Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

            شیطان کی ایک اور چال وقت کا ضائع کروانا بھی ہے،اس کے لئے شیطان یہ بھی سکھاتا ہے ، مثلاً کھاناپکانے اور کھانا کھانے میں جان بوجھ کر زیادہ وقت صرف کرنا،بلا ضرورت غسل کرنا ، کپڑے یابرتن دھونے میں دیر لگانا، ضرورت کی اشیاء کی خریداری کے بہانے بازاروں میں گھومنا، رات کو دیر تک باتیں کرکے جاگنا اور صبح سیکھنے سیکھانے کے حلقوں سے غفلت کرنا یہ بھی شیطان کی ایک چال ہے ظاہر ہے کہ جب کوئی اسلامی بھائی آرام کے وقفے میں اِدھر اُدھر گھومے گا یا لائٹ جلا کر کوئی کام کرے گا ، دوسروں کے ساتھ مل کر باتیں کرے گاتو دوسرے اسلامی بھائیوں کی نیند میں خلل پڑے گا اور اس طرح وہ بھی صبح حلقوں میں سستی کا شکار رہیں گے ۔

            لہٰذاہر اسلامی بھائی سے دردمندانہ التجاء ہے کہ شیطان کی ان خطرناک چالوں کو بھرپور حکمتِ عملی اور جذبہ سے ناکام بنانے کی کوشش کرے ۔  اللہ عَزَّوَجَلَّ ہم سب کوشیطان کے حیلوں سے محفوظ فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

(۳)صبر:

          ہمیں راہِ خدا  میں سفرکرتے ہوئے قدم قدم پرصبرکے مواقع آئیں گے، اس لئے ہمیں یہ نیت کرنی ہوگی کہاِنْ شَاءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّمیں راہ ِخدامیں آنے والی تکالیف پرصبرکرکے شیطان کومایوس کرتارہوں گا۔

             ہمارے پیارے میٹھے میٹھے مصطفیصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کافرمان عالیشان ہے :  ’’ مسلمان کوجوبھی تکلیف ، اذیت ، اندیشہ ، غم اورملال پہنچے یہاں تک کہ اگراس کو کانٹابھی چبھ جائے تو  اللہ عزَّوَجَلَّ ان تکالیف کے سبب اس کے گناہ مٹا دیتا ہے۔ ‘‘ (صحیح البخاری،کتاب المرضٰی، باب کفا رۃ المرض، الحدیث:۵۶۴۰،ج۴، ص۳)

          سُبْحٰنَ  اللّٰہ عَزَّوَجَلّ! صبر کرنے والے کے وارے ہی نیارے ہوجاتے ہیں ،    اللہ عزَّوَجَلَّ کی رحمت سے اس کے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں ۔

            راہِ خدا میں آنے والی تکالیف پرصبرکرنا ہمارے میٹھے میٹھے آقاصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی پیاری پیاری سنت ہے ۔اے کاش!  ہم پربھی کرم ہوجائے اورہم بھی سنت پرعمل کرنے والے بن جائیں ،  راہ خدا عزَّوَجَلَّ کی تمام ترسختیوں پرصبرکرناسیکھ جائیں ۔ ہمارے میٹھے میٹھے آقا صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی راہ میں کانٹے بچھائے گئے، طائف میں پتھر برسائے گئے مگرپھربھی آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ لوگوں کونیکی کی دعوت دیتے رہے ۔

            جب بھی کوئی اسلامی بھائی کسی کونیکی کی دعوت دے اوراس کے سبب کوئی تکلیف اٹھانی پڑے تو  اللہ عزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی تکالیف کویادکرکے  اللہ عَزَّوَجَلَّکاشکراداکرے کہ اس نے اسے دین کی خاطر سختیاں جھیلنے والی سنت اداکرنے کی سعادت عطا فرمائی۔اَلْحَمْدُ ِللّٰہ عَزَّوَجَلَّ

 (۴) مساجد کا ادب و احترام :

                پیارے اسلامی بھائیو!  اَلْحَمْدُ ِللّٰہعَزَّوَجَلَّمدنی قافلے میں سفر کی بر کت سے ہمیں شب و روز مسجد میں گزارنے کی سعادت حاصل ہو تی ہے جو کہ یقیناً بہت بڑی سعادت ہے۔حضرت سیدنا ابو دردا ء رضی اللّٰہ تعالٰی عنہسے روایت ہے کہ  سرکارِ دوعالَم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمان خوشبودارہے: ’’  مسجد پرہیز گار کا گھر ہے  اور جس کا گھر مسجد ہو  اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے اپنی رحمت،رضا ، اور پل صراط سے بَحِفاظت گزار کر اپنی رضا والے گھر جنت کی ضمانت دیتا ہے ،  ‘‘ (مجمع الزوائد ، کتاب الصلاۃ ، باب لزوم المسجد،الحدیث:۲۰۲۶،ج۲،ص۱۳۴ )

            حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہسے روایت ہے کہ سرکارمدینہ، باعثِ نزولِ سکینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشادفرمایا:  ’’  جب کوئی بندہ ذکر ونماز کے لئے مسجد کو ٹھکانہ بنا لیتا ہے تو  اللہ  عَزَّوَجَلَّاس سے ایسے رضا کا اظہار فرماتا  ہے جیسے لوگ اپنے گمشدہ شخص کی اپنے ہاں آمد پر خوش ہوتے ہیں ۔ ‘‘  (سنن ابن ماجہ،کتاب المساجدوالجماعات،باب لزوم المساجد،الحدیث:۸۰۰،ج۱،ص۴۳۸)

             جہاں مسجد میں رہنا اس قدر اجر و ثواب کا باعث ہے وہیں مسجد کا ادب واحترام نہ کرنے پر سخت وعیدیں بھی آئی ہیں :

             حضرت سیدنا حسن بصری رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ سے روایت ہے کہ سرورِ کائنات، شہَنشاہِ موجودات صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ ذیشان ہے :  ’’ لوگوں پر ایک زمانہ  ایسا آئے گا کہ مساجد میں دنیا کی باتیں ہوں گی ، تم ان کے پاس مت بیٹھوکہ ان کو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے کچھ کام نہیں ۔ ‘‘ (کشف الخفا ء ، الحدیث:۳۲۴۶،ج۲، ص۳۶۳)

             حضرت سیدنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ ’’  مسجد میں ہنسنا قبر میں اندھیرا (لاتا)ہے۔ ‘‘ (الجامع الصغیر، الحدیث :۵۲۳۱ ج۱،ص۳۲۲ )

            شیطا ن کی پوری کوشش یہ ہو گی کہ مسجد میں دنیا وی باتیں کروائے، یا وہ مسجد میں با ت با ت پرہنسانے کی کوشش کرے گا لہٰذا تمام اسلامی بھائی نیت کیجیے کہ مسجد کا خوب ادب و احترام کرتے ہوئے مکمل سنجیدہ رہنے کی کوشش کریں گے۔ ایسا نہ ہوکہ ہم نے راہِ خدا میں سفر تو نیکیاں کمانے کے لئے اختیار کیا مگرمسجد کی بے ادبی کر کے ، امیرِ قافلہ کی نا فرمانی کرکے ، کسی کی دل آزاری  کرکے ،  اپنا قیمتی وقت غفلت میں گزار کر ، جب واپس پلٹیں تو بہت سارے اجرو ثواب سے محرومی،اور  گناہوں کا انبار ہمارے سر پر ہو۔

              اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں مدنی مرکز کی ہدایات کے مطابق سفر کرنے ،  اپنے امیرِقافلہ کی ہر پل اطاعت کرنے، مساجد کا ادب و احترام کرنے ، شیطان کے حیلے اور سازشوں سے بچنے ،  ایک دوسرے کا خیال رکھنے ، اور راہِ خدامیں آنے والی تکالیف پر صبر کرنے کی تو فیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

          شیخِ طریقت،امیرِاہلِسنّتدامَتْ بَرکاتُھُمُ العالیَۃنے مدنی قافلے میں سفر کرنے کے لئے ہمیں ۷۲نیتیں عطافرمائی ہیں ، چنانچہ

            آپ دامَتْ بَرکاتُھُمُ العالیَۃ  ارشادفرماتے ہیں : مدنی قافلے میں سفر کیلئے صرف پریشانی دور ہونے کی دُعاکی نیت کرنے کے بجائے آخرت کے تعلق سے مزید اچھی اچھی نیتیں بھی شامل ہوں تو مدینہ مدینہ۔

             حدیثِ پاک میں ہے:  ’’ مسلمان کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے ‘‘ ۔(المعجم الکبیرللطبرانی،حدیث:۵۹۴۲،ج۶،ص۱۸۵)

            اب ہم مدنی قافلے میں سفر پر روانہ ہورہے ہیں توشیخِ طریقت امیراہلسنّت دامَتْ بَرکاتُھُمُ العالیَۃکی عطاکردہ 72 نیتیں مل کر دہر الیتے ہیں اور ان پر عمل کرنے کی  نیت بھی کرلیتے ہیں ہر



Total Pages: 194

Go To