پڑ گیا ہوگا تو کوئی جنت سے محرومی کی بناء پر اشکِ ندامت بہا رہا ہو گا لیکن اس کے برعکس کچھ خوش نصیب ایسے بھی ہوں گے جنہیں اس دن نہ تو کوئی خوف ہوگا اور نہ کوئی غم ،  وہ  عرش کے سائے میں ہوں گے ،  انہیں سیدھے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا ،  حوضِ کوثر سے چھلکتے ہوئے جام پینے کو ملیں گے ،  پل صراط سے بجلی کی سی تیزی سے گزر جائیں گے اور انہیں جنت میں داخلہ نصیب ہوگا ۔ یقینا پہلا گروہ ان لوگوں کا ہوگا جنہوں نے اپنی زندگی اللّٰہ تعالٰی کی نافرمانی میں بسر کی ہو گی ، جبکہ دوسرا گروہ ان بندوں کا ہوگا جن کی زندگی  اللہ عزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت میں گزری ہوگی ۔

            پیارے بھائی! اگر ہم میدانِ محشر کی پریشانی سے بچنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی مختصر سی زندگی اس طرح سے گزارنی چاہیے کہ  اللہ عَزَّوَجَلَّہم سے راضی ہوجائے ۔ اس مقصد کو پانے کے لئے علمِ دین کی حاجت ہے اور علمِ دین کے حصول کے لئے بہترین ذریعہ راہِ خدا میں سفر کرنے والے عاشقانِ رسول کے مدنی قافلوں میں سفر کرنا بھی ہے ۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ  !  دعوت ِ اسلامی کے سنتوں کی تربیت کے مدنی قافلے 3دن ، 12 دن ، 30 دن اور 12 ماہ کے لئے راہِ خدا    میں سفر کی سعادت حاصل کرتے رہتے ہیں ۔ ان مدنی قافلوں کی برکت سے پنج وقتہ نماز کی پابندی کے ساتھ ساتھ پیارے آقا صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنتیں بھی سیکھنے کو ملتی ہیں اور علمِ دین کے لئے سفر کا ثواب الگ سے حاصل ہوتا ہے جیسا کہ حضرتِ  ابودَرْدَاء رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالتَّسْلِیمکو ارشادفرماتے ہوئے سناکہ  ’’ جو علم کی تلاش میں کسی راستے پر چلتا  ہے تواللّٰہ تعالٰی اس کے لئے جنت کا راستہ آسان فرمادیتاہے اور بے شک فرشتے طالب علم کے عمل سے خوش ہوکر اس کے لئے اپنے پر بچھا دیتے ہیں اور بے شک زمین وآسمان میں رہنے والے یہاں تک کہ پانی میں مچھلیاں عالم دین کے لئے استغفار کرتی ہیں اور عالم کی عابد پر فضیلت ایسی ہے جیسی چودھویں رات کے چاند کی دیگر ستاروں پر اور بے شک علماء انبیا ء    عَلَیْہِمُ السَّلام کے وارث ہیں بیشک انبیاء    عَلَیْہِمُ السَّلام درہم ودینار کا وارث نہیں بناتے بلکہ یہ نفوسِ قدسیہ  عَلَیْہِمُ السَّلام تو صرف علم کا وارث بناتے ہیں تو جس نے اسے حاصل کرلیا اس نے بڑا حصہ پالیا ۔  ‘‘  (سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،باب فضل العلماء۔۔۔الخ،الحدیث:۲۲۳،ج۱، ص۱۴۵)

            اس کے علاوہ جب ہم اپنی روزمرہ کی دنیاوی مصروفیات ترک کرکے اپنے گھر والوں اوردوستوں کی صحبت چھوڑ کران قافلوں میں سفر کریں گے تو ان قافلوں میں سفر کے دوران ہمیں اپنے طرزِزندگی پر دیانت دارانہ غوروفکر کا موقع میسر آئے گا ، اپنی آخرت کو بہتر سے بہتر بنانے کی خواہش دل میں پیدا ہوگی، جس کے نتیجے میں اب تک کئے جانے والے گناہوں کے ارتکاب پر ندامت محسوس ہوگی اور توبہ کی توفیق ملے گی ۔

            ان قافلوں میں مسلسل سفر کرنے کے نتیجے میں فحش کلامی اور فضول گوئی کی جگہ زبان سے دُرُود ِ پاک جاری ہوجائے گا ،  یہ تلاوتِ قرآن ، حمد ِ الٰہی اور نعتِ رسول صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی عادی بن جائے گی ،  دُنیا کی محبت میں ڈوبا ہوا  دل آخرت کی بہتری کے لئے بے چین ہوجائے گا ، اغیار کی وضع قطع پر اِترانے والا جسم اپنے پیارے آقاصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنتوں کا آئینہ دار بن جائے گا ،  غیروں کے طریقوں کو چھوڑ کر اسلافِ کرا م رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلام کے نقشِ قدم پر چلنے کی تڑپ نصیب ہوگی،یورپی ممالک کی رنگینیوں کو دیکھنے کی خواہش دم توڑ دے گی اور مَکَّۃُ الْمُکَرَّمَہو    مَدِیْنَۃُ الْمُنَوَّرَہ کے مقدس سفر کی دیوانگی نصیب ہوگی، وقت کی دولت کو محض دُنیا کمانے کے لئے صرف کرنے کے بجائے اپنی آخرت کی بہتری کے لئے خدمتِ دِین میں صرف کرنے کا شعور نصیب ہوگا۔ اِنْ شَاءَ اللہ عزَّوَجَلَّ ۔ آپ بھی مدنی قافلے میں سفر کی نیت فرمالیں ۔

 سنّتیں سیکھنے کا حلقہ: ( ۰۰:۱۲ سے ۳۰:۱۲)

            اس حلقے میں ۳دن،۱۲دن اور ۳۰ دن کے مدنی قافلوں میں سنتیں سیکھنے کی ترتیب الگ الگ ہوگی۔امیرِ قافلہ سنتیں سکھاتے ہوئے محبت وپیار سے ترکیب بنائے، ہرگز ہرگزکسی کو نہ ڈانٹے اور یادرہے اس حلقے میں سنتیں سکھانی اور یاد کروانی ہیں اور ساتھ ساتھ ان سنتوں پر عمل کا ذہن بھی بنانا ہے ، ایسا نہ ہو کہ شرکا  کو کھڑا کرکے سنتیں سنانے پر زور دیا جائے۔یاد کرنے کے بعد کوئی خود سنانا چاہے تو اس کی مرضی لیکن امیر قافلہ اس معاملے میں شرکا پر ہرگز ہرگز سختی نہ کرے۔

ہے فلاح و کامرانی نرمی وآسانی میں

ہر بنا کام بگڑ جاتا ہے نادانی میں

ہرماہ تین دن کے مدنی قافلے میں سنتیں  اور آداب سیکھنے کے 12 ماہ کا جدول

محرم الحرام میں 3دن کے مدنی قافلے میں سنتیں وآداب سیکھنے کی ترتیب:

پہلا دن:جنازہ کو کندھا دینے کی سنتیں اور آداب                       (نمازکے احکام صفحہ نمبر 388)

دوسرا دن:قبرستان میں داخل ہونیکی سنتیں اور آداب             (اسی کتاب کا صفحہ 656)

تیسرا دن:قبر پر مٹی ڈالنے کی سنتیں اور آداب                   (نمازکے احکام صفحہ نمبر 469)

صفرالمظفر میں 3دن کے مدنی قافلے میں سنتیں وآداب سیکھنے کی ترتیب:

پہلا دن:استنجاء کی سنتیں اور آداب                             ( اسی کتاب کاصفحہ660)

دوسرا دن: حجامت اور موئے زیر ناف کی سنتیں اور آداب         (اسی کتاب کاصفحہ589)

 



Total Pages: 194

Go To