Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

(۵۳)سیکھنے سکھانے کے حلقوں کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے اور سب اسلامی بھائی تمام حلقوں میں شریک ہوں ۔

(۵۴)وہاں سے ہاتھوں ہاتھ اسلامی بھائیوں کو سفر پر روانہ کرنے کے لئے مقامی اسلامی بھائیوں کا ذہن بنائے اور سب کو ہاتھوں ہاتھ سفر کی دعوت دیں ۔

(۵۵)جو ایک مرتبہ سفر کرے اُس کی ایسی تربیت ہوکہ وہ علاقے میں مدنی کاموں میں شرکت اورہر ماہ ۳ دن کے مدنی قافلے میں سفر کرنے والابن جائے ۔

(۵۶) بیانات ہمیشہ مثبت اوراصلاحی موضوعات پرہوں ۔

(۵۷) جہاں گئے ہیں وہاں کے معمولات اورتنظیمی کاموں میں مداخلت نہ کریں ۔

(۵۸)آخری دن ممکن ہوتو حصولِ برکت کے لئے کسی مزار پر حاضری دیں ۔

(۵۹)آخری رات دعا کرائی جائے۔

(۶۰)مدنی قافلہ فارم مدنی قافلے میں ہی پُر کریں ۔

(۶۱)آخری دن مسجدانتظامیہ اوراہل محلہ سے معافی تلافی بھی کریں ۔

(۶۲)باہم مشورے سے مسجدکے اخراجات اوربجلی بل وغیرہ کی مدمیں مسجد انتظامیہ کو کم ازکم 92روپے چندہ پیش کریں ۔

(۶۳)آخری دن سب مل کرمسجدکی صفائی بھی کریں ۔

(۶۴)تین دن کے مدنی قافلے میں تیسرے دن بعدِ مغرب بیان اوربعدِ عشاء درس ہوناچاہئے۔

واپسی کے مدنی پھول:

(۶۵)بوقت رخصت امیرِاہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُھُمُ الْعَالِیَۃ کاکلام ’’  آہ !  مدنی قافلہ اب جارہا ہے لوٹ کر ‘‘ مل کرپڑھاجائے جو اس کتاب کے صفحہ670پر درج ہے۔

(۶۶)واپسی کا سفربھی آداب کے مطابق کیاجائے۔

(۶۷)واپسی پر تمام شرکا امیرِ قافلہ کے ہمراہ اپنے مدنی مرکز میں (جہاں سے مدنی قافلہ روانہ ہوا تھا) حاضر ہوں اور کارکردگی پیش کریں ۔

(۶۸)ا  میرِ قافلہ روز کاروز حساب لکھ لیا کرے صرف اپنی یاداشت پر اعتماد کرنے میں غلطیوں کا کافی امکان ہے۔واجِب ہے کہ پائی پائی کا حساب کر کے ہر ایک کو اُس کے حصّے کی رقم لوٹا دی جائے۔

(۶۹)امیرقافلہ اورشرکا ایک دوسرے سے معافی تلافی کریں ۔

(۷۰)مدنی قافلے میں جوسیکھااسے اپنے علاقے میں اسلامی بھائیوں کوبھی سکھائیں ۔

(۷۱)اپنے علاقے میں مدنی کاموں کی دھومیں مچادیں ۔

احترام مسجد کے مدنی پھول

            (امیرِاہلسنّت،بانی ٔدعوتِ اسلامی، حضرت علامہ ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رضوی  دَامَتْ بَرَکَاتُھُمُ الْعَالِیَۃ  کی کتاب فیضانِ سنّت سے ماخوذ)

          پیارے اسلامی بھائیو! چُونکہ مدنی قافلے والوں کو اکثروقت مسجِدہی میں گزار ناہوتاہے اِس لئے مناسِب یِہی ہے کہ چند باتیں اِحتِرامِ مسجِدسے مُتَعَلِّق سیکھ لیجئے۔ شرکائے مدنی قافلہ کو چاہیے کہ جب مسجدمیں داخل ہوں توفوراً اعتکاف کی نیت فرمالیاکریں ۔دَورانِ اعتِکاف مسجِد کے اندر ضَرورۃًدُنیَوِی بات کرنے کی اجازت ہے لیکن دِھیمی آوازکے ساتھ اوراحترامِ مسجِدکو مَلحُوظ رکھتے ہوئے بات کیجئے۔یہ نہیں ہوناچاہئے کہ آپ چِلّا کر کسی اسلامی بھائی کوبُلارہے ہوں اور وہ بھی آپ کوچِلّاکرجواب دے رہا ہو،  ’’ ابے تبے ‘‘ اورغُل غَپَاڑے سے مسجِد گونج رہی ہو۔ یہ انداز ناجائز وگناہ ہے۔ یادرکھئے!  مسجِد میں بِلاضَرو ر ت دُنیَوِی بات چیت کی مُعْتَکِف کو بھی اجاز ت نہیں ۔

            حضرت سیِّدُنا حَسَن بصری رضی اللّٰہ تعالٰی عنہسے روایت ہے کہ نبیِّ رَحمت ،  شفیعِ اُمّت،شَہَنشاہِ نُبُوَّت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا :      یَأتِیْ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ یَکُوْنُ حَدِیْثُھُمْ فِیْ مَسَاجِدِ ھِمْ فِیْ اَمْرِدُنْیَاھُمْ فَلا تُجَالِسُوْھُمْ فَلَیْسَ لِلّٰہِ فِیْھِمْ حَاجَۃٌ۔ (شُعَبُ الایمان،ج۳،ص۸۷،حدیث۲۹۶۲)

            ترجَمہ:  ’’ لوگوں پرایک زمانہ ایساآئے گا کہ مساجِدمیں دُنیاکی باتیں ہوں گی، تم ان کے ساتھ مت بیٹھوکہ ان کو اللہ عزَّوَجَلَّ سے کچھ کام نہیں ۔  ‘‘

            حضرتِ  سیِّدُناابوہُرَیرہ       رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ، صاحب مُعَطَّرپسینہ،قرارِقلْب وسینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَارشادفرماتے ہیں :

 ’’  مَنْ سَمِعَ رَجُلًا یَنْشُدُ ضَالَّۃً فِی الْمَسْجِد فَقُوْلُوْا لارَدَّھَااللّٰہُ عَلَیْکَ فاِنَّ المَسَاجِدَ لَمَْ تُبْنَ لِہَذا۔ ‘‘ (صحیحمسلم ص۲۸۴حدیث۵۶۸)

ترجَمہ:جو کسی کو مسجِد میں بآوازِ بلند گمشدہ چیز ڈھونڈتے سنیں تووہ کہیں :  ’’  اللہ  عَزَّوَجَلَّوہ گمشدہ شے تجھے نہ ملائے کیونکہ مسجِدیں اس کام کیلئے نہیں بنائی گئیں ۔  ‘‘

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جولوگ اپنے جوتے یاکوئی اور چیزگم ہوجانے پر مسجِدمیں شور کرتے ہوئے ڈھونڈتے پھرتے ہیں ان کو بیان کردہ حدیث ِ مبارک سے درس حاصل کرنا چاہئے ۔معلوم ہواکہ ہراُس کام سے مسجدکو بچانا ضَروری ہے جس سے مسجِدکاتقدُّس پامال ہوتاہو۔دُنیوی باتیں ، ہنسی مذاق اور اسی طرح کی لَغویات کیلئے مسجِدیں نہیں بنائی گئیں بلکہ مسجدیں   تو عبادتِ الٰہی، کیلئے بنائی گئی ہیں ۔ مسجِد میں بُلند آوازسے گفتگو کرنے کو صَحابۂ کرام علیہم الرضوان کتنا ناپسند کرتے ہیں  اس کااس روایت سے اندازہ لگائیے۔ چُنانچِہحضرتِ  سیِّدُناسَائِب بن یزید        رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’  میں مسجِد میں کھڑاہوا تھا کہ مجھے کسی نے کنکری ماری۔ میں نے دیکھاتووہ حضرتِ  سیِّدُنا امیرُالْمُؤمِنینعمرفاروق   رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ تھے،اُنھوں نے مجھ



Total Pages: 194

Go To