Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

سوتے وقت کے اَوْراد پڑھ کر ممکنہ صورت میں پردے میں پردہ کی ترکیب کر کے سو جائیں گے۔

            وقتِ مُناسب پر تہجد کی نماز کے لئے جگایا جائے گا ،  تمام اسلامی بھائی (مدنی انعام نمبر19پر عمل کی نیت کرتے ہوئے) تہجد کی نماز پڑھنے کی سعادت حاصل کریں گے پھر (مدنی انعام نمبر70پر عمل کی نیت کرتے ہوئے)تلاوت اور ذکر ودُرُوْد میں مشغول ہوجائیں گے۔ اذانِ فجر کے بعد تمام اسلامی بھائی (مدنی انعام نمبر35 پر عمل کی نیت کرتے ہوئے) صدائے مدینہ کی سعادت پانے کے لئے مسجد سے باہر تشریف لے جائیں گے۔ جماعتِ فجر سے تقریباً دس منٹ قبل واپس آکر (مدنی انعام نمبر2پر عمل کی نیت کرتے ہوئے) مسجد کی پہلی صف میں مع تکبیر اولیٰ کے ساتھ نمازِ فجر باجماعت ادا کریں گے، نماز کے بعد ایک اسلامی بھائی اعلان فرمائیں گے پھر اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ بیان ہوگا ،  اس کے بعد اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سیکھنے سکھانے کا عمل جاری رہے گا ۔ پھر تمام اسلامی بھائی (مدنی انعام نمبر19پر عمل کی نیت کرتے ہوئے) اِشراق وچاشت کے نوافل ادا کرنے کی سعادت حاصل کریں گے ۔ پھر (مدنی انعام نمبر17کے مطا بق) وقفۂ  آرام ہوگا ۔ (45:8)پر تمام اسلامی بھائیوں کو نیند سے بیدار کیا جائے گا۔ تمام اسلامی بھائی طبعی حاجات وغیرہ سے فارغ ہو کر (00 :9)بجے ناشتہ کریں گے اور اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ساڑھے نو بجے دوبارہ اسی طرح مدنی مشورہ کا حلقہ شروع ہوجا ئے گا۔

نـوٹ:

            امیرِ قافلہ کوچاہئے کہ جس دن کا جوجدول ہو اسی کے مطابق جدول کی دُہرائی کرے،ایسا نہ ہو کہ جدول شروع ہورہا ہو ظہر سے اور دہرائی (9:30)بجے سے شروع کی جائے، اوراگر واپسی مغرب میں ہے یا عشاء میں یا کسی بھی وقت ہو وہیں تک جدول دُہرائے آگے نہ دُہرائے۔ بالخصوص آخری دن امیرِ قافلہ کو چاہئے کہ جدول کی دہرائی کرنے کے بعد شرکا کا یہ ذہن بنائے کہ آہ! آج ہمارے مدنی قافلے کا آخری دن ہے اور  اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمارے مدنی قافلے کی واپسی مدنی تربیت گاہ میں ہوگی،جہاں ہم اپنے مدنی قافلے کی کارکردگی پیش کریں گے اور پھر امیر قافلہ،شرکاکو ترغیب دلاکراچھی اچھی نیتیں بھی کروائے۔

 (ii)اب امیر قافلہ اعلانات کی دُہرائی کی ترکیب بنائے۔

 اعلانات کی دُہرائی:

            جَدْوَل کی دُہرائی کے بعداب امیر قافلہ اعلانات کی اہمیت بتائے اور روزانہ اعلان کے مدنی پھولوں سے چندمدنی پھول پیش کرے ۔

اعلان کرنے کی فضیلت:

          پیارے اسلامی بھائیو!  اعلان بیان ہی کی ایک کڑی ہے، اگر ہم بیان کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں چاہئے کہ پہلے اعلان کرنا سیکھیں ۔ اعلان بھی ایک قسم کی نیکی کی دعوت ہے،چنانچہ اگر کسی کے اعلان کرنے سے کوئی بیان میں بیٹھ گیا اور عمل کرنے والا بن گیا تو اعلان کرنے والے کو بھی برابر ثواب ملتا رہے گا۔ اعلان کرنے والے کو بھی ہر بات کے بدلے ایک سال کی عبادت کا ثواب ملے گا اِنْ شَاءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ۔

                 حضرت سیدنا امام محمد غزالی علیہ رَحمَۃُ اللّٰہِ الوالی نقل فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلامنے بارگاہ ِ الٰہیعَزَّوَجَلَّمیں عرض کی: ’’ یااللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ!  جو اپنے بھائی کو بلائے ، اسے نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کرے تو اس کی جزا کیا ہے ؟  ‘‘  ارشاد فرمایا: ’’ میں اس کی ہر بات پر ایک سال کی عبادت کا ثواب لکھتا ہوں اور اسے جہنم کی سزا دینے میں مجھے حیا آتی ہے۔ ‘‘ (مکاشفۃ القلوب، باب فی الامر بالمعروف والنھی عن المنکر،ص۴۸)

اعلان کے مدنی پھول:

            چونکہ اعلان بھی ایک قسم کی نیکی کی دعوت ہے، لہٰذا اس کے آداب کو پیش نظر رکھنا بھی بہت ضروری ہے۔

(۱) اعلان کرنے والے کے لئے ضروری ہے کہ پہلی صف میں امام صاحب کے قریب، اقامت کہنے والے کی دائیں جانب نماز اداکرے۔

(۲)  امام صاحب کے سلام پھیرتے ہی اعلان کرنے والا اسلامی بھائی کھڑے ہوکر قبلہ شریف کی طرف رخ کرکے نمازیوں کی تعداد کے مطابق آواز بلند کرتے ہوئے اعلان کرے۔ مگر اس بات کا خیال رکھے کہ ایسی بلند آواز بھی نہ ہو جس سے نماز پڑھنے والوں کو تشویش ہو۔

(۳) اعلان بیان کے لئے تعارف کی حیثیت رکھتا ہے۔چنانچہ اعلان جتنے اچھے انداز سے ہوگا،سننے والے بیان کے بارے میں اُتنا ہی اچھا تأثر لیں گے اور اگر اعلان کاانداز نامناسب ہویا نہایت تیزی سے اعلان کیا گیا تو سننے والے بیان کے بارے میں بھی اسی قسم کے تأثرات قائم کرلیں گے۔

(۴) اعلان کرنے والا چادرنیچے رکھ کرہی کھڑا ہو اورہاتھ نماز کے انداز میں نہ بندھے ہوں ۔

(۵) اعلان کو پہلے ہی سے یاد کرنا بھی ضروری ہے۔

(۶) اعلان وہی کیا جائے جو جدول میں دیا گیا ہے۔

(۷)  اعلان ٹھہر ٹھہر کر سمجھانے والے انداز میں ہو۔

            اب(دورانِ مشورہ) امیر قافلہ پہلے کھڑے ہوکر خود اعلان سنائے۔ پھر شرکاسے یوں عرض کرے ’’ آپ بھی اسی طرح اعلان دُہرانے کی کوشش کریں  ‘‘  لیکن امیرِ قافلہ کسی سے زبردستی نہ کرے ، اب شرکا اعلانِ عصر دُہرائیں پھر امیرِقافلہ  کھڑے ہوکر اعلانِ مغرب کرکے دکھائے پھر شرکاء اعلانِ مغرب دہرائیں ،  اسی طرح فجرکا اعلان۔

             اعلانات درجِ ذیل ہیں :

 



Total Pages: 194

Go To