Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

ارشادات، علاقے میں مدنی قافلے تیار کرنے کے مدنی پھول، مدنی قافلے کے ذریعے مزیدمدنی قافلے سفر کروانے کے طریقے ،  امیرِ قافلہ اور شروع سے آخر تک مدنی قافلے کا سفر کیسا ہونا چاہئے، احترامِ مسجد کے مدنی پھول، مدنی قافلے سے متعلق چند ضروری سوال جواب، ان کے علاوہ مزید عنوانات بھی شامل ہیں۔

باب1:                                                                مدنی قافلہ

د رود         شریف کی فضیلت

            شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنت، حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رضوی   دامَت برکاتُہُمُ العالِیَہ اپنی کتاب  ’’ گھریلوعلاج ‘‘ میں نقل فرماتے ہیں کہ مدینیکے سلطان،رحمتِ عالمیان ،  سرورِ ذیشان صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ جنت نشان ہے: ’’ جو مجھ پرروزانہ دن میں ایک ہزار بار دُرُودِپاک پڑھے گاوہ اُس وقت تک نہیں مرے گا جب تک جنّت میں اپنا مقام نہ دیکھ لے۔ (اَلتَّرْغِیب وَالتَّرْہِیب ج۲ص۳۲۸ حدیث ۲۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 (1)مدنی قا فلے میں سفرکرنے کی اہمیت

          پیارے اسلامی بھائیو!  

            آج ساری دنیا میں مسلمانوں کی اکثریت شرعی احکام پر عمل کے معاملے میں بے حد غفلت وسستی کا شکار ہے ۔

            عبادات کو ہی لے لیجئے نماز وروزہ وغیرہ کی ادائیگی میں جس طرح کوتاہی کی جاتی ہے اس کا اندازہ گنجان آباد مقام پر کسی بھی مسجدمیں نمازیوں کی تعداد کو دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے یا پھر دورانِ رمضان  ’’ دن دہاڑے  ‘‘ ہوٹلوں وغیرہ  میں بلاعذرِشرعی روزہ نہ رکھنے والے ’’ روزہ خوروں  ‘‘ کی تعداد کو دیکھ کر،… اور جہاں تک معاملات مثلاً آپس میں خرید وفروخت ،  نکاح وطلاق ،  اُجرت دے کر کوئی کام کروانے کا تعلق ہے تو علمِ دین سے محرومی کے باوجود کوئی بھی کام کرتے وقت عموماً اسکی شرعی حیثیت معلوم ہی نہیں کی جاتی کہ ہم جو کچھ کرنے جارہے ہیں وہ جائز ہے یا ناجائز؟  اور اگر کوئی خیرخواہی کرتے ہوئے اس کے ناجائز ہونے کے بارے میں بتا بھی دے تو مختلف حیلوں بہانوں سے اپنے فعل کو جائز قراردینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ رہے عقائد تو ان کا معاملہ سب سے زیادہ نازک ہے کہ ہماری اکثریت تشویش کی حد تک اپنے عقائد سے نابلد ہے جس کی وجہ سے ایسے کلمات بھی بک دیئے جاتے ہیں جنہیں علمائے کرام نے کفر قرار دیا ہے۔ (کفریہ کلمات کی معلومات کے لئے امیرِ اہلِسنت مدَّ ظلہ العالی کی کتاب  ’’ کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب ‘‘ کا مطالعہ فرمائیے)

                 صرف اسی پر بس نہیں بلکہ گناہوں کا ایک سیلاب ہے جس میں مسلمان بہتے جارہے ہیں ،  جھوٹ، غیبت ،  چغلی ،  چوری ،  قتل ،  جواء ،  سود کا لین دین ،  زنا، امانت میں خیانت ،  والدین کی نافرمانی ،  مسلمانوں کو بلاوجہ شرعی اذیت دینا ،  بغض وکینہ ،  تکبر ،  حسد وغیرہ۔

            الغرض وہ کون سا گناہ ہے جس کا ارتکاب آج ہمارے معاشرے میں کثرت سے نہیں کیا جارہا ؟  ایک طرف تو اتنی پریشان کن صورتِ حال اور دوسری طرف اغیار ہیں جو مسلمانوں کو تباہ وبرباد کرنے کے لئے اپنے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں حتّٰی کہ اپنے تمام تروسائل بھی اس مقصد کی تکمیل کے لئے استعمال کرنے سے دریغ نہیں کرتے ۔ کفارکی تحریکیں کس قدر تیزی سے اپنے باطل مذہب کے لیے کام کررہی ہیں اس کا اندازہ درجِ ذیل واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے :

             ٹرین میں ایک اسلامی بھائی کی ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جو حلیے سے غیرملکی لگ رہا تھا ۔جب اسلامی بھائی نے اس سے پوچھا کہ  ’’ تمہارا پاکستان آنے کا کیا مقصد ہے؟   ‘‘  تواس نے جواب دیا کہ ’’  میں اپنے فلاں مذہب  کی تبلیغ کے لئے آیا ہوں اس کی گفتگو سے معلوم ہوا کہ وہ پاکستان کے صوبہ باب الاسلام سندھ میں دادو شہر میں رہتا ہے اور 15سال سے اس کام میں مصروف ہے، اس کی شادی پاکستان کے مشہور شہر مری میں ہوئی ہے،اس کے والدین کینیڈا میں رہتے ہیں جو سال میں ایک مرتبہ پاکستان آتے ہیں یعنی اس کی اپنے والدین سے سال میں ایک مرتبہ ملاقات ہوتی ہے اور وہ مسلسل اپنے(باطل) مذہب کی تبلیغ کررہا ہے۔ ‘‘

            پیارے اسلامی بھائیو! یہ تو ایک مثال تھی، اس جیسے نہ جانے کتنے لوگ ہوں گے جو مسلمانوں کو ایمان کی دولت سے محروم کرنے کے لئے سرگرمِ عمل ہوں گے ۔

            اس لئے ہمیں چاہئے کہ خواب ِ غفلت سے بیدار ہوں اور اپنی آخرت کی بہتری کے لئے بانیٔ دعوتِ اسلامی ،  امیرِاہلسنّت حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطاؔر قادری رضوی دامَت برکاتُہُمُ العالِیَہکے عطا کردہ اس مدنی مقصد کو اپنا لیں کہ  ’’ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے ۔ ‘‘ اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ یاد رکھئے ! اپنی اصلاح کے لئے مدنی انعامات پر عمل اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کے لئے راہِ خداعَزَّوَجَل میں سفر کرنے کے لئے  ’’ دعوتِ اسلامی ‘‘ کے مدنی قافلوں کا مسافر بننا بے حد ضروری ہے۔کیونکہ ساری دنیا میں نیکی کی دعوت مدنی قافلوں کا مسافر بن کر ہی عام کی جاسکتی ہے ۔  خود ہمارے مدنی آقا صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے راہِ خدا میں متعدد سفر کئے، جن کے دوران سرور ِ کونین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے بہت سی تکالیف  کاسامناکیا، مصیبتیں جھیلیں ،  طعنے سنے، زخم سہے، پتھر کھائے، فاقوں کے سبب پیٹ پر پتھر باندھے،…لیکن پھر بھی راتوں کو اٹھ اٹھ کر، رو روکر لوگوں کی ہدایت کے لئے دعائیں کیں اورراہِ خدا میں سفر کرکے لوگوں کے پاس جاجاکر اسلام کی دعوت کو عام کیا۔

             اسی طرح امام حسین رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے بھی راہِ خدا میں سفر کیا اور کربلا  کے میدان میں بھوک، پیاس اور دشمنوں کے بہت بڑے گروہ کا سامنا کیا ،  حتّٰی کہ اسلام کی سربلندی کے لئے اپنی جان تک قربان کردی ۔ خود شہید ہوکر اسلام کا پرچم اونچا کرگئے اور ہمیں یہ سبق دے دیا کہ ’’ اسلام کی اشاعت اور نیکی کی دعوت دینے کے لئے راہ خدا میں سفر اختیار کریں۔‘‘

            صحابہ کرام رِضْوَانُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِمْ کی اکثریت ایسی تھی جنہوں نے سرکارِ مدینہصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے علمِ دین حاصل کیا پھراسے ساری دنیا میں پھیلانے کے  لئے راہِ خدا



Total Pages: 194

Go To