Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

جیبی سائز رسالے میں دیئے گئے خانے پُر کرتے ہیں ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

          آپ  دامَتْ بَرکاتُھُمُ العالیَۃ  مزید ارشادفرماتے ہیں :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  ہوسکتا ہے آپ میں سے کسی کو میرے مدنی انعامات مشکِل معلوم ہوں مگرہمّت نہ ہاریں ۔کشف الخفاء میں ہے: اَفْضَلُ الْعِبَادَۃِ اَحْمَزُھایعنی افضل ترین عبادت وہ ہے جس میں زَحْمت زیادہ ہو۔ (کشف الخفاء باب افضل العبادات،الحدیث۳۵۹،ج۱،ص۱۴۱)

حضرت سیّدُنا ابراہیم بن اَدھَم علیہ رَحمَۃُ اللّٰہ الاکرم  فرماتے ہیں : ’’ دنیا میں جو عمل جتنا دشوار ہوگا۔ بروز قیامت میزان عمل میں وہ اُتنا ہی زیادہ وَزْن دار ہوگا۔ ‘‘  (تذکرۃ الاولیاء، ج۱،ص۹۵ ) 

            جب آپ عمل شروع کردیں گے تو وہ آپ کیلئے   اِنْ شَاءَ  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ      آسان ہوجائے گا۔ غالباً آپ کو تجربہ ہوگا کہ سخت سردی کے وَقْت وُضُو کیلئے بیٹھتے ہیں تو شروع میں سردی سے دانت بجتے ہیں پھر جب ہمت کرکے وضو شروع کردیتے ہیں توابتِدائً       ٹھنڈک زیادہ محسوس ہوتی ہے اور پھر بَتَد رِیج کم ہوجاتی ہے۔ ہر مشکِل کام کایِہی اُصول ہے ۔مَثَلا کسی کوکوئی مہلک بیماری لگ جائے تو وہ بے چین ہوجاتا ہے پھر رَفتہ رَفتہ جب عادی ہوجاتا ہے تو قوت برداشت بھی پیدا ہوجاتی ہے ایک اسلامی بھائی عِرقُ النّساء کے مرض میں مبتلا ہوگئے یہ مرض عموما پاؤ ں کے ٹخنے سے لیکر ران کے اوپر کے جوڑ تک ہوتا ہے اور مہینوں اوربعضوں کو برسوں تک نہیں چھوڑتا ۔ وہ تشویش میں پڑگئے تھے۔ میں نے عرض کیا: اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ بہتر کریگا۔ گھبرائیں نہیں جب آپ عادی ہوجائیں گے تو اِنْ شَاءَ  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ      برداشت کرنا آسان ہوجائے گا۔کچھ عرصے کے بعد ملے تو میرے اِسْتِفْسار پر بتایا کہ درد تو وُہی ہے مگر آپ کے کہنے کے مطابِق میں عادی ہوچکا ہوں اس لئے کام چل جاتا ہے۔

          اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ مدنی انعامات تو ہمیں  اللہ  عَزَّوَجَلَّکا فرمانبرداربنانے اور ہماری دنیا وآخِرت کی بہتری کیلئے ہیں ۔ یقینا شیطان آپ کو  اللہ  عَزَّوَجَلَّسے دوستی کرنے میں  رُکاوٹ پر رُکاوٹ کھڑی کریگا۔آپ ہمّت نہ ہاریئے گا۔ شیطان ونَفْس کو چاہے کتنا ہی ناگوار گزرے آپ کو ان ’’  مدنی انعامات  ‘‘ پر عمل کرنا ہی چاہیے۔

            اگر آپ سب  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رِضا کی خاطر بَصَمِیمِ قلب ان  مدنی انعامات کے رسائل کو قبول فرماکر اس پر عمل کرنا شروع کردیا تو آپ جیتے جی بہت جلداِنْ شَاءَ  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس کی بَرَکتیں دیکھ لیں گے۔ آپ کواِنْ شَاءَ  اللہ عَزَّ وَجَلَّ سُکونِ قلب نصیب ہوگا،باطنِ کی صفائی ہوگی۔ خوفِ خدا  وعشق مصطفٰے کے سونتے (یعنی چشمے )آپ کے قلب سے پھوٹیں گے۔

            اِنْ شَاءَ  اللہ  عَزَّ وجَلَّ  اس کی برکت سے آپ کے عَلاقے میں بھی دعوتِ اسلامی کا مدنی کام حیرت انگیز حد تک بڑھ جائے گا۔ چُونکہ مدنی انعامات پر عمل  اللہ   عَزَّوَجَلَّکی رِضا کے حُصول کا ذریعہ ہے۔ لہٰذا شیطان آپ کو بہت سُستی دلائے گا۔ طرح طرح کے حیلے بہانے سمجھائے گا۔ آپ کا دل نہیں لگ پائے گا۔ مگر آپ ہمت مت ہاریئے گا۔اِنْ شَاءَ  اللہ    عَزَّ وَجَلَّ  دل بھی لگ ہی جائیگا۔

اے رضا ہر کام کا اِک وقت ہے

دل کو بھی آرام ہو ہی جائے گا

شیطان سے دھوکا نہ کھانا

             ’’ کیمیائے سعادت  ‘‘  میں حُجَّۃ الاسلام امام محمدغَزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الوَالی فرماتے ہیں : ’’ حضـرت سیدنا ابو عثمان مغربی علیہ رَحمَۃُ اللّٰہ القوی سے ان کے مرید نے عرض کیا، کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ دل کی رغبت کے بغیر بھی میری زبان سے ذِکْرُاللّٰہجاری رہتا ہے ۔ اُنہوں نے فرمایا :  ’’ یہ بھی تو مقام شکر ہے کہ تمھارے ایک عضو (یعنی زَبان )کو  اللہ عَزَّوَجَلَّنے اپنے ذِکر کی توفیق بخشی ہے۔ ‘‘  جس کا دل ذِکْرُاللّٰہمیں نہیں لگتا اس کو بعض اوقات شَیطان وسوسہ ڈالتا ہے کہ جب تیرا دل ذِکْرُاللّٰہمیں نہیں لگتا تو خاموش ہوجاکہ ایسا ذِکْر کرنابے ادبی ہے۔

             امام غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الوَالی فرماتے ہیں : ’’  اِس وَسوَسے کا جواب دینے والے تین قسم کے لوگ ہیں ۔ ایک قسم ان لوگوں کی ہے جوایسے موقع پر شیطان سے کہتے ہیں ، خوب توجہ دلائی اب میں تجھے زِچ کرنے کیلئے دل کو بھی حاضر کرتا ہوں اسطرح شیطان کے زخموں پر نمک پاشی ہوجاتی ہے۔ دوسرے وہ احمق ہیں جو شیطان سے کہتے ہیں ، تونے ٹھیک کہا جب دل ہی حاضر نہیں تو زبان ہلائے جانے سے کیا فائدہ! اور و ہ  ذِکْرُاللّٰہسے خاموش ہوجاتے ہیں ۔ یہ نادان سمجھتے ہیں کہ ہم نے عقلمندی کا کام کیا حالانکہ انہوں نے شیطان کو اپناہمدرد سمجھ کر دھوکا کھا لیا ہے۔ تیسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو کہتے ہیں اگر چہ ہم دل کو حاضـر نہیں کرسکے مگر پھر بھی زَبان کو ذِکراللّٰہ میں مصروف رکھنا خاموش رہنے سے بہتر ہے۔ اگر چہ  دل لگا کرذِکْرُاللّٰہ  کرنااس طرح کے  ذِکْرُاللّٰہ    سے کہیں بہتر ہے ۔(کیمیائے سعادت،ج۲ ، ص۷۷۱ )

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے !  دل نہ لگے تب بھی عمل کوجاری  رکھنا ہی ہمارے لئے بہتر ہے ۔ بَہَر حال نیک بننے کے مدنی نسخوں پر عمل کرتے جایئے ۔ کبھی نہ کبھی تو اِنْ شَاءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  منزل پاہی لیں گے۔

                اَلْحَمْدُ  للّٰہعَزَّوَجَلّ  !     اللہ  عَزَّوَجَلَّکے فضل و احسان سے ہمیں راہِ خدامیں سفر کی سعادت حاصل ہورہی ہے۔ راہِ خدا میں سفر کے تو کیا کہنے !  ان مدنی قافلوں میں بآسانی مدنی انعامات پر عمل کرنے کے بھی سعادت حاصل ہوتی ہے۔

           یاد رکھیے!  ہمیں نیک بننے پر استقامت پانے کیلئے مدنی قافلوں میں سفر کو اپنامعمول بنانا ہوگا۔  اللہ عَزَّوَجَلَّکا کروڑ ہا کروڑ احسان ہے کہ اس نے ہمیں اپنی راہ میں سفر کرنے والے عاشقانِ رسول کے ساتھ سنتوں کی تربیت کی خاطر مدنی قافلے میں سفر کے لئے یہاں جمع ہونے کی سعادت عطافرمائی ہے ۔

            اَلْحَمْدُ  للّٰہعَزَّوَجَلَّ  !   مدنی قافلے میں سفر بے شمار نیکیاں حاصل کرنےاور ان پر استقامت پانے کا بہترین ذریعہ ہے بلکہ راہِ خدا میں سفر کرنے والے عاشقانِ رسول کی عظمت کے تو کیا کہنے کہ جہاں خوش نصیب عاشقانِ رسول پر راہِ خدا میں سفر کی برکت سے قدم قدم پراللّٰہ  تعالٰی کی رحمتوں کی چھماچھم برسات ہورہی ہے وہیں انبیاء  کرام عَلَیْہِمُ السَّلام کی سنّت ،  صحابہ کرام عَلَیْھِمُ الرِّضْوَان کی سنّت،اور بزرگانِ دین رَحِمَھُمُ اللّٰہُ تعالٰیکے مقدس طریقے پر چلنے کی بھی سعادت حاصل ہو رہی ہے ۔

          اَلْحَمْدُ للّٰہ عزَّوَجَلَّ  !   راہِ خدا میں سفر کرکے علمِ دین حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے ۔علمِ دین حاصل کرنے کے بہت سے فضائل ہیں :

 



Total Pages: 194

Go To