Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

            آپ نے دیکھا کہ سرکارِ دوعالم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کس قدر محنت و مشقت سے اسلام کی دعوت دی اور صحابہ کرامرَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُم اور اولیاءے کرام رَحِمَہُمُ  اللہ  تَعَالٰی نے بھی پیغامِ اسلام کو عام کرنے کے لئے دنیا بھر میں سفر اختیار کیا ۔ انہوں نے اسلام کی خاطر راہِ خدا میں اپنی جانیں تک قربان کیں ۔ ان نفوسِ قدسیہ کی کوششوں ہی کا نتیجہ ہے کہ آج شجرِ اسلام ہرابھرا نظر آرہا ہے ۔

             مسلمانوں کی چودہ سو سالہ تاریخ بتاتی ہے کہ ہم عزت وعظمت اور شان وشوکت کے تنہا مالک تھے مگر آہ! اب مسلمانوں کی حالتِ زار ہمارے سامنے ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نمازی تھے اور ہماری اکثریت بے نمازی ،  وہ سنت کے دیوانے تھے اور ہم فیشن کے مستانے ،  وہ خود بھی نیکیاں کرتے اور دوسروں تک بھی نیکی کی دعوت پہنچاتے تھے جبکہ ہم نہ صرف خود گناہ کرتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی گناہوں کے اسباب مہیا کرتے ہیں ،  وہ اسلام کی سر بلندی کی خاطر راہِ خدا میں سفر کرتے جبکہ ہم محض مالِ دُنیا کی جُسْتْجو میں دور دراز کے سفر اختیار کرتے ہیں،  انہیں نیکیاں کمانے کی جستجو جبکہ ہمیں مال کمانے کی آرزو ۔ جو اسلام ہمیں صحابہ کرامرَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُم  اور اولیاءے کرام رحمھم اللّٰہ تعالٰیکی بے شمار قربانیوں کے بعد نصیب ہوا ہے ،  افسوس صد افسوس !  اس کی ترقی واشاعت کی ہمیں بالکل فکر نہیں ۔ آج مسلمان ترکِ نماز اور دیگر گناہوں پر دلیر ہوچکا ہے ،  مسجدیں ویران اور گناہوں کے اڈے آباد ہیں ،  ہر طرف غفلت کا دور دورا ہے۔

            پیارے بھائی!  عنقریب ہمیں بھی مرنا ہے ،  اندھیری قبر میں اترنا ہے اور  اپنی کرنی کا پھل بھگتنا ہے ۔ قبر کی ہولناک تاریکی اور قیامت کا دہشت ناک منظر ،  یہ بھلانے والی باتیں نہیں ہیں ۔ سرکار   ِمدینہصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بعداب کسی کو نبوت نہیں ملے گی ،  اب ہم غلامانِ مصطفی صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کواپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے اور اس کا مؤثر ترین ذریعہ عاشقانِ رسول کے مدنی قافلوں میں سفر کرنا ہے ۔ اس کے لئے وقت ،  مال اور جان کی قربانی پیش کرنا اور تکالیف پر صبر کرنا ، یہ سب عظیم سنتیں ہیں ۔ مدنی قافلوں میں علمِ دین حاصل ہوتا ہے اور علمِ دین کی فضیلت کے کیا کہنے …

             حضرتِ  سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ میں نے رحمتِ عالم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ارشاد فرماتے ہو ئے سناکہ  ’’ جو علم کی تلاش میں کسی راستے پر چلتاہے تواللّٰہ تعالٰی اس کے لئے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے اور بے شک فرشتے طالبِ علم کے عمل سے خوش ہوکر اس کے لئے اپنے پر بچھا دیتے ہیں اور بے شک زمین وآسمان میں رہنے والے یہاں تک کہ پانی میں مچھلیاں عالم دین کے لئے استغفار کرتی ہیں اور عالم کی عابد پر فضیلت ایسی ہے جیسی چودھویں رات کے چاند کی دیگر ستاروں پر اور بے شک علماء وارث ِانبیا ء     عَلَیْہِمُ السَّلامہیں بیشک انبیا ء     عَلَیْہِمُ السَّلام درہم ودینار کا وارث نہیں بناتے بلکہ یہ نفوسِ قدسیہ   عَلَیْہِمُ السَّلام تو صرف علم کا وارث بناتے ہیں تو جس نے اسے حاصل کرلیا اس نے بڑا حصہ پالیا ۔  ‘‘            (سنن ابن ماجہ ،  کتاب السنۃ، الحدیث:۲۲۳،ج۱،ص۱۴۵)

            پیارے بھائی!  ذرا غور کیجئے کہ دُنیاوی ضروریات کو پورا کرنے اور آسائشوں کے حصول کے لئے لوگ کئی کئی سال کے لئے اپنے والدین ، بیوی بچوں اور دوست احباب کو چھوڑ کر اپنے وطن سے دور دوسرے ممالک کا سفر اختیار کرتے ہیں ۔ آخرت کا معاملہ تودنیا سے کہیں زیادہ اہم ترین ہے ،  میں آپ سے صرف تیس دن کی درخواست کرتا ہوں ،  برائے کرم تیس دن کے لئے مدنی قافلوں میں سفر کی نیت فرما لیں اور اپنا نام بھی لکھوا دیجئے۔اللّٰہ تعالٰی آپ کو اور مجھے دونوں جہاں کی بھلائیاں نصیب فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

دوسری ترغیب : وقت کی قد ر

             اللہ عَزَّوَجَلَّ  نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا اور اپنے پیارے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صدقے میں ایمان عطافرمایا۔ہمارے لئے اس دنیا میں طرح طرح کی نعمتیں پیدا فرمائیں ۔جس طرح چاند ،  سورج،ہوا ،  پانی یہ سب اس کی عظیم نعمتیں ہیں ۔

            پیارے اسلامی بھائی !  اِسی طرح وقت اور زندگی بھی  اللہ عزَّوَجَلَّ  کی نعمت ہے۔ کھوئی ہوئی دولت تو دوبارہ حاصل ہوسکتی ہے ،  مگر کھویا ہوا وقت لاکھ کوشش کے باوجود واپس نہیں آسکتا ۔حضرت سیدنا معقل بن یساررَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ نبی ٔ پاک ، صاحب لولا ک صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’  کوئی دن ایسا نہیں جو دنیا میں آئے اور وہ یہ ندا نہ کرے: ’’ اے ابنِ آدم!  میں تیرے ہاں جدید مخلوق ہوں ،  آج تُو مجھ میں جو عمل کرے گا میں کل قیامت کے دن اس کی گواہی دوں گا ،  تُو مجھ میں نیکی کر تاکہ میں تیرے لئے کل قیامت میں نیکی کی گواہی دوں ،  میرے چلے جانے کے بعد تو کبھی مجھے نہ دیکھ سکے گا۔ ‘‘   (حلیۃ الاولیاء ،  الحدیث:۲۵۰۱،ج۲، ص۳۴۴ )

            دنیا میں وہی لوگ کامیاب ٹھہرے جنہوں نے وقت کی قدر کی۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل و کرم سے اور وقت کی قدر کرنے کی برکت سے عبدالقادر جیلانی قُدِّسَ سِرُّہُ الرَّبَّانی ’’ غوث الاعظم ‘‘ کہلائے، علی ہجویری    عَلَیہِ رَحمَۃُ اللّٰہِالقَوِی ’’ داتا گنج بخش ‘‘  مشہور ہوئے اور معین الدین رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے  ’’ خواجہ غریبِ نواز  ‘‘  بننے کا اعزاز پایا۔

            پیارے اسلامی بھائی !  ہمیں چاہئے کہ اپنے وقت کو  اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت میں گزاریں اور اس کے لئے نیک صحبت اختیار کرنابے حد ضروری ہے۔پیارے آقا، مکی مدنی سلطان ، رحمتِ عالمیان صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:  ’’ اچھے اور بُرے مُصاحب کی مثال ،  مشک اٹھانے والے اور بھٹی جھونکنے والے کی طرح ہے ،  کستوری اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی ،  جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلائے گا یا تمہیں اس سے ناگوار بو آئے گی ۔ ‘‘ (صحیح مسلم،کتاب البر والصلۃ، باب استحباب مجالسۃ الصالحین، الحدیث:۲۶۲۸،ص۱۴۱۴)

            اَلْحَمْدُلِلّٰہعَزَّوَجَلَّ  یہ نیک صحبت ہمیں دعوتِ اسلامی کا پاکیزہ ماحول فراہم کرتا ہے۔ اس مدنی ماحول کی برکت سے لاکھوں مسلمانوں کو گناہوں سے توبہ کی توفیق ملی اور وہ تائب ہوکر صلوٰۃ وسنت کی راہ پر گامزن ہوگئے ۔ جو بے نمازی تھے نمازی بن گئے، بدنگاہی کے عادی نگاہیں نیچی رکھنے کی سنت پر عمل کرنے والے بن گئے،گانے سننے کے شوقین سنتوں بھرے بیانات اور مدنی مذاکرات کے کیسٹ سننے والے بن گئے ،  فحش کلامی کرنے والے نعتِ مصطفیصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   پڑھنے والے بن گئے ،  یورپی ممالک کی رنگینیوں کو دیکھنے کے خواب



Total Pages: 194

Go To