Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

            حضرت سیدناابو سعید خدری رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا : ’’ جو اپنے دین کا علم سیکھنے کے لئے صبح کو چلا یاشام کو ، وہ جنّتی ہے۔‘‘(کنزالعمال،کتا ب العلم ، الحدیث:۲۸۷۰۲،ج۱۰،ص۶۱)

            حضرت سیدنا عَمْرْوبن قیس  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہسے روایت ہے کہ نبی کریم   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’  جس کے قدم راہِ خدا   میں خاک آلود  ہوجائیں  اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے پورے جسم کو جہنم پر حرام فر مادے گا۔ ‘‘ (المعجم الاوسط ، من اسمہ محمد،الحدیث:۵۵۳۳،ج۴،ص۱۵۱)

                پیارے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے مدنی قافلے میں سفر کی برکت سے نہ صرف بے شمار نیکیاں حاصل ہوتی ہیں بلکہ راہ ِ خدا میں سفر کرنے والے کے لئے جہنم سے آزادی اور جنت کی بشارت بھی احادیث میں موجود ہے ،  لہٰذا پہلے تو شیطان کوشش کرتا ہے کہ کسی کو  مدنی انعامات پر استقات پانے کے لئے مدنی قافلے میں سفر  کرنے ہی نہ دے پھر اگر کوئی  اللہ  عَزَّوَجَلَّکے فضل و کرم سے مدنی قافلے میں سفرکرنے  میں کامیاب ہوجا ئے تو پھر شیطان اس کوشش میں لگ جاتا ہے کہ کسی طریقے سے مدنی قافلے میں ایسے کام کروائے جس کی وجہ سے ثواب کے بجائے گناہوں کا انبار جمع ہوجائے۔اگرہممدنی مرکزکی ہدایات کے مطابق سفرکریں گے تواِنْ شَاءَ  اللہ عزَّوَجَلَّ شیطان سے حفاظت بھی رہے گی اوربے شمار نیکیاں حاصل کرنے میں آسانیاں بھی ملیں گی اور مدنی انعامات پر عمل کرنا ہمارے لئے بہت آسان ہوگا۔

نوٹ: مدنی انعامات سے متعلق مزید معلومات کے لئے صفحہ نمبر709 تا 711 ملاحظہ فرمایئے۔

تربیتی بیان کا آخری حصہ

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  چار مدنی پھولوں پر عمل کرنا ہمارے مدنی قافلے

میں سفر کی بنیاد ہے جس طرح مکان کے دیرپارہنے کا انحصاراس کی بنیاد پر ہوتا ہے اسی طرح مدنی قافلے کی کامیابی ان چار اُصولو ں پر منحصر ہے ۔

                                                وہ چار مدنی پھول یہ ہیں :

            (۱)امیر کی اطاعت (۲) شیطان کے حیلے اورسازشوں سے بچنا

            (۳)صبر             (۴)مساجدکا ادب واحترام۔ 

  (۱) امیر کی اطاعت:

            جب بھی کوئی سفر کیا جائے تو ہمیں چاہئے کہ کسی اسلامی بھائی کو اپنا امیر مقرر کر لیں جیسا کہ مدنی آقاصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمان عالیشان ہے:  ’’ اگر تین شخص سفر میں ہو ں تو انہیں چاہئے کہ ایک کو اپنا امیر بنالیں ۔ ‘‘  (کنزا لعمال ، الحدیث۱۷۴۹۶،ج۶،ص۳۰۰ )

                اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ! عاشقانِ رسول کے مدنی قافلے میں بھی کسی ایک کو  امیرِ قافلہ بنایا جاتا ہے تاکہ قافلے میں تمام معمولات منظم انداز میں پورے کئے جاسکیں ۔

          اطاعت کاپہلو تقریباًہر جگہ موجودہے، مثلاًہر ادارے میں اُصول و ضوابط ہوتے ہیں اور ایک سربراہ ہوتا ہے ، گھر کانظام چلانے کے لئے بھی ایک سربراہ ہوتا ہے ، جو سربراہ کی اطاعت کرتا ہے فرمانبردار کہلاتاہے اور فائدے میں رہتاہے۔لہٰذا ہم بھی امیرِقافلہ کی اطاعت کریں گے تو بیشمار فوائد وبرکا ت حاصل کرسکیں گے،جوامیرِقافلہ کی اطاعت کرتا ہے وہ کامیاب ہوجاتا ہے اور اپنی منزل پالیتا ہے،کیونکہ امیرِقافلہ ریل گاڑی کے انجن کی مانند ہوتا ہے جس طرح ٹرین کے ڈبّے انجن کے ساتھ وابستہ رہیں اسکے پیچھے پیچھے چلیں تو منزل پر پہنچ ہی جاتے ہیں اور جو ڈبہ پیچھے نہ چلے علیٰحدہ ہو کر پٹری سے اتر جائے وہ منزل تک نہیں پہنچ پاتا ۔اسی طرح ہم بھی اگر اپنے امیر کی اطاعت کرتے ہوئے سفر کریں گے تو اپنی منزل پر بخیر وعافیت پہنچنے میں کامیاب ہو جائیں گے،اور اگر اپنی مرضی کے مطابق چلنے کی کوشش کی تو بہت بڑے نقصان اور آزمائشوں میں مبتلا ہو سکتے ہیں ۔

            امیر کی اطاعت نہ کرنے والا شیطان کی چالوں میں آکر اپنے مدنی مقصد کو بھلا بیٹھتا ہے اور اپنا تمام وقت غفلت میں گزار دیتا ہے بلکہ بعض اوقات تو بدگمانی جیسی بیماری میں مبتلا  ہو جا تا ہے ۔لہٰذا  ہمیں چاہیے کہ ہم یہ ذہن بنائیں کہ ہر حال میں امیرِقافلہ کی اطاعت کریں گے۔ اِنْ شَاءَ  اللہ عَزَّ وَجَلَّ

 (۲)شیطان کے حیلوں سے دفاع کی ترکیب :

            پیارے اسلامی بھائیو!  شیطان جو ہمارا کھلا دشمن ہے ، اسے یہ کب گوارا  ہے کہ خوش نصیب عاشقانِ رسول راہِ خدا میں سفر کرنے والی عظیم سنّت اداکریں اور اس عظیم مقصد کہ

             ’’ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کو شش کرنی ہے  ‘‘  کو پوراکرنے کی کوشش کریں ، اس لئے پہلے تو شیطان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ مدنی قافلوں میں سفر کرنے ہی نہ دے پھر اگر کوئی  اللہ عَزَّوَجَلَّکے فضل سے سفر  کرنے میں کامیاب ہوجائے توشیطان اپنے لشکر کے ساتھ اس پرحملے کرتا رہتا ہے اور مدنی قافلے کی واپسی تک مسلسل مختلف چالوں ، حیلوں اور سازشوں کے ذریعے مدنی قافلے کو برباد کرنے ، مدنی قافلے کو توڑنے کی کوشش کرتارہتا ہے مثلاً سواری خراب ہوگئی یالیٹ ہو گئی تو شیطان فوراًبے صبری کرو ا کر شوروغل کرواکر یا سواری یا ڈرائیور کو برا کہلوا کر بہکانے کی کوشش کرے گا۔ یونہی سفر کی تھکاوٹ اور بعض اوقات نیند کی کمی کی وجہ سے طبیعت میں چڑچڑاپن ، بد اخلاقی کروانے کی شیطان پوری کوشش کرے گا۔

            بعض اوقات کھانا ملنے میں دیر ہوگئی یا کسی اسلامی بھائی نے کھانا اچھا نہیں پکایا ، یا کھا نے میں نمک مرچ کی کمی بیشی ہوگئی، اب بھی شیطان غصہ دلانے کی کوشش کرے گا ۔پھر کسی اسلامی بھائی کو  ’’ جدول  ‘‘  کے اُصولوں کی خلاف ورزی کرواکے اور دوسروں کے خلاف بھڑکا کر ، لڑوانے یا ناراضگی پیدا کرنے کی کوشش کرے گا اس طرح مدنی قافلے میں ناراضگی یا بد اخلاقی کی فضاء قائم ہو سکتی ہے۔

 



Total Pages: 194

Go To