Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

اپنے توشے اور کھانے کی چیزیں ایک ساتھ مل کر کھائیں اس میں بھی حَرَج نہیں ۔ اگر چِہ کوئی کم کھائے گا کوئی زیادہ یا بعض کی چیزیں اچّھی ہیں اور بعض کی وَیسی نہیں ۔ ‘‘  (فتاوی ھندیۃ ، ج۵،ص۳۴۱۔۳۴۲ )

مدنی قافِلہ اور مہمانوں کی خیر خواہی

سُوال :دعوتِ اسلامی کے سُنتوں کی تربیّت کے مدنی قافِلوں میں سفر کے دَوران اکثر بعض مقامی اسلامی بھائیوں یا راہ گیروں وغیرہ کو بھی کھانے میں شامِل کر لیاجاتا ہے اِس کی کیا صورت ہونی چاہئے؟

جواب : امیرِ قافِلہ پہلے دن ابتِداء میں ہی ایک ایک سے اِس کی بھی اجازت لے لے۔اگر ایک فردنے بھی اجازت نہ دی تو اُس کا حساب الگ رکھنا ضَروری ہوجائیگا۔

اِختِتامِ قافِلہ پر بچی ہوئی رقم کا مَصرَف کیا؟

سُوال :  مدنی قافِلے کے اِختِتا م پر اگر مُشترِکہ رقم بچ جائے تو اس کے کیا مَصارِف ہیں ؟

جواب :امیرِ قافلہ روز کاروز حساب لکھ لیا کرے صرف اپنی یاداشت پر اعتماد کرنے  میں غلطیوں کا کافی امکان ہے۔واجِب ہے کہ پائی پائی کا حساب کر کے ہر ایک کو اُس کے حصّے کی رقم لوٹا دی جائے۔ ہاں جو مرضی سے اپنے حصّے کی رقم کسی کارِ خیر میں دینا چاہے تو دے سکتا ہے ۔ باہَم مشورہ سے مَثَلاً یہ بھی طے کیا جا سکتا ہے کہ ہم بچی ہوئی رقم اِسی مسجِد کے چندے میں پیش کر دیتے ہیں ۔

دوسرے کے خرچ پر سفر کیا، رقم بچ گئی ،  کیاکرے؟

سُوال : اگر کسی نے دوسرے اسلامی بھائی کی رقم سے  مدنی قافِلے میں سفر کیااُس میں سے کچھ رقم بچ گئی تو کیا اپنی مرضی سے اس کو کسی کارِ خیر میں خرچ کر سکتا ہے؟

جواب : نہیں کر سکتا ۔ وہ تواُس رقم میں سے دوسروں کو کِھلا بھی نہیں سکتا ۔ نہ مدنی قافِلے کے لَوازِمات سے ہٹ کر اِس میں سے کچھ خرچ کرسکتا ہے۔ جو کچھ رقم بچ گئی وہ دینے والے کو لوٹانی ہو گی ورنہ گُنَہگار ہوگا۔ اِس کی صورت یِہی ہے کہ اَخراجات دینے والے سے صاف صاف لفظوں میں ہر طرح کی اجازت لے لی جائے۔ مَثَلاً اُس سے عرض کی جائے کہ آپ کی رقم میں سے ہو سکتا ہے کہ دیگر اسلامی بھائیوں کو بھی کھانا کھلایا جائے، اِس میں سے نئے اسلامی بھائیوں کو تحفے بھی دیئے جا سکتے ہیں بچ جانے کی صورت میں دعوتِ اسلامی کے چندے میں بھی شامل کر سکتے ہیں ۔ لہٰذا برائے کرم!  ہر نیک اور جائز کام میں خرچ کرنے کی کُلّی اجازت عنایت فرما دیجئے۔ مدنی قافِلے میں راہِ خدا میں پلّے سے خرچ کرنے والے کیلئے ثواب بھی زیادہ اور مسائل بھی کم۔خرچ میں میانہ روی سے کام لیجئے اور دونوں جہاں کی برکتیں لوٹئے۔

آدھی زندگی ،  آدھی عقل اور آدھا علم!

            حضرتِ  سیِّدُناعبداللّٰہ ابنِ عمر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَاروایت کرتے ہیں کہ  تاجدارِ رِسالت ، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت ،  پیکرِ جُودو سخاوت، سراپا رَحمت، محبوبِ  رَبُّ الْعِزَّت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکافرمانِ عالیشان ہے:(1)خرچ کرنے میں میا نہ روی آدھی زندَگی ہے اور(2)لوگوں سے مَحَبَّتکرنا آدھی عقل ہے اور (3)اچّھا سُوال آدھا علم ہے۔ (شُعَبُ الْاِیْمَانج۵ ص۲۵۴ ۔۲۵۵ حدیث ۶۵۶۸)

            اس حدیث مبارَک کے تینوں حصوں کی جدا جدا شرح کرتے ہوئے مُفَسّرِ شہیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان      علیہ رحمۃُ الحنّان فرماتے ہیں :سُبْحٰنَ  اللّٰہ عَزَّوَجَلّ عجیب فرمانِ عالی ہے !  (1) خوش حالی کا دارو مدار دوچیزوں پر ہے : کمانا، خرچ کرنا مگر ان دونوں میں خرچ کرنا بَہُت ہی کمال ہے، کمانا سب جانتے ہیں ،  خرچ کرنا کوئی کوئی جانتا ہے۔ جسے خرچ کرنے کا سلیقہ آگیا وہ اِنْ شَاءَ  اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیشہ خوش رہے گا۔(2)عَقل کے سارے کام ایک طرف ہیں اور لوگوں سیمَحَبَّت کر کے انھیں اپنا بنا لینا ایک طرف، لوگوں کی مَحَبَّت سے دینی دُنیاوی ہزاروں کام نکلتے ہیں ،  لوگوں کے دلوں میں اپنی مَحَبَّتپیدا کر لو پھر (نیکی کی دعوت دیکر) انھیں نَمازی ، حاجی ، غازی (جوچاہو) بنا دو۔ مگر خیال رہے کہ لوگوں کی  مَحَبَّتحاصِل کرنے کے لیے   اللہ  و رسول(عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کو ناراض نہ کر لو بلکہ لوگوں سے مَحَبَّت  اللہ  و رسول (عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  )کی رِضا کے لیے ہونی چاہئے۔(3) علم و تعلیم میں دو چیزیں ہوتی ہیں ،  شاگرد کاسُوال اُستاد کا جواب، ان دونوں سے مل کر علم کی تکمیل ہو تی ہے ۔ اگر شاگردسُوال اچّھے کرے گا جواب بھی اچّھے پائے گا۔  ( مِراٰۃالمناجیح ، ج۶، ص۶۳۴۔۶۳۵)

غریبوں کیلئے رقم ملی ،  مالداروں پر خرچ کر دی، اب کیا کرے؟

سُوال: اگر کسی نے یہ کہہ کر دعوتِ اسلا می کے کسی علاقے کیقافِلہ ذمّہ دار کو کچھ رقم دی کہ غریب اسلامی بھائیوں کو مدنی قافِلے میں سفر کروادینا۔ اب ذمّے دار نے غنی( یعنی مالدار ) نئے اسلامی بھائیوں کو اِس جذبے کے تحت اُس رقم سے سنتوں کی تربیّت کے مدنی قافِلے میں سفر کروا دیا تا کہ وہ مدنی ماحول سے قریب ہو جائیں ۔ ایسی صورت میں کیا حکمِ شَرعی ہے؟

جواب: ایسا کرنے والا  ’’  ذمّے دار  ‘‘  درحقیقت ’’  غیر ذمّے دار ‘‘ ہے، اورایسی غلطی کے سبب گُنہگار ہے، اُسے تاوان بھی دینا ہوگا اور توبہ بھی واجب۔ہاں اگر وہ رقم دینے والا چاہے تو مُعاف کر سکتا ہے اگر وہ معاف نہ کرے تو جتنی رقم غلط استعمال کی اتنی اُس دینے والے ذِمّے دارکو پلّے سے دینی ہو گی یا پلّے سے دی جانے والی رقم نئے سِرے سے خرچ کرنے کی اجازت لینی ہو گی۔ جب بھی کوئی ایسے موقع پر غریبوں کی قید لگا کر چندہ پیش کرے تو چندہ قبول کرنے سے پیشتر اُس کو واضِح طور پران لفظوں میں کہہ دینا مُفید ہے کہ  ’’  آپ  ’’ غریبوں  ‘‘  کی قید ہٹا کر ہر نیک  اور جائز کام میں خرچ کرنے کے کُلّی اختیارات دے دیجئے کہ اِس رقم سے غریب سفر کرے یا مالدار ،  اِس سے کسی کو پورے اَخراجات دیں گے تو کسی کی حسبِ ضَرورت کمی پوری کریں گے، نیز اِس سے مسجِد میں آئے ہوئے مہمانوں کی خیرخواہی بھی کی جائے گی وغیرہ۔ ‘‘ (یہاں بھی یہ بات ذہن میں رکھئے کہ چندہ پیش کرنے والا اگر خود اُس رقم کا مالک ہے تب تو اُس کا مذکورہ الفاظ سُن کر ہاں کہنا کار آمد ہو گا اور اگر مالک نہیں مَثَلاً رقم بھجوانے والے کا بیٹا ،  بھائی یا ملازم وغیرہ ہے تو اس چندہ لانے والے  ’’ وکیل ‘‘  کا ہاں کہنا فضول ہوگا۔ لہٰذا اصل مالک سے کلی اختیارات لینے ہوں گے ۔ ہاں اگرپہلے ہی سے مالِک نے یہ ساری اجازتیں دیکر وکیل کو بھیجا ہے تو اب وکیل کااجازت دینا مان لیا جائیگا)

 



Total Pages: 194

Go To