Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

میں بیٹھنے پر یہ آفَتیں ہیں تو(مسجِد میں ) حرام و ناجائز کام کرنے کا کیا حال ہو گا! (فتاوی رضویہ،ج۱۶،ص۳۱۲والحدیقۃ الندیۃ،نوع۴۰،کلام الدنیا فی المساجدبلاعذر،ج۲،ص۳۱۸)

        درزی کواجازت نہیں کہ مسجِد میں بیٹھ کر کپڑے سئیے۔ہاں اگر بچّوں کو روکنے اورمسجِدکی حفاظت کیلئے بیٹھا توحرج نہیں ۔اسی طرح کاتِب کو( مسجِد میں ) اُجرت پرکِتابت کرنے کی اجازت نہیں ۔ (فتاوٰی ھندیہ ج۱ص۱۱۰)

          مسجِدکے اندر کسی قسم کاکُوڑاہرگزنہ پھینکیں ۔سیِّدُناشیخ عبدُالحق مُحَدِّث دِہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  ’’   جذبُ الْقُلوب ‘‘ میں نَقل کرتے ہیں کہ مسجِدمیں اگر خَس(یعنی تنکا ) بھی پھینکاجائے تواس سے مسجِدکو اس قَدَرتکلیف پہنچتی ہے جس قَدَر تکلیف انسان کواپنی آنکھ میں خَس (یعنی معمولی ذَرّہ) پڑجانے سے ہوتی ہے۔(جذبُ الْقُلُوب ص۲۵۷)

        مسجِدکی دیوار،اِس کے فَرش،چَٹائی یادَری کے اوپریااس کے نیچے تھوکنا،ناک سِنکنا،ناک یاکان میں سے مَیل نکال کرلگانا،مسجِدکی دری یا چٹائیسے دھاگہ یا تِنکا وغیرہ نَوچناسب ممنوع ہے۔ضَرورتاًاپنے رومال وغیرہ سے ناک پُونچھنے میں کوئی مضایقہ نہیں ۔مسجِدکا کوڑاجھاڑکرایسی جگہ مت ڈالئے جہاں بے اَدَبی ہو۔ جُوتے اُتارکرمسجِدمیں ساتھ لے جاناچاہیں توگَردوغیرہ باہَر جھاڑ لیں ۔ اگر پاؤ ں کے تَلووں میں گَرد کے ذَرّات لگے ہوں تو اپنے رومال وغیرہ سے پُونچھ کرمسجِدمیں  داخِل ہوں ۔مسجِدکے وُضو خانے پر وُضو کرنے کے بعد پاؤ ں وُضوخانے ہی پر اچّھی طرح خشک کر لیجئے۔گیلے پاؤ ں لیکرچلنے سے مسجد کا فرش گندا اورد ر یا ں مَیلی اور بدنُما ہوجاتی ہیں ۔

           میرے آقااعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت،مجدِّدِ دین وملّت مولاناشاہ احمدرضا خان  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحمٰن کے ملفوظات شریف سے   بعض آدابِ مسجِد پیش کئے جارہے ہیں :

          مسجِد میں دوڑنایازورسے قدم رکھنا،جس سے دَھمک پیداہومنع ہے۔ وُضُوکرنے کے بعد اَعضائے وُضُوسے ایک بھی چِھینٹ پانی فرشِ مسجد پر نہ گرے ۔ (یادرکھئے!  اعضائے وُضُوسے وُضُوکے پانی کے قطرے فرشِ مسجِدپرگِرانا،ناجائزہے)

          مسجِدکے ایک دَرَجے سے دوسرے دَرَجے کے داخِلے کے وَقت(مَثَلًا صحن میں داخل ہوں تب بھی اورصِحن سے اندرونی حصّے میں جائیں جب بھی)سیدھا قدم بڑھایا جائے حَتّٰی کہ اگر صَف بچھی ہو اس پربھی سیدھاقدم رکھیں اور جب وہاں سے ہٹیں تب بھی سیدھا قدم فرشِ مسجد پر رکھیں (یعنی آتے جاتے ہر بچھی ہوئی صَف پر پہلے سیدھا قدم رکھیں ) یا خَطِیب جب مِنبرپر جانے کاارداہ کرے۔ پہلے سیدھاقدم رکھے اور جب اُترے تو(بھی) سیدھاقدم اُتارے۔

          مسجِدمیں اگرچِھینک آئے توکوشِش کریں آہِستہ آوازنکلے اسی طرح کھانسی ۔ سرکارِمدینہصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  مسجِدمیں زورکی چھینک کو نا پسند فرماتے۔ اِسی طرح ڈَکارکوضَبط کرنا چاہیے اورنہ ہو توحَتَّی ا لْاِمکان  آواز دبائی جائے اگرچِہ غیر مسجِدمیں ہو۔ خُصُوصاً مجلس میں یاکسی معظَّم ( یعنی بزر گ ) کے سامنے بے تَہْذِیبی ہے۔ حدیث میں ہے :  ’’ ایک شخص نے دربارِ اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمیں ڈَکار لی، آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ ہم سے اپنی ڈکار دُور رکھ کہ قیامت کے روز سب سے زیادہ بھوکا وہ ہوگا جو دنیا میں زیادہ پیٹ بھرتا ہے۔ ‘‘   (شَرحُ السُّنّۃ ج۷ ص۲۹۴ حدیث۲۹۴۴)اورجَماہی میں آواز کہیں بھی نہیں نکالنی چاہیے،اگرچِہ مسجِدسے باہَر تنہا ہو کیونکہ یہ شیَطان کا قَہقَہہ ہے۔ جَماہی جب آئے حَتَّی الاِمْکان منہ بند رکھیں منہ کھولنے سے شیطان منہ میں تھوک دیتا ہے۔ اگر یوں نہ رُکے تو اُوپرکے دانتوں سے نیچے کاہونٹ دبالیں ، اگر اس طرح بھی نہ رُکے توحَتَّی الاِمْکان منہ کم کھولیں اور اُلٹا ہاتھ اُلٹی طرف سے منہ پر رکھ لیں ۔ چُونکہ جَماہی شیطان کی طرف سے ہے اورانبِیاءکرام  عَلَیْھِمُ الصَّلاۃُ وَالسَّلام اس سے محفوظ ہیں ۔ لہٰذ ا جماہی آئے تویہ تصوُّرکریں کہ انبیاء  کرام عَلَیْھِمُ الصَّلاۃُ وَالسَّلامکو جماہی نہیں آتی ۔ ‘‘        اِنْ شَاءَ  اللہ    عَزَّ وَجَلَّ فو راً رُک جائیگی۔ (رَدُّالْمُحتار ج۲ ص ۴۱۳)

            تَمَسْخُر(مَسخرہ پن) ویسے ہی ممنوع ہے اور مسجِدمیں سخت ناجائز۔

           مسجِدمیں ہنسنا مَنع ہے کہ قبرمیں تاریکی(یعنی اندھیرا)لاتاہے۔موقع کے لحاظ سے تَبَسُّم میں حَرَج نہیں ۔

          مسجِدکے فرش پرکوئی چیزپھینکی نہ جائے بلکہ آہِستہ سے رکھ دی جائے۔ موسِمِ گرما میں لوگ پنکھاجَھلتے جَھلتے پھینک دیتے ہیں (مسجِدمیں ٹوپی ،  چادر وغیرہ بھی نہ پھینکیں اسی طرح چادریا رومال سے فرش اس طرح نہ جھاڑیں کہ آواز پیداہو) یا لکڑی، چَھتری وغیرہ رکھتے وقت دُورسے چھوڑ دیا کرتے ہیں ۔ اِس کی مُمَانَعَت ہے۔ غَرَض مسجد کااِحتِرام ہرمسلمان پر فرض ہے۔

          مسجِدمیں حَدَث( یعنی رِیح خارِج کرنا)مَنْع ہے ضَرورت ہو تو(جو اعتِکاف میں نہیں ہیں وہ ) باہَرچلے جائیں۔لہٰذامُعْتَکِف کوچاہیے کہ ایّامِ اعتکاف میں تھوڑا کھائے، پیٹ ہلکارکھے کہ قَضائے حاجت کے وَقت کے سوا کسی وَقت اِخراجِ رِیح کی حاجت نہ ہو۔وہ اس کے لئے باہَر نہ جاسکے گا (البتّہ اِحاطۂ مسجِد میں موجود بیتُ الْخَلاء میں رِیح خارِج کرنے کیلئے جاسکتا ہے)۔

            قِبلہ کی طرف پاؤ ں پھیلاناتوہرجگہ َمنع ہے۔مسجِدمیں کسی طرف نہ پھیلائے کہ یہ خِلافِ آدابِ دربار ہے۔حضرت سِری سقطی  رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ مسجِد میں تَنہا بیٹھے تھے،پاؤ ں پھیلالیا،گوشۂ مسجِدسے ہاتِف نے آواز دی:کیا بادشاہوں کے حُضُورمیں یوں ہی بیٹھتے ہیں ؟   ‘‘  مَعاً (یعنی فوراً )پاؤ ں سمیٹے اورایسے سَمیٹے کہ وَقتِ انتقِال ہی پھیلے۔(چھوٹے بچوں کوبھی پیار کرتے،اُٹھاتے ، لِٹاتے وقت احتیاط کریں کہ ان کے پاؤ ں قِبلہ کی طرف نہ ہوں اور مُتاتے(پوٹی کرواتے)وقت بھی ضروری ہے کہ اُس کا رُخ قبلہ کی طرف نہ ہو)

          استِعمال شُدہ    جُوتا مسجِد میں پہن کرجانا گستاخی وبے ادبی ہے۔ (مُلَخَصًا ازالملفوظ معروف بہ  ’’ ملفوظاتِ اعلٰی حضرت ‘‘ حصہ دُوُم ص۳۱۷ تا۳۲۴)

مدنی قافلے سے متعلق چندضروری سوال جواب

(امیرِاہلسنت ، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری

دامت برکاتہم العالیہ کی کتاب چندے کے بارے میں سوال جواب کا ایک حصہ)

حلال و حرام کے مسائل کا سیکھنا فرض ہے

 رَحمتِ عالم ،  نُورِمُجَسَّم، شَہَنْشاہِ بنی آدمصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا  فرمانِ معظَّم ہے:  ’’ جو کوئی  اللہ  عَزَّوَجَلَّکے فَرائِض کے مُتَعَلِّق ایک یا دو یا تین یا چاریا پانچ کلمات سیکھے اور اسے اچّھی طرح یاد کر لے اور پھر لوگوں کو سکھائے تو وہ      جنت میں داخِل ہو گا۔‘ (اَلتَّرغِیب وَالتَّرہِیب،ج۱،ص۵۴،حدیث:(۱۲۰) ۔۲۰)

 



Total Pages: 194

Go To