Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

(11) نَماز کی ترغیب اس انداز میں دلایئے کہ وہ نَمازی ہو تب بھی اُس کو بُرا نہ لگے اور بے نَمازی ہو تب بھی بول نہ پڑے کہ میں بے نَمازی ہوں ، نیز اُس کے علاقے کی اس مسجِد میں نَماز کی درخواست کیجئے جہاں دعوتِ اسلامی کا مدنی کام ہو رہا ہو۔

(12)   اجتِماع و مدنی قافِلے کی بَرَکتیں اور فضیلتیں بیان کیجئے۔ اگر سامنے والا صِرف  ’’ ہاں  ‘‘  کہے تو اُس سے اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّبھی کہلوالیجئے ۔ اور ممکِنہ صورت میں یہ بھی کہہ دیجئے کہ ہمیں معنٰی پر نظر رکھتے ہوئے اِنْ شَاءَ اللہ عزَّوَجَلَّ کہنے کی عادت ڈالنی چاہئے  ’’  اِنْ شَاءَ اللہ عزَّوَجَلَّ  ‘‘ کے معنٰی ہیں  ’’   اللہ عزَّوَجَلَّ نے چاہا تو ‘‘  اور واقِعی  اللہ عَزَّوَجَلَّ کے چاہے بِغیر ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے۔

(13) اگر مدنی قافلے میں سفر کے لئے تیارہوجائے تو سفر کی تاریخ لے لیجئے، نام و پتا ،  فون نمبر وغیرہ اپنے پاس محفوظ کر لیجئے۔ اور اس وقت تک رابِطہ کرتے رہئے جب تک سفر مکمَّل کر لینے کی سعادت حاصِل نہ کر لے۔

(14) مدنی قافلے میں سفرکے بعد بھی اُس سے مَربُوط (یعنی رابطے میں ) رہئے  یہاں تک کہ وہ  مدنی ماحول میں رچ بس کر دوسروں کو مدنی قافِلےکا مسافر بنانے والانہ بن جائے۔

(15) ہاتھوں ہاتھ مسجدمیں آنے کی دعوت اس طرح دیں : ’’ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّاس وقت مسجد میں سیکھنے سکھانے کا حلقہ جاری ہے۔ آپ بھی اس میں شرکت فرما لیجئے۔ ‘‘  

(16) اگروہ تیارہوجائے توان کواپنے ساتھ مسجدمیں لے آئیں اورحلقے میں شامل کردیں ۔

(17) اگر وہ ساتھ چلنے کے لئے تیار نہ ہوں تو اُن سے پوچھ لیں کہ ’’  پھر آپ کس وقت تشریف لائیں گے؟  ہم آپ کا انتظار کریں گے۔ ‘‘

(18) اِنفِرادی کوشش کے دوران کسی سے بحث میں ہرگزہرگز نہ اُلجھیں ۔

(19) اگر کوئی تنگ کرے یا ڈانٹ دے تو خاموشی اختیار کریں اور صبر کرکے ڈھیروں ثواب حاصل کریں ۔

(20)       اِنفِرادی کوشش کے لئے دئیے گئے ۴۰ منٹ کے وقت کی پابندی فرمائیں ،  ایسا نہ ہو کہ کوئی ایک گھنٹہ اِنفِرادی کوشش میں صرف کر دے تو کوئی ڈیڑھ گھنٹہ۔ کیونکہ اس صورت میں جدول کے دوسرے حلقے متأثر ہونگے۔

(21) آپس میں کسی پر تنقید نہ کریں ۔

(22)  امیر قافلہ کے بارے میں بدگمانیاں نہ کریں ۔

(23) کسی ذمہ دار کے بارے میں بحث و مباحثہ کرنے کے بجائے صرف اور صرف مدنی قافلے سے قافلہ تیار کرنے اور واپس علاقے میں جا کرذیلی حلقے میں مدنی کام کرنے کے بارے میں گفتگو کریں ۔

(24) اِنفِرادی کوشش کے دوران کم از کم تین اسلامی بھائی مسجد میں ہی تشریف رکھیں اور ذیلی حلقے کے مدنی کاموں پر ایک دوسرے کا ذہن بنائیں ۔

(25) ۳۰ دن اور ۱۲ دن کے مدنی قافلے میں جن اسلامی بھائیوں کو ترغیبات گزشتہ حلقے میں یاد نہ ہوتی ہوں تو اُن کواِس حلقے میں بھی یاد کروائی جاسکتی ہیں اور ایک دوسرے کو سنائی جائیں ۔

 انفرادی کوشش کاحلقہ:(۲۰:۱۱  سے ۰۰:۱۲)

            اس میں اسلامی بھائی {3}  نظریں جھکائے باوقار انداز میں  {4}  عام مسلمانوں کے پاس خود جا کر ان کو سلام کرکے اصلاحِ اعمال،گناہوں سے اجتناب اور موت و آخرت کی سوچ دیتے ہوئے مدنی قافلوں میں سفر کے لئے ان پر انفرادی کوشش کریں اورہاتھوں ہاتھ مسجد میں لانے کی ترکیب بھی بنائیں ۔  {5}     مخاطب کے چہرے پر نگاہیں گاڑے بغیر گفتگو کرنے کی کوشش فرمائیں ۔ (اس کی عادت بنانے کیلئے    اِنْ شَاءَ  اللہ عَزَّوَجَلَّ قفل مدینہ کے عینک کا استعمال مفید رہے گا)

اِسی دوران کچھ اسلامی بھائی مسجد میں ذیلی حلقے کے مدنی کاموں پر ایک دوسرے کا ذہن بنائیں ۔اسی وقت میں بااثرشخصیات مثلاََعلمائ،مشائخ،چودھری،وڈیروں وغیرہ سے ملاقات کرکے دعوت اسلامی کے شعبہ جات کاتعارف اورمدنی قافلے میں سفرکی دعوت پیش کریں ۔ (۴۱ منٹ )

انفرادی کوشش کے لئے ترغیبات

پہلی ترغیب: راہِ خدا       عَزَّ وَجَلَّ  میں قربانیاں

                اَلْحَمْدُلِلّٰہ عزَّوَجَلَّ !  یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم مسلمان ہیں ۔ ذرا غور کیجئے کہ جس اسلام کا نور ہمیں گھر بیٹھے نصیب ہوگیا اس کو پھیلانے کے لئے ہمارے پیارے پیارے آقا صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے کتنی تکالیف اٹھائیں ۔ کفّارِ بداطور آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بے حد ستاتے ،  برا بھلا کہتے ،  آپ کی راہوں  میں کانٹے بچھاتے ، کبھی سجدے کی حالت میں آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی پشت ِ اطہر پر اونٹ کی اوجھڑی رکھ دیتے تو کبھی آپ کے مبارک گلے میں چادر کا پٹہ ڈال کر اس زور سے کھینچتے کہ آنکھیں اُبل آتیں ۔ جب آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ دعوت ِ اسلام کے لئے طائف تشریف لے گئے تو کفّار ناہنجار نے  گالیاں دیں ،  مذاق اڑایا اور پتھراؤ تک کیا جس سے جسمِ نازنین لہولہان ہوگیا اور نعلین خون سے بھر گئیں ۔ جب سرکار صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بے قرار ہوکر بیٹھ جاتے تو کفّار جفاکار بازو تھام کر اٹھا دیتے ۔ جب آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ دوبارہ چلنے لگتے تو وہ پھر سے پتھر برسانے لگتے ۔ مصطفی جانِ رحمت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ہمت نہ ہاری اور مسلسل کوشش جاری رکھی ،  بالآخر یہ کوششیں رنگ لائیں اور اسلام کی روشنی چاروں اطرافِ عالَم میں پھیل گئی ۔

 



Total Pages: 194

Go To