Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

(۳۲)چلتی بس یا گاڑی میں سوار ہونے اور اترنے سے گریز کریں ۔

(۳۳)جب کبھی بس میں سوار ہوں تو سلام کریں اور جہاں جگہ مل جائے تشریف رکھیں ،  دیگر مسافروں سے ملاقات کریں ، حال احوال پوچھیں ۔

            روایت میں آتاہے کہ ’’  جب دو اسلامی بھائی آپس میں بھائی چارہ قائم کریں تو دونوں کو چاہئے کہ پہلے اپنے نام، ولدیت ، خاندان اور قبیلوں کے نام بتلائیں تاکہ دوستی زیادہ مستحکم ہو۔ ‘‘  (سنن الترمذی ،  کتاب الزھد، باب ماجاء فی اعلام الحب،الحدیث:۲۴۰۰،ج۴،ص۱۷۶)

(۳۴)کسی موضوع پر بحث نہ کریں ،  بلکہ اگر کوئی کرے تو کہیں میں ادنیٰ سا طالب علم ہوں آپ علمائے اہلسنّت سے رجوع کریں ۔

(۳۵)اَمیرِ قافلہ، قافلے والوں کی خوب خدمت کرے اور اسے بوجھ نہیں بلکہ سعادت تصوُّر کرے ۔

            حدیث پاک میں ہے: ’’ سَیِّدُ الْقَوْمِ خَادِمُھُمْ ‘‘  یعنی  ’’  قوم کا سردارقوم کا خادم ہوتا ہے ‘‘ ۔        (شعب الایمان للبیھقی،ج۶،ص۳۳۴، الحدیث:۸۴۰۷)

ان کا سامان باری باری اٹھائے ،  سب کو یکساں محبت دے، کسی ایک کا ہوکر نہ رہ جائے۔

 (۳۶) شرکائے قافلہ لاکھ غلطیاں کریں ہرگز ہرگز غصہ نہ کرے ورنہ نقصان ہی ہوگا نرمی ،  نرمی ، نرمی اورصرف نرمی کا رویہ رکھے۔

(۳۷)جب مطلوبہ علاقہ آجائے تو امیرِ قافلہ کی اجازت سے انتہائی نظم و ضبط سے اتریں ۔ بازار سے گزرتے ہوئے اپنی نگاہیں جھکائے رکھیں ،  نگاہیں نیچی رکھنا سرکارِ دوعالمصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی سنت کریمہ بھی ہے۔ (احیاء العلوم ،  ج۲،ص۴۴۲)

اِدھر اُدھر دیکھنے کی وجہ سے بدنگاہی میں مبتلا ہوجانے کا غالب اِمکان ہے ۔ منقول ہے:  ’’ جو شخصشہوت سے کسی اَجْنَبِیَّہ کے حُسن وجمال کو دیکھے گا قیامت کے دن اسکی آنکھوں میں سیسہ پگھلا کر ڈالاجائے گا۔ ‘‘ (الھدایۃ،کتاب الکراھیۃ ،  فصل فی الوطئ۔۔۔الخ، ج۲،ص۳۶۸ )

(۳۸)آپس میں مدنی مقصد یعنی  ’’ مجھے اپنی (اصلاح کی کوشش مدنی انعامات پر عمل کر کے ) اور (مدنی قافلوں میں سفر کرکے)ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش  کرنی ہے۔ ‘‘  کے بارے میں گفتگو کریں یا ذِکرو دُرُود کرتے رہیں ۔ دو،دو کی قطار میں رفیق کے ہمراہ چلیں ،  راستہ میں جب بھی دُعا پڑھیں لَہجہ دھیما رکھیں ۔

مقامِ تربیت کے مدنی پھول:

(۳۹) مطلوبہ مسجدمیں پہنچ کر سیدھا قدم داخل کریں ،  دعا پڑھیں ،  نیتِ اعتکاف بھی فرمائیں ۔ سامان مسجد کے ایک کونے میں سمیٹ کر اوپر چادر وغیرہ ڈال کررکھیں ۔

(۴۰)امیر قافلہ مسجد انتظامیہ و امام صاحبان نیز اس حلقے کے ذیلی مشاورت کے نگران و قافلہ ذمہ دار وغیرہ سے ملاقات کرکے قافلے کی آمدکی اطلاع دے،  (مشورہ کرکے فوری تفصیلات بتاکر ذمہ دار یاں سونپی جائیں اور جدول پر عمل شروع کریں )

(۴۱)مسجد کے کسی کام میں مداخلت نہ کریں حتّٰی کہ اذان و اقامت کی بھی اجازت طلب نہ کریں ،  ازخود اجازت مل جائے تو حرج نہیں ۔

(۴۲)ایسے افعال سے بچیں جس سے لوگ آپ سے بدظن ہوں ۔

مثلاً اذان کے بعد بھی لیٹے رہنا ،  ہلڑ بازی کرنا، شور مچانااور ہنسی مذاق میں لگے رہنا۔

(۴۳)مسجد کی خیر خواہی کریں اور نمازیوں کو خیر خواہی کے ذریعے درس و بیان کے لئے نرمی سے روکیں ۔

(۴۴)روزانہ مقررہ وقت پر شرکائے قافلہ کو آج کا جدول بتائے اور ان کے مشورےسے اعلان ،  درس و بیان ، وقفۂ اِستراحت میں اگر ضرورت محسوس کریں توجاگ کر سامان کی حفاظت وغیرہ ،  تہجد اور فجر کے لئے جگانے ،  درس و بیان کے وقت جانے والے نمازیوں کو روکنے کی فرداً فرداً درخواست کرنے والے اور مبلغ کے قریب بٹھانے کیلئے خیر خواہ، بیان کے بعد قافلوں کے لئے نام و پتہ لکھنے ،  سودا سلف لانے پکانے کھلانے، اور برتن وغیرہ دھونے کی ذمہ داریاں مختلف اسلامی بھائیوں کے سپرد کرے۔

(۴۵)دوپہر اور شام کے کھانے کے لئے سالن ایک ہی دفعہ بنایا جائے ، بازار میں کھانے کی اشیاء خریدنے کے لئے جائیں تو جلدی واپس آئیں کیونکہ بازار کو شیطان کا گھر کہا گیا ہے۔

 (۴۶)   بعد نمازِفجر7 منٹ بیان ، اس کے بعد مدنی حلقے کی ترکیب ہو،3آیات کنزالایمان، 4صفحات فیضانِ سنت ،  شجرۂ عطاریہ اور اس کے بعداشراق و چاشت تک 10 سورتیں یامدرسۃ المدینہ بالغان لگایاجائے۔

(۴۷)مدنی قافلے میں عشاء کے بعد رسائل عطاریہ والے حلقے کی جگہ کیسٹ اجتماع کی ترکیب کی جائے ،  جس میں ایک روز بیان او ر ایک روز مدنی مذاکرہ سننے کی ترکیب بنائی جائے اور کوئی مجبوری ہوتورسائلِ عطاریہ سے 26منٹ کاحلقہ لگایا جائے۔

(۴۸)اپنے کھانے میں مقامی اسلامی بھائیوں کو بھی شامل کرلیا جائے۔ اور انفرادی کوشش کے ذریعے آنے والوں کی خیرخواہی کی ترکیب بنائی جائے مثلاً نمکو ،  فروٹ وغیرہ پیش کئے جائیں ۔ ِنْ شَا ءَ  اللہ عَزَّ وَجَلَّآپس میں بھائی چارہ قائم ہوگا۔

( اَمیرِقافِلہ پہلے دن ابتِداء میں ہی ایک ایک سے اِس کی بھی اجازت لے لے۔اگر ایک فردنے بھی اجازت نہ دی تو اُس کا حساب الگ رکھنا ضَروری ہوجائے گا)

(۴۹)امیرِقافلہ پہلے دن سے ہی اپنا ،  شرکائے قافلہ کا اور اہلِ علاقہ اسلامی بھائیوں کا ذہن بنائے کہ یہاں سے ہاتھوں ہاتھ مدنی قافلہ تیار کرنا ہے ۔

(۵۰)تمام اُمور سُنّت کے مطابق کریں اگر کوئی خیر خواہی کر ے تو کھانا مسجد میں ہی کھائیں حتَّی ا    لْاِمکان کسی کے گھر پر نہ جائیں ۔

(۵۱)تمام نمازیں صفِ اوّل میں تکبیر اولیٰ کے ساتھ ادا کریں ۔

(۵۲)وقفہ ٔ      آرام کے اختتام پراُٹھاتے وقت پاؤں دباکر اٹھائیں ۔

 



Total Pages: 194

Go To